بریکنگ نیوز

چلڈرن اسپتال اور ہمارے مسیحا

Sumaira-Rajput.jpg

تحریر : سمیرا راجپوت

صبح جاگنے پر خبر ملی بھتیجے کی طبعیت ٹھیک نہیں اسے ڈاکٹر کے پاس لے کے گئے ہیں دل میں ایک بےچینی ایک اضطراب نے پناہ لے لی ایک گھنٹہ انتظار کیا جب خبر نہ آئی تو خود کال ملا لی۔۔

سلام دعا کے بعد بھائی نے بتایا ڈاکڑ نے اسپتال لے جانے کو کہا ہے ہم اس چلڈرن اسپتال لے آئے ہیں۔۔کوئی پہاڑ تھا جو میرے سر پر ٹوٹ گیا تھا کوئی زمین تھی جو پیروں تلے سے کھینچ لی گئی تھی۔۔میرے اگلے الفاظ یہ تھے کہ نکل نہیں رہے تھے ہمت باندھ کر میں نے پوچھا وہاں کیوں لے گئے ہیں وہ اسپتال اچھا نہیں۔جواب میں یہی سننے کو ملا اسپتال آجاو۔۔
میں فورا دوسرے بھائی کو بلایا اور اسپتال پہنچی رات کے دس بج رہے تھے گیٹ پر بیٹھی کانسٹیبل نے مجھے چیک کرنا ضروری نہیں سمجھا ابھی یہی سوچ رہی تھی تو نظر سامنے فٹ پاتھ پر پڑی جس پر لوگ سو رہے تھے کسی کے پاس کمبل تھا تو کسی کے پاس صرف آسمان ہی تھا۔۔

میں نے بھائی سے بولا یہاں لانے سے پہلے آپ مجھے ایک کال کر لیتے دیکھ رہے ہیں یہاں کے حالات یہاں کیا ہوتا ہے آپکو اندازہ ہے؟؟میں میڈیا میں ہوں مجھے پتہ ہے گورنمنٹ ڈاکٹرز کا۔۔۔بھائی کے مطابق ان لوگوں کو گھر چلے جانا چاہیے کیوں یہاں فٹ پاتھ پر سو رہے ہیں میں نے بولا یہ لوگ لاہور کے شہری لگ رہے ہیں آپکو مضافات سے آتے ہیں اگر ہر روز آنے جانے کے پیسے ہوں تو پرائیوٹ اعلاج نہ کروا لیں؟؟
اسی بحث میں ہم داخلی دروازے سے اندر داخل ہو گئے اسپتال کافی بڑا ہیٹر کی بولت گرم اور جدید سہولیات سے آراستہ لگ رہا تھا یہ سب نوٹ کرتے کرتے میں میڈیکل ٹو فرسٹ فلور کے سامنے کھڑی تھی گیٹ کیپر بولا آپ اندر نہیں جا سکتے ملاقات کا وقت صرف چار سے چھ کے درمیان ہے۔۔بھائی آگے ہوا اسکے کان میں کچھ بولا اور دروازہ کھل گیا میں نے دل میں بولا پرچی۔۔۔

کمرہ نمبر پانچ جو آئی سی یو کے سامنے تھا اس میں داخل ہوتے ہی میری دل کو جیسے کسی نے دبوچ لیا ہو میرا بھتیجا میری جان بیڈ پر تین اور بیمار بچوں کے ساتھ لیٹا ہوا تھا اور میری بھابھی اسکا برنولہ والا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے میری طرف دیکھ رہیں تھی۔۔

قریب گئی تو منظر اور ہیبت ناک تھا دائیں ہاتھ میں برنولہ تھا لیکن بائیں ہاتھ میں خون کے نشان تھے میرے بیٹے کی قمیض کا بازو بھی خون آلود تھا میں نے پوچھا یہ کیا کیا ہے؟؟
بھابھی بولی نرسز اسکی نبض تلاش کرتے ہوئے سوئیاں بے دردی سے ادر ادھر گھسا رہیں تھی میں نے بولا بچے کو تکلیف ہو رہی ہے خون نکل رہا ہے تو چھوڑ کر چلی گئی پھر میں اسے لیکر ایمرجنسی بھاگی اور وہاں سے پٹی کروائی۔میرا خون تھا کہ خول رہاتھا ایک منٹ کے لیے سمجھ نہیں آیا کہ انکے ساتھ کروں کیا۔ہم ابھی اسے یہاں سے لیکر جائیں گے تو پتہ لگا کوئی سینئر ڈاکٹر موجود نہیں ہمیں صبح تک انتطار کرنا ہے۔۔

اسے جب گود میں اٹھایا تو بخار سے تپ رہا تھا میں اسے فورا باہر لیکر گئی آئی سی یو کے سامنے ڈاکٹر نظر آیا جب میں نے اسے آواز دی اس نے ان سنی کر دی دوبارہ بلانے پر بولا جی میں نے کہا ڈاکٹر صاحب اسے چیک کر لیں اسے بہت تیز بخار ہو رہا ہے اسکا جواب ایسا تھا کے رونگٹے کھڑے کر دے ،میں آئی سی یو کا ڈاکٹر ہوں میں کیوں اسے چیک کروں میں نے کہا ڈاکڑ صاحب صرف چیک ہی تو کرنا ہے تو جواب آیا آپ بد تمیزی کر رہی ہیں یہ سننا کافی تھا۔۔میں نے پوچھا مجھے یہ بتاو تمہیں آئی سی یو کا ڈاکٹر رکھا کس نے تمہیں گیٹ پر بھی کھڑا نہں کرنا چاہیے۔۔انتے میں ایک لیڈی ڈاکٹر بھی آگئی جی بی کیا مسئلہ ہے؟؟

میں نے بولا خدارا میرے بچے کو چیک کر لیں یہ بخار سے تپ رہا ہے سو بھی نہیں رہا ایک بج رہا ہے لیکن وہ ڈاکٹر جہالت کے اعلی درجے پر فائز نکلی بولی تو یہ اس نے سونا ہے یا تم نے؟؟نہیں کرتے چیک جاو پرائیوٹ چیک کروا،صبر کے تمام پیمانے لبریز یو گئے انکے جہالت میرے سامنے تھی انہیں ہمارے کیا کسی کے بچے کی بھی پرواہ نہیں تھی۔۔

میں نے پوچھا یہ اسپتال تمہارے باپ نے بنایا ہے یا وہ اسکا ٹرسٹی ہے؟؟جو ہم پرائیوٹ چلے جائیں؟؟تمہارا باپ تنخواہ نہیں دیتا ہم ٹیکس دیتے ہیں تو تمہیں تنخواہ دیتے ہیں ہمارا پیسہ ہے جسکی وجہ سے تم لوگ یہاں ہو۔۔اتنی دیر میں بھابھی آئی معاملہ ٹھنڈا ہوا پر ان دونوں نے بچے کو چیک کرنا گوارہ نہیں کیا۔۔

واپس اندر آکر اسے پانی کی پٹیاں کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا خواتین جو آس پاس تھیں بیچاری اپنی تکلیفیں سنانے لگی کے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے اور بچوں کو ایسے ٹریٹ کرتے ہیں جیسے وہ لاوارث ہوں ایک خاتون جو قصور سے تعلق تھی اس نے بتایا کے اسکے بیٹے کو نمونیہ تھا بخار تیز ہونے پر ایک ڈاکٹر نے نہلانے کا کہا نہلا دیا تو اس کا ایک حصہ پیرالائیزڈ ہوگیا تو دسرا ڈاکٹر آکر خاتون پر برس پڑا تمہیں کس نے بوکا تھا اسے نہلاو ؟؟

رات کے تین بج رہے تھے رات تھی کہ گزر ہی نہیں رہی تھی ہمارا بیٹا بخار سے تپ رہا تھا میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور رب سے دعا کر رہی تھی یا اللہ اسے صحت دے مجھے صبح تک کی مہلت دے دے میں اسے لاہور کے اسپیشلسٹ کے پاس لے جاؤں گی میرے بچے کو کچھ نہ ہو کسی طرح صبح دس بجے ڈاکٹر آئی میں نے جب اسے بولا اسے ڈسچارج کر دیں تو وہ بولی یہ ٹھیک نہیں ہے میں نے کہا یہاں کوئی کئیر نہیں کرتا میں مطمئن نہیں ہوں رات میں کوئی ڈاکٹر بھی یہاں نہں ہوتا اسکا جواب بھی اتنا ہی جاہلانہ تھا جتنا رات کے ڈاکٹرز کا لے جائیں میرا ایک مریض کم ہو جائے گا۔۔۔اللہ اللہ

میں یہ سوچنے پر مجبود ہوں کے گورنمنٹ اپنا کام پوارا کر رہی ہم انفرادی طور پر خراب ہیں یہی ڈاکٹر جب پرائیوٹ سیکٹر میں جاتے ہیں انکی خوش اخلاقی دیدنی ہوتی ہے لیکن گورنمنٹ سیکٹر میں چیک ایند بیلنس کی کمی سے انکی اصلیت سامنے آتی ہے خود کو خدا سمجھتے ہوئے یہ لوگ
درندے بن جاتے ہیں۔۔

خیر میں نے تو اپنے بچے کو ڈسچارج کروا کے پرائیوٹ چیک کروا لیا جو لوگ افورڈ نہیں کر سکتے انکا کیا قصور ہے؟؟؟؟

چیف جسٹس لاہور کے اسپتالوں کی حالت زار کا نوٹس لے رہے ہیں ان مسیحاوں کے رویوں کا نوٹس کون لے گا؟؟۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ