بریکنگ نیوز

آصف علی زرداری کا دورہ تونسہ شریف اور سرائیکی وسیب

5a70f078b09e7.jpg

تحریر: آزاد بزدار

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا سرائیکی وسیب سے گہرا سیاسی تعلق رہا ہے۔ سرائیکی وسیب کے عوام نے ہمیشہ پی پی پی پر اعتماد کیا ہے اور پی پی پی بھی اس اعتماد پر پوری اترتی آئی ہے۔ سرائیکی وسیب کی تینوں یونیورسٹیوں سے لے کر تینوں ریڈیو اسٹیشن تک سبھی پی پی پی کے دور حکومت میں قائم ہوئے۔ پی پی پی کو جب بھی اقتدار ملا تو اس نے سرائیکی وسیب جیسے پسماندہ علاقے کی سیاسی لیڈر شپ کو شریک اقتدار کیا۔ پی پی پی دور حکومت میں وزیر اعظم سندھ سے تھا تو صدر سرائیکی وسیب سے، اگر صدارت سندھ کے حصے میں آئی تو وزارت عظمی سرائیکیوں کا مقدر ٹھہری، باقی وزارتیں اور سینیٹرز کی حصہ داری بھی اسی طرح رہی ہے۔

سرائیکی وسیب، جس کا شمار پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے، کے لوگوں کو ہمیشہ تختِ لاہور سے شکائت رہی ہے کہ ان کے علاقے کا ریونیو صوبائی حکومت اپر پنجاب اور تخت لہور پر خرچ کرتی ہے۔ بد قسمتی سے صوبائی حکومت ہمیشہ جی ٹی روڈ کی جماعتوں کے پاس رہی ہے، جن کے خلاف سرائیکی وسیب ہمیشہ سراپا احتجاج رہا ہے۔ اس تفریق کی بنا پر جب سرائیکیوں نے علیحدہ صوبے کا مطالبہ کیا تاکہ شناخت کے ساتھ ساتھ ان کا ریونیو ان پر خرچ ہو تو پی پی پی نے سرائیکیوں کے اس مطالبے کو نہ صرف جائز تسلیم کیا بلکہ سینٹ سے علیحدہ صوبے کے لئے قرارداد بھی پاس کرائی، قومی اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باعث اگرچہ صوبہ نہ بن سکا لیکن سینٹ کی پاس شدہ آئینی قرار دار صوبہ بنانے کی راہ میں پہلا عملی کام تھا جو پی پی پی نے سرانجام دیا۔

اسی طرح جب پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی ماں بولیوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کی بات چلی تو پی پی پی کے ہی سینیٹر کریم خواجہ صاحب نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں سات زبانوں کا بل پیش کیا، جس میں سرائیکی زبان شامل تھی، لیکن اس بل کی مخالفت نون لیگ اور پی ٹی آئی نے مل کر کی اور بل مسترد ہوا، جس کے بعد سسی پلیجو اور سینیٹر اعجاز دھامڑو صاحب نے چار زبانوں کا بل پیش کیا، جسے پاس کر دیا گیا، بہرکیف مقامی بولیوں کو تسلیم کرنے کا آغاز ہوا جو کہ ایک اچھا عمل ہے۔ آج چار زبانوں کو تسلیم کیا گیا ہے تو کل سات کو بھی کر لیا جائے گا۔ لامحالہ سرائیکی زبان کو بھی تسلیم کیا جائے گا جو کہ اس مرتبہ پی پی پی کی کوششوں کے باوجود نون لیگ اور پی ٹی آئی جیسی مقامی لوگوں کی شناخت سے انکاری اور وسیب دشمن جماعتوں کی وجہ سے رہ گئی۔

مردِّ حُر آصف علی زرداری پچھلے دنوں تونسہ شریف تشریف لائے تو ان کے ساتھ مجوزہ سرائیکی صوبہ کے علاقوں کی اعلی سرائیکی قیادت بھی ساتھ تھی، شاید ہی کسی نے یہ بات نوٹ کی ہو کہ رحیم یار خان جو کہ مجوزہ صوبہ کی ایک طرف آخری حد ہے، سے مخدوم احمد محمود صاحب جیسے زیرک سیاستدان تو دوسری طرف جھنگ سے شاہ جیونہ سرکار کے سجادہ نشین فیصل صالح حیات صاحب ساتھ تھے، جبکہ خیبرپختونخوا سے ڈیرہ اسماعیل خان جو کہ سرائیکی وسیب کا اہم ضلع ہے، سے سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی صاحب ساتھ تھے، یوسف رضا گیلانی صاحب تو پورے وسیب کے لیڈر ہیں، ملتان جیسے مرکزی شہر سے زرداری صاحب کے ساتھ تشریف فرما تھے، مذکورہ سرائیکی وسیب کی اعلی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر مرد حر آصف علی زرداری کی طرف سے یہ اعلان کہ سرائیکی صوبہ بن کر رہے گا، جہاں سرائیکی وسیب کے لوگوں کے ساتھ پی پی پی کی محبت اور ان کی آواز کے ساتھ آواز ملانے کے مترادف تھا تو دوسری طرف کچھ لوگوں کے لئے پیغام بھی تھا کہ دیکھو رحیم یار خان سے جھنگ تک اور جھنگ سے ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان تک پورا سرائیکی وسیب پی پی پی کے ساتھ ہے اور پی پی پی ان کے جائز مطالبے یعنی سرائیکی صوبہ کے ساتھ ہے، سو صوبہ تو بن کر رہے گا۔

زرداری صاحب کے اس اعلان کہ سرائیکی صوبہ بن کر رہے گا، کے بعد پروپیگنڈہ باز پی ٹی آئی اور نون لیگ جیسی سرائیکی وسیب کے مسائل سے نا واقف جماعتوں کے سوشل میڈیائی مینڈکوں نے روائتی ٹر ٹر شروع کر دی جو کہ ان کا وطیرہ ہے، حقائق کو جان بوجھ کر مسخ کرنا تو کوئی انہی مینڈکوں سے سیکھے، جو کبھی قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں تو کبھی دین کا درس دینا شروع کر دیتے ہیں۔

پی ٹی آئی اور نون لیگ کے ان سوشل میڈیائی مینڈکوں سے گزارش ہے کہ سرائیکی وسیب کے لوگ اب جان چکے ہیں کہ ان کے خیر خواہ کون ہیں، وسیب کے لوگوں کو پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے لیڈر آف دی اپوزیشن میاں محمود الرشید کی وہ تقریر یاد ہے، جب انہوں نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی آٹھویں جماعت کی جغرافیے کی کتاب پر مجوزہ سرائیکی صوبہ کے نقشہ چھپنے کے خلاف اسمبلی میں تحریک التوا پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ “سرائیکی صوبے کا مطلب اسرائیل ہے اور پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے پنجاب کی سر زمین پر ایک نئے اسرائیل کا نقشہ چھاپا ہے”۔ اس کے بعد پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے نقشہ سے مجوزہ سرائیکی صوبے کو نکال کر کتابیں دوبارہ چھاپی تھیں۔

اسی طرح جب پی پی پی کو “آر-اوز” الیکشنز کے تحت شکست دی گئی تو نون لیگ کے رانا ثناءاللہ نے کہا تھا آج سرائیکی صوبے ایشو دفن ہو گیا ہے اور پی پی پی ہار گئی ہے۔

سو ان حالات میں نُون لیگ اور پی ٹی آئی جو کہ سرائیکی وسیب کے لئے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں کو سوچنا چاہیے کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور پروپیگنڈہ کرنے سے ان کو کچھ حاصل نہیں ہو گا، سرائیکی وسیب کے لوگ جاگ رہے ہیں اور اپنی بیداری کا ثبوت الیکشن میں دیں گے، جب کوٹ سبزل سے شاہ جیونہ تک اور شاہ جیونہ سے ٹانک تک جیے بھٹو ہو گی۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ