بریکنگ نیوز

بھٹو لیگسی فاؤنڈیشن کے چئیرمین بشیر ریاض سے ایک ملاقات کا احوال

baish.png

تحریر: سلمان حسن (دنیا نیوز)

پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ جیالے اور ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو اور اب بلاول، بختاور اور آصفہ کے معتمد خاص جناب بشیر ریاض جنہیں مقربین “بیش” کے نام سے جانتے ہیں، حقیقت میں بھٹو خاندان اور اس پارٹی کے لیے بِگ بیش کی حیثیت رکھتے ہیں۔ واٹس ایپ پر اکثر ان سے رابطہ رہتا ہے لیکن بیش کی ناسازی طبع نے ان سے ملنے کا ایک اور موقع فراہم کیا۔ 26 جنوری کو ان سے میری دوسری ملاقات لاہور والے گھر پر ہوئی۔ اس ملاقات کا احوال بعد میں پہلے، پہلی ملاقات کا ذکر۔

“بیش” سے میری پہلی ملاقات تقریباً دس سال پہلے لندن میں ان کے گھر پر ہوئی، جب سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے مجھے ان سے متعارف کرایا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں اور عاصمہ دونوں جیو میں تھے، عاصمہ اسلام آباد اور میں دبئی میں رہتا تھا۔ فرسٹ امپریشن از دی لاسٹ امپریشن پر پورا اترتی بیش کی شخصیت واقعی کمال کی تھی۔ دھیمہ لہجہ، مطمئن انداز، گفتگو کا طریقہ بھی انتہائی شفقت بھرا لیکن ایک دم کھرا۔ بیش جہاں بھی رہتے ہیں، بھٹو خاندان کی یادیں تصویروں کی صورت ان کے گھر کی دیواروں اور میزوں پر نمایاں رہتی ہیں۔ اُس وقت بی بی زندہ تھیں اور مجھ سمیت کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ دختر مشرق کہلانے والی امت مسلمہ کی پہلی خاتون وزیراعظم کو دہشت گردی کا نشانہ بنادیا جائے گا۔ بیش ایک ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے اور ہر اُس لمحے کو جس میں وہ تصویر کھینچی گئی تفصیل سے بیان کرتے۔ الغرض انتہائی پرسکون ماحول میں ہونے والی ملاقات جب الوداعی لمحات تک پہنچی تو مجھ میں بھٹو خاندان خاص کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت سے متعلق بیش بہا معلومات سرایت کرچکی تھیں۔ وہ کس طرح بولتیں، کیسے چھوٹے بڑوں کو مخاطب کرتیں، پاکستان کے لیے کتنا درد رکھتیں اور پاکستانی عوام کے لیے کتنا تڑپتیں، ایک ایسے شخص کی زبانی سننا جو ان تمام باتوں اور لمحات کا عینی شاہد ہو، الگ ہی اہمیت رکھتا ہے۔ جاتے ہوئے بیش نے کتابی شکل میں محفوظ اپنی یادداشتیں دستخط کے ساتھ مجھے عنایت کی۔ “بھٹو خاندان، ایک جہد مسلسل” کو پڑھ کر اور بیش کی دلچسپ باتوں کو سن کر مجھ پر ایک منفرد کیفیت طاری ہوئی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس ملاقات کے کچھ عرصے بعد جب 27 دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو میں بھی اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا۔

اب جب 2017ء میں بیش سے ملاقات ہوئی تو محترمہ نہیں رہیں، بی بی سے طویل رفاقت کا سفر ختم ہو گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ بیش کے لہجے میں بیماری کے درد سے زیادہ بی بی کے بچھڑ جانے کا کرب اب تک ہے۔ باتوں باتوں میں وقت کے گزر جانے کا احساس تک نہ ہوا۔ اس دوران میں ان سے ان کا حال پوچھتا رہا اور وہ ماضی کا احوال بھی بتاتے رہے۔ بیش کی باتوں میں معصومیت بھی ہے اور سچائی کی جھلک بھی۔ 1992ء میں اہلیہ کے انتقال کے بعد انہوں نے دوسری شادی نہیں کی حالانکہ بی بی چاہتی تھیں کہ بیش پیپلز پارٹی کی ہی ایک رہنما سے شادی کر کے اپنا گھر پھر سے آباد کریں۔ بیش کا گھر آباد رہا اور آج بھی آباد ہے۔ بی بی کی باتوں سے، ان کی یادوں سے۔ چند روز پہلے بلاول، بختاور اور آصفہ لاہور کے رحمان ولاز میں واقع ان کے گھر آئے اور عیادت کی جبکہ آصف زرداری نے پھول اور کارڈ بھجوایا۔ تینوں بچوں کے ساتھ ان کی تازہ تصویر ڈرائنگ روم کی دیوار پر دیگر یادگار تصویروں کے ساتھ آویزاں ہے۔ ساڑھے چھ مرلے کے اس مکان میں بھی ان کی بے نظیر یادیں ہر سو دکھائی دیتی ہیں ۔ وہ آخری ای میل بھی کتابوں کی الماری میں فریم کر کے رکھی ہے، جو بی بی نے ان کی سالگرہ پر کی تھی۔ بی بی نے ان سے فون پر رابطہ کرنے کی متعدد بار کوشش کی لیکن جب ایسا نہ ہوا تو انہوں نے ای میل لکھ دی۔ بیش کہتے ہیں اگر فون پر رابطہ ہو جاتا تو اتنی انمول اور یادگار ای میل شاید ان کو کبھی نہ ملتی۔ آج یہ چند سطروں کا پیغام ان کے لیے کسی خزانے سے کم نہیں۔ میں نے ان کی اجازت سے اس انمول ای میل کی تصویر کھینچ لی۔ میں گیا تو ان کی عیادت کو تھا لیکن یہ کیسے ممکن کہ موجودہ سیاست پر بات نہ ہو۔ میں نے پوچھا کہ بلاول، بختاور اور آصفہ میں سے آپ کو کس میں بی بی کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور کون بی بی کی سیاسی میراث کا اصل حقدار ہے۔ کہا کہ تینوں میں ہی بی بی کی مختلف عادات آئی ہیں۔ بختاور سماجی معاملات میں بہت زیادہ دلچسپی لیتی ہیں، آصفہ انتہائی قابل اور سمجھدار ہیں جبکہ بلاول تو عملی سیاست میں قدم رکھ ہی چکے ہیں۔ مجھے اندازہ تھا کہ یہ ایسا ہی سوال ہے کہ کوئی آپ سے پوچھے کہ آپ کو کون سا بچہ زیادہ عزیز ہے۔ معروف ماڈل کے ڈالر اسکینڈل پر بھی میرے ذہن میں سوالات تھے جو ہمت کر کے پوچھ لیے، جواب نے عام تاثر کو رد کر دیا، لیکن تفصیل آف دا ریکارڈ ہی رہے تو بہتر ہے۔ بیش نے نقاہت بھر ے لہجے میں یہ بھی بتایا کہ اکتوبر 2017ء میں پاکستان واپسی پر انہیں محسوس ہوا کہ شاید ان کی صحت اب کبھی لندن جانے کی اجازت نہ دے۔ لیکن میری دعا ہے کہ اگلی بار جب ہماری ملاقات ہو تو وہ مکمل صحت یاب ہو چکے ہوں۔ باتیں اور بھی ہوئیں اور اس بار بھی وقتِ رخصت انہوں نے تحفتاً اپنی کتاب “بے نظیر یادیں” دستخط اور نیک خواہشات کے ساتھ عنایت کی۔ اِنہی بے نظیر یادوں کے ساتھ میں نے ان سے اجازت چاہی۔

بھٹو لیگسی فاؤنڈیشن کے چئیرمین بشیر ریاض اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں، اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتے رہے ہیں، وہ یقیناً پیپلز پارٹی کا سرمایہ ہیں اور سب سے بڑھ کر بھٹو خاندان خصوصاً بی بی کی زندگی کے نشیب و فراز اپنے سینے میں سموئے ہوئے ہیں۔ یہ تحریر یقینا پیپلز پارٹی کے لیے “بیش” کی بیش قیمتی خدمات کا احاطہ قطعی نہیں کرتی لیکن ایک بڑے انسان کی بڑائی بیان کرنے کی ادنیٰ سے کاوش ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ