بریکنگ نیوز

تحریک آزادی کشمیر اور اپنی اپنی دکان

76400549-283D-4CFF-9941-C48428444921.jpeg

تحریر آزاد احمد چوہدری

بیسویں صدی میں دنیا میں بہت سے ممالک معرض وجود میں آئے ۔جب وہ تمام ممالک بن رہے تھے قریب اسی وقت سے تحریک کشمیر چل رہی ہے۔بلکہ چلتی جا رہی ہے کشمیر کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوا ہے جس پر تین ایٹمی ممالک فریق ہیں اس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو ہر ایک حصے کے لوگوں کا آپس میں رابطہ تو بالکل نہ ہونے کہ برابر ہے،یہاں میں آزاد کشمیر کی بات کروں گا پھر کبھی مقبوضہ کشمیر جس میں وادی جموں لداخ پونچھ کی بات کروں گا،

آزاد کشمیر جو کہ دس اضلاع پر مشتمل ہے جس کا اپنا صدر وزیر اعظم ہے۔یہاں کی آبادی تقریبا بیالیس لاکھ کے قریب ہے، پہاڑی اور میدانی علاقہ ہے لوگوں کا زیادہ تر زریعہ معاش بیرون ملک روزگا ر سے جڑا ہے۔لوگوں کا طرز زندگی کافی بہتر ہے بانسبت پڑوسی ممالک کہ مقامی سیاست میں ریاستی و غیر ریاستی دونوں جماعتیں ہیں۔شرح ووٹ کافی بہتر ہے۔
گلگت بلتستان بھی یوں تو کشمیر کا حصہ ہے مگر معاہدہ کراچی کی روح سے آزادی کشمیر تک پاکستان کے زیر کنٹرول رہے گا.گلگت بلتستان کا بھی کچھ خاص تعلقات نہیں آزاد کشمیر سےوہ تو کشمیر کا نام تک نہیں لینا نہیں چاہتے وہ اپنی تمام محرعومیوں کی وجہ کشمیر کو سمجھتے ہیں شاید

یہاں تک ہوگئی بات اب چلتے ہیں اپنی اپنی دکان کی طرف عوام آزاد کشمیر میں شاید سیاست کا زیادہ شوق ہے کچھ عوام اقتدار کے لئیے سیاست کی تگ و دو میں ہے اور باقی بچے جن کا اس میں حصہ نہیں ہوتا وہ آزادی کشمیر کا نعرہ بلند کئیے خودمختاری کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور پھر اس سے اپنی سستی شہرت بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی مانند جو اقتدار میں ہیں وہ آج تک ایک آزاد کشمیر کی چھوٹی سی ریاست کی قلیل سی آبادی کے لیے بنیادی سہولیات فراہم نہ کر سکے۔

حکومتی ایوانوں اور خود مختاری کے نعرے لگانے والے دونوں دن کے اجالے میں خوب دل کی بھڑاس نکالتے ہیں مگر رات کی تاریکی میں لائن آف کنٹرول پر آٹھ لاکھ بھارتی فوج کو روکنے ان بھائیوں کو بھول جاتے ہیں ،حقیقت تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی پاکستان کی طرح علاقائی عزم اس قدر ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے نہیں۔ درجنوں خود مختاری کے نعرے لگانے والی جماعتیں درجنوں اقتدار کی حصول کی جماعتں ہونے کہ باوجود جب کوئی کشمیری لائن آف کنٹرول پر بھارتی دہشت گردی سے زخمی ہوتا ہے یا شہید ہوتا ہے تو پتہ نہیں یہ سب اس وقت کہاں غائب ہوتے ہیں ۔
ان زخمیوں کو یا شہید ہو جانے والوں کواٹھانے والا کوئی بھی نہیں ہوتا

سڑکوں ،چوکوں ،چوراہوں ایوانوں آرام دہ کانفرنسز حالوں میں نعرہ لگانا شاید بہت آسان ہے مگر حقیقت میں اس کا کچھ فائدہ نہیں ہر ایک اپنی دکان مال پانی یا سستی شہرت حاصل کرنا چھوڑ کر اپنی اپنی دکان بند کر کہ قومی سوچ لے کر جب آئے گا تو پھر جا کر تحریک آزادی کشمیر میں جان آئے گی وگرنہ اس طرح جتنے مرضی جلسے جلوس تقاریر کرہ کچھ نہیں ہونے والا نہیں چاہے کسی بھی تحریک کو پڑھ لو ہر وہ تحریک جو کامیاب ہوئ ہی اسکے چلانے والے اپنے ذاتی مفاد سے کنارہ کش ہو کر صرف قومی مفادمقصد رکھ کرہی کامیاب ہوسکی ہے۔
Back to Conversion Tool

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ