بریکنگ نیوز

نواز شریف، جڑانوالہ اور جولیس سیزر

تحریر مجاہد حسین

یہ نو اگست 48 قبل مسیح کا ایک تاریخی دن تھا جب جولیس سیزر اور پامپے کی فوجیں وسطی یونان کے ایک علاقے میں آمنے سامنے آئیں اورسلطنت روم میں کئی برس سے جاری خانہ جنگی کا فیصلہ کن لمحہ آن پہنچا۔یہ علاقہ پامپے کے لئے جانا پہچانا تھا، اس کی فوجیں بھی سیزر کے مقابلے پر دگنی تھیں، ان کی خوراک کا انتظام بہت بہتر تھا اور گھوڑوں کی تعداد بھی کہیں زیادہ تھی۔ اس کے مقابلے میں جولیس سیزر بہت دشواری کے بعد سمندر پار کر کے ایک اجنبی سرزمین پر پہنچا تھا، اس کے سپاہی تھکے ہوئے تھے، رسد کا کوئی انتظا م نہیں تھا اور بھوک کی وجہ سے ان کی حالت ابتر تھی۔
صرف دوباتیں سیزر کے حق میں جاتی تھیں۔ ایک تو اس کے سپاہی فرانس کے وحشی قبائل کے خلاف کئی سالہ طویل جنگ کی وجہ سے سخت جان ہو چکے تھے دوسرے سیزر خود ایک غیرمعمولی جرنیل تھا جو انتہائی برے حالات میں بھی جنگ کا پانسہ پلٹ دینے کی شہرت رکھتا تھا۔
فریقین کئی ماہ تک جنگ سے احتراز کرتے رہے۔ سیزر ایسے علاقے کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا جہاں اس کی افواج کے لئے خوراک کا بندوبست ہو سکے۔پامپے کچھ فاصلے سے ان پر نگاہ رکھے چلتا رہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہی صورتحال قائم رہی تو سیزر کی فوج بھوک اور تھکاوٹ کی وجہ سے بغیر لڑائی کےہتھیار ڈال دے گی۔ لیکن اس تمام کشمکش کے دوران پامپے کو یہ اندازہ نہ سکا کہ خود اس کے اپنے اعصاب کسقدر شکستہ ہو چکے تھے اور اس کی قوت فیصلہ میں کتنے شگاف پڑ چکے تھے۔
چنانچہ جب اس کے پرجوش مصاحبین نے جنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ زیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکا۔ 9 اگست کو اس نے فرسالوس کے میدان میں خیمے گاڑے اور جنگ کا بگل بجا دیا۔ یہ ایک مہلک غلطی ثابت ہوئی کیونکہ سیزر کے سخت جان سپاہیوں نے بھوک، تھکن اور کم تعداد کے باوجود جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ۔ پامپے اپنے خاندان کو لے کر میدان جنگ سے فرار ہو گیا اور کچھ عرصہ روپوشی میں بھٹکتے ہوئے مصر جا پہنچا جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس فتح کے نتیجے میں جولیس سیزر روم کی وسیع و عریض سلطنت کا بلاشرکت غیرے حکمران بن گیا۔
پانامہ لیکس میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد میاں نواز شریف نے بھی عدالت عظمی کے خلاف کچھ ایسی ہی ایک اعصابی جنگ شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد مسلسل دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کرنا ہے۔ چونکہ وہ ایک کاروباری شخص ہیں اس لئے مسلم لیگ نون کو بھی اپنی شوگر مل کی طرح سمجھتے ہیں جس پر صرف ان کا اور ان کی اولاد کا حق ہے۔ یہ سوچ کر ہی میاں صاحب کا دل ڈوب جاتا ہے کہ اپنا چلتا ہوا سیاسی کاروبار کسی غیر کے حوالے کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر صورت اسے اپنی سیاسی جانشین مریم نواز کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ عدلیہ نے پہلے میاں صاحب کو نااہل قرار دیا اور اب احتساب عدالت میں چلنے والے کیسز میں بھی انہیں اور ان کی صاحبزادی کو سزا ملنے کا امکان ہے اس لئے اپنے سیاسی اثاثے کی حفاظت کے لئے وہ تلوار سونت کر عدلیہ کے خلاف میدان میں اتر آئے ہیں۔

عدلیہ ایک سیاسی جماعت سے یکسر مختلف ادارہ ہے۔ اس کا وقار اور اخلاقی برتری دو ایسے ہتھیار ہیں جو پرجوش سیاسی کارکنان اور منتقم مزاج رہنماؤں کو اپنی حدود میں رکھتے ہیں۔ اس کے پاس نہ ہی کوئی ترجمان ہے اور نہ ہی معزز جج صاحبان عوامی جلسوں میں جا کر اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کیس کی سماعت کے دوران مختصر ریمارکس دے کر وہ اپنا نکتہ نظر بیان کر سکتے ہیں یا کبھی کبھار کسی بار سے خطاب کے ذریعے اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ میاں صاحب عدلیہ کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے ایک منظم مہم چلائی ہوئی ہے جس کے ذریعے عدلیہ کے خلاف ایک بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ دوسرے فریق کے پاس کوئی پراپیگنڈہ مشینری موجود نہیں اس لئے وہ اپنے بیانیے کو عوام میں پھیلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے ہر پہلو سے عدلیہ کو گھیرا جا رہا ہے۔ ایک مقصد تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان گھبرا کر پیچھے ہٹ جائیں اور احتساب کے عمل سے شریف خاندان کو چھٹکارا مل جائے۔ دوسرا مقصد انہیں ایسے ردعمل پر مجبور کرنا ہے جس کے نتیجے میں ان کے فیصلوں پر شکوک پیدا ہونے لگیں اور عدلیہ کی اخلاقی برتری کا تاثر مجروح ہو جائے۔

اعصاب کی جنگ میں یہ خطرہ بہرحال موجود رہتا ہے کہ اپنے مخالف کو توڑ دینے کی کوششوں میں کسی وقت آپ خود نہ ٹوٹ جائیں اور ایسی کوئی غلطی نہ کر بیٹھیں جس کی وجہ سے پورا منصوبہ چوپٹ ہو جائے۔ 27 جنوری کو جڑانوالہ میں جس قسم کی تقاریر میاں نواز شریف اور مریم نواز نے کی ہیں ، وہ ان کے اعصاب کی شکستگی کی شاہد ہیں۔ اس جلسے میں کئی سرخ لکیریں عبور کی گئیں جن کی وجہ سے جڑانوالہ میاں نواز شریف کے لئے فرسالوس کا میدان ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے جج صاحبان کے بارے میں میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی نے ایسے سخت الفاظ ادا کئے جن کی مثال پاکستانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ان تقاریر کی وجہ سے دونوں ہی خود غرض اور متکبر شخصیات کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ کسی بھی وجہ سے اب تک میاں صاحب کے موقف کی حمایت کر رہے تھے وہ بھی اب ان کا دفاع نہیں کر پا رہے۔ عوام میں بھی عدلیہ کے حق میں ہمدردی کی ایک لہر پھیلی ہے۔ اس صورتحال میں اگر سپریم کورٹ میاں صاحب کی شعلہ بیانیوں کو نظر انداز کر کے قانون کے مطابق فیصلے کرتی جائے تو اس ادارے کا وقار مزید بڑھے گا۔ اس رویے کی وجہ سے شریف خاندان کی فرسٹریشن میں بھی اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے وہ مزید غلطیاں کر یں گے اور تنہائی کا شکار ہوتے چلے جائیں گے۔صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اعصاب کی اس جنگ میں نواز شریف اور مریم نواز خود ٹوٹنے لگے ہیں۔ اگر دو چار مزید جلسوں میں یہی شعلہ بیانی جاری رہی تو پاکستانی معاشرہ تو ایک طرف خود مسلم لیگ نون کے اندر سے اس رویے کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو جائیں گی۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ