بریکنگ نیوز

عوام کی حقیقی نمائندہ کون سی سیاسی جماعت؟

27746438_2011793662479138_25337823_o.jpg

تحریر: فہمیدہ برچا

آج کے آرٹیکل میں ہم غور کریں گے کہ وطن عزیز کی تین بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف میں سے کون سی پارٹی دراصل عوام کی حقیقی نمائندہ سیاسی جماعت ہے۔

مسلم لیگ (ن) ہمیشہ وفاقی حکومت بنانے کے لیے قومی اسمبلی کی 342 میں سے 183 سیٹوں والے اکثریتی صوبے پنجاب پر مکمل توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ باقی صوبے، فیڈرل کیپیٹل اور اقلیتیں، جن کی فقط 159 (سندھ 75، خیبر پختونخوا 43، بلوچستان 17، فاٹا 12، فیڈرل کیپیٹل 2 اور غیر مسلم 10) سیٹیں ہیں، جنھیں نون لیگ نے ہمیشہ درخور اعتنا نہ سمجھا۔ نُون لیگ اپنے آپ کو فقط جی ٹی روڈ کی سیاسی جماعت منوا چکی ہے۔ یہ پارٹی پنجاب میں سرائیکی وسیب کو تقریباً پچیس جاگیرداروں سے کنٹرول کرتی ہے، جہاں چار سو کے قریب تھانیداروں کی مدد لی جاتی ہے۔ نُون لیگ جب حکومت میں آتی ہے تو باقی صوبوں اور سرائیکی وسیب کا بجٹ بھی اپر پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرتی ہے۔ نُون لیگ اپنے وزراء اور مشیران وغیرہ بھی فقط اپر پنجاب سے لیتی ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) ووٹ کشید کرنے کے لیے اکثریتی مذہبی فرقوں کے ساتھ تال میل اور گٹھ جوڑ پر بھی مکمل دسترس رکھتی ہے۔ مزید برآں، نُون لیگ نے دہشت گردوں کو بھتہ دینے اور لینے میں کبھی بھی شرم محسوس کی۔

اس وقت اگر دیکھا جائے تو نُون لیگ صوبہ سندھ میں غیر اعلانیہ غیر فعال ہو چکی ہے، صوبائی آفس ویراں ہو چکا ہے، یہ پارٹی صوبہ سندھ میں اتنی غیر فعال ہو گئی ہے کہ اپنی نااہلی کے بعد چند دن قبل پہلی بار نواز شریف جب کراچی آئے تو ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے صوبائی عہدیدار تک بھی نہ آئے۔ استقبال کے لیے بنگالی کمیونیٹی کے دو سو بندے کرائے پر لائے گئے، جنھوں نے نعروں تک کا جواب نہ دیا۔ بنگالیوں کو لانے کا ٹھیکہ دس لاکھ روپے میں ہوا۔

صوبہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔ صوبائی معاملات میں وفاقی حکومت کی دلچسپی اتنی تھی کہ بلوچستان کا وزیر اعلٰی وزیرِ اعظم نواز شریف سے تو دُور کی بات اُن کے سیکریٹری تک کو نہیں مل سکتا تھا۔ بلوچستان اسمبلی کے ممبران چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تھے، مسلم لیگ (ن) سے اتنے بیزار ہوئے کہ نُونی وزیرِ اعلٰی کو باہر پھینک کر اپنا متفقہ وزیرِ اعلٰی منتخب کر لیا ہے اور اب حالت یہ ہے کہ اس اسمبلی میں ایک بھی ایم پی اے مسلم لیگ (ن) میں نہیں رہا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کا سیاسی نظریہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اِس سیاسی جماعت کا فوکس فقط دولت مند اور الیکٹیبلز کے ساتھ ساتھ وقت کے مطابق یوٹرنز لے کر طاقت اور مقبولیت حاصل کرنا ہے۔ تحریکِ اِنصاف پارٹی نے پوری قوم کے سامنے بارہا کہا کہ طالبان کے نظریات سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں۔ یہ لوگ طالبان کی بڑی سے بڑی دہشت گردی پر بالکل خاموش رہے، طالبان سے مذاکرات کی فریادیں کرتے رہے اور انھیں پشاور میں دفتر کھولنے کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ دینے کے ترلے کرتے رہے۔ جواب میں طالبان نے بھی اعلان کیا کہ عمران خان کے علاوہ وہ کسی کو وزیر اعظم نہیں مانتے۔ طالبان نے عمران خان کو وزیرستان میں جلسہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمان جاری کیا “تحریک انصاف کا منشور ہمارے سوچ کے قریب تر ہے”۔ اِس کے علاوہ یہ پارٹی بھی طالبان کے خلاف آپریشن کی سخت مخالف تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت طالبان کو بھتہ تک دیتی رہی ہے۔

تحریکِ اِنصاف نے مولانا سمیع الحق کے مدرسے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کو بجٹ سے تیس کروڑ روپے کی خطیر رقم دینے کے بعد سینٹ کے آنے والے الیکشنز میں مولانا کو اُمیدوار کے طور پر بھی نامزد کیا ہے۔ تفصیل میں کیا جائیں، طالبان کے سرپرست مولانا سمیع الحق کو سینیٹر شپ کے اُمیدوار کے طور پر نامزدگی نے تحریک انصاف کے نظریات کو فقط ایک کُوزے میں بند کر دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کا آئین بنایا۔ جب آئین شکنوں نے آئین کی شکل بگاڑی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری بحال کیا۔ آصف علی زرداری نے این ایف سی ایوارڈ کا اجرا کیا۔ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیا۔ صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھ کر پختونوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا۔ سرائیکی وسیب کے لیے علیحدہ صوبہ بنانے کے لیے ہر ممکن آئینی کوشش کی۔ فاٹا کے بارے میں اصلاحات پر کام شروع کیا۔ پیپلز پارٹی نے الیکشنز 2013ء میں اپنا ہر طرح کا نقصان برداشت کیا مگر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے برعکس دہشت گردوں کے ساتھ کمپرومائز نہ کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا طرہ امتیاز ہے کہ یہ پارٹی کسی مخصوص صُوبے، علاقے، مذہب اور برادری کو اہمیت دینے کے برعکس مساوات کے اصول کو ہی مدنظر رکھتی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے بارے میں بجا طور جائز اور درست نعرہ گُونجتا تھا:

چاروں صوبوں کی زنجیر، بینظیر بینظیر!

پاکستان پیپلز پارٹی آئیندہ ہونے والے سینٹ کے الیکشنز میں جنرل نشست پر تھر کے انتہائی غریب ہندو کولھی خاندان سے تعلق رکھنے والی کرشنا کماری کو نامزد کیا ہے، جس کی جیت یقینی ہے۔ مینا کماری کا بچپن اپنے خاندان سمیت عمر کوٹ کے ایک وڈیرے کی نجی جیل میں گزرا۔ ننگر پارکر کے ہاری خاندان میں پیدا ہونے والی کرشنا کی شادی سولہ سال کی عمر میں ہوئی، جس وقت وہ نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ وہ تعلیم سے جُڑی رہیں اور 2013ء میں سماجیات میں ماسٹرز کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ وہ اپنی تعلیم کے دوران تھر اور دیگر علاقوں کے پسماندہ لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے بھی عملی کوشش کرتی رہیں۔ میںا کماری ہی نہیں پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اقلیتی قوموں کو اپنی پارٹی میں نمائندگی دیتی آئی ہے، جس کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں۔

اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو پاکستان کی تینوں بڑی جماعتوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی ہی بلاشبہ پاکستان کی واحد سیاسی پارٹی ہے، جو عوام کی حقیقی نمائندہ سیاسی جماعت ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ