بریکنگ نیوز

“صحافتی اخلاقیات”

WhatsApp-Image-2017-04-21-at-1.49.21-AM.jpeg

تحریر ثاقب ملک

اکا دکا شریف النفس انسانوں کو چھوڑ کر پاکستان میں صحافیوں کا حال خارش زدہ بھونکنے والے چوپائے سے بھی بد تر ہے. الیکٹرانک صحافیوں کو قربانی کا بکرا بنا کر پرنٹ میڈیا کے جرنلسٹس اپنی مکروہ تاریخ نہیں چھپا سکتے. الیکٹرانک میڈیا کی جہالت پر تو اکثر بات ہوتی ہے. لیکن پرنٹ میڈیا کا چہرہ بھی نحوست زدہ ہے. پاکستان کی بربادی، جھوٹ اور پراپیگنڈے کی ترویج اور سیاستدانوں، جرنیلوں کو غلط اقدامات کی شہ دینے میں ان نام نہاد سینئر صحافیوں کا نمایاں ہاتھ رہا ہے.

حامد میر کہتے ہیں ڈاکٹر شاہد مسعود نے صحافت نہیں پڑھ رکھی، اس بناء پر ان جیسے لوگوں کی وجہ سے صحافی بدنام ہوتے ہیں. پرنٹ میڈیا کے صحافی الیکٹرانک میڈیا کو نان جرنلسٹس کہتے ہیں. سوال یہ ہے کہ نذیر ناجی نے صحافت پڑھ رکھیے تھی؟انکی آٹھ جماعتوں پر میں طنز نہیں کرتا. یہ واقعی ہی انکی صلاحیت کا ثبوت ہے. لیکن موصوف اپنے بال بچوں بھائیوں کا مستقبل اپنی روشن صحافت کے بل بوتے پر روشن کر چکے ہیں . ابھی کچھ دن قبل ہی سوشل میڈیا کے ایک لکھاری جعفر حسین کا پورا کالم اپنے نام سے روزنامہ” دنیا” میں چھاپ چکے ہیں. یہ ہیں سینئر صحافی؟

عطاء الحق قاسمی، عرفان صدیقی، عبدالقادر حسن، الطاف حسین قریشی، مجیب الرحمٰن شامی کس نے صحافت پڑھ رکھی ہے؟ اپنے اپنے پسندیدہ حکمرانوں کے حق میں یہ لوگ بھونپو بنے رہے. کوئی سفیر بن گیا تو کوئی مشیر. اپنے بچوں کو زبردستی سرکاری دورے کروا کر اور چینلز میں گھسا کر صحافی بنا دیا. جس نے صحافت پڑھ بھی رکھی ہے اس نے کونسا تیر مار لیا ہے؟ عام مشاہدہ ہے کہ رپورٹر بننے کے لئے ایک مخصوص چالاکی، مکاری، چرب زبانی، ناجائز ذرائع سے کام نکالنے کی صلاحیت بنیادی شرائط میں شامل ہے. یہ صحافتی اخلاقیات ہیں؟ بلکہ صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والوں کا تو باقاعدہ مذاق اڑایا جاتا ہے.

جاوید چوہدری سینیئر کالم نگار ہیں. پرنٹ میڈیا کی ذمہ دارانہ صحافت کا دعوٰی کرنے والے اکمل شہزاد گھمن کی کتاب “میڈیا منڈی” پڑھ لیں. موصوف کے کالمز کے حوالے کے ساتھ ان کہ تحاریر میں موجود سفید فیکچوئل جھوٹ برہنہ نظر آئیں گے. یہی حال اوریا مقبول جان کا ہے. حقائق سے برعکس سفید جھوٹ جن کی ڈبل کیا سنگل چیکنگ بھی کسی نے نہیں کی. داعش اور دہشت گردوں کی کھل کر غلط اعدادوشمار کے ساتھ سپورٹ کرتے رہے. اگر وقت اور جگہ ہو تو درجنوں کالم نگاروں کے غلط اعداد و شمار دیئے جا سکتے ہیں. جاوید چوہدری نے تو اپنے ایک کالم میں نجم سیٹھی کو غلیظ بھونکنے والا کتا لکھا تھا اور پورا کالم انکے شراب پینے اور سور کھانے پر لکھا تھا. تین چار دن بعد چیف ایڈیٹر عباس اطہر صاحب ہڑبڑا کر اٹھے اور معذرت شائع کروائی. اکثر سنی سنائی باتیں اور افواہیں ہمارے اخبار نویس “باخبر ذرائع” کے نام سے شائع کرواتے ہیں. ابھی کل کی ہی بات ہے عارف نظامی عمران خان کے پلنگ کے پائے سے لگ کر ریحام سے شادی کی تصدیق کر رہے تھے اور اس پر فخر بھی کر رہے تھے. یہی کارنامہ ڈبل ایجنٹ عمر چیمہ نے انجام دیا. کچھ دور جائیں تو “مہذب اور سینیئر دانشور ” عطاء الحق قاسمی، شامی، عبدالقادر حسن، غلام اکبر وغیرہ بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو پر غلیظ جھوٹے الزامات لگاتے تھے جس کی پہلی کڑی شراب، سور، جنسی تعلقات ہوتے تھے. خوشنود علی خان تو شہباز شریف نواز شریف وغیرہ کو بھی نہیں بخشتے تھے. گندے جھوٹے الزامات انکے باخبر ذرائع تھے.

خوشنود علی خان، ضیاء شاہد وغیرہ کسی کو یاد نہیں؟ روزنامہ ” دوپہر” روزنامہ “صحافت” کسی کو یاد ہے؟. ان کی بلیک میلنگ تو زبان زد عام تھی . یہ دوپہر اور شام کے اخبارات تھے. نیم برہنہ ماڈلز کی تصویر اور افواہوں پر مبنی آدھ صفحی ہیڈ لائنز ان اخبارات کا خاصہ تھیں. ابھی بھی سوائے چند بڑے اردو اخبارات چھوڑ کر چھوٹے اخبارات اسی اصول پر چلتے ہیں بس تصاویر شوبز صفحات پر منتقل ہو گئی ہیں. پورن فلموں کے اشتہارات تو روزنامہ “جنگ “میں باقاعدہ چھپتے تھے.

انہی اصول پسند صحافیوں ارشاد احمد حقانی، نجم سیٹھی، حسین حقانی، مشاہد حسین سید، وغیرہ نے وزارتیں حاصل کیں اور حکمرانوں سے فوائد اٹھائے. لیکن پاکستان میں ہر پڑا ہوا بڈھا صحافی سینیئر بھی ہوجاتا ہے اور اسکی خدمات بھی یاد رکھنے کے قابل ہوجاتی ہیں. پراپیگنڈا خبریں اور اشتہار بازی تو سامنے کی باتیں ہیں. یہ دیگ کے چند دانے تو میرے شعور کی بیس پچیس برس کی زندگی کی کہانی ہے. اس سے قبل کا حال سینیئر حضرات بتا سکتے ہیں. ابھی تو ذاتی مخرب الاخلاق تمام الزامات سے میں نے صرف نظر کیا ہے.

مقصد یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا پاکستانی معاشرے کی بربادی اور ناکامی میں حصہ دار ہے. اسی طرح جس طرح الیکٹرانک میڈیا معاشرے میں مزید جہالت پھیلا رہا ہے. یہ تو صرف اردو صحافت کے چند بڑے صحافیوں کا تجزیہ ہے. انکے مالکان کی بلیک میلنگ اور کرپشن پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے. انگریزی صحافت کے ایجنڈے پر چلنے کی روداد بھی پھر کبھی سہی. اچھے صحافیوں کی دل شکنی مطلوب نہیں. جو صحافی جان سے گئے وہ سسٹم، انصاف کی ناکامی اور مالکان کی کنجوسی کا شکار ہوئے. اکثر نچلے درجے کے صحافی ہی مرتے ہیں یہ بات بھی نوٹ کرنی چاہئے. لاشوں پر اپنی جھوٹی پارسائی کی عمارتیں نہ کھڑی کریں.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ