بریکنگ نیوز

“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (آخری قسط)

11-image.jpg

تحریر: امام بخش

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی آخری قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، چھٹی , ساتویں ، آٹھویں ، نویں اور دسویں پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

صحافت کسی بھی سماج میں انسانی شعور و تربیت اور علم آگاہی کے لئے ایک کامیاب ستون کے طور پر تسلیم شدہ ہے، جو حقائق کو لے کر واقعات کی منظر کشی کرتا ہے۔ انسانی سماج میں گرد و پیش کے حالات، تغیر و تبدل اور روز مرہ واقعات کو آشکار کرنے یا سماج میں لا کر وہاں رہنے والے انسانوں کو باخبر رکھنے میں صحافت ایک ذمہ دار ادارہ کے طور پر قابل بھروسہ ہوتا ہے، جس کی ضرورت ہر سماج میں رہنے والے انسانوں کو ہے کیونکہ صحافت ایک غیر جانبدار اور معاشرے کی مثبت انداز میں تعمیر نو کا شعبہ ہوتا ہے۔ لیکن پاکستانی میڈیا مروجہ اقدار نبھانے کی بجائے مجموعی طور پر بدترین کردار ادا رہا ہے، جس نے صحافت کو حقیقت نگاری کی بجائے تمثیل آفرینی بنا دیا ہے۔

محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جُھوٹے سیاسی مقدمات کے سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ اور شریفوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے ججوں کے ساتھ ساتھ دروغ گوئی کے عالمی چمپئین صحافیوں کا بھی اتحاد رہا ہے۔ اب سازشیں کھل کر سامنے آ چکی ہیں کہ کس طرح اسٹیبلشمنٹ اور اس کے جموروں نے محترمہ بینظیر بھٹو پر دباؤ ڈالنے کے لیے آصف علی زرداری کے خلاف صحافیوں کے ذریعے پروپیگنڈہ کرنے کے لیے رچائی تھیں۔ اگر گوئبلز آج زندہ ہوتا اور آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کا دھواں دھار واویلا مچانے والے صحافیوں کی کارستانیاں ٹی وی سکرینوں اور اخبارات میں دیکھتا تو اسے پتہ چلتا کہ اصل پروپیگنڈہ گُرو تو پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ ضرور اِن کے سامنے بصد ادب زانوئے تلمذ تہہ کرتا۔

حیرت ہے کہ سوئس کیسز بارہا جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود آج بھی اِن کیسز سے متعلق میڈیا پر بڑی دلچسپ الف لیلوی داستانیں پورے ڈھیٹ پن کے ساتھ سنائی جاتی ہیں۔ اِن لاتعداد من گھڑت کہانیوں میں سے ایک کہانی جگادری کالم نگار اور ٹی وی اینکرز اکثر پورے اعتماد کے ساتھ سناتے نظر آتے ہیں کہ برطانیہ میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے جینوا میں ایک انتہائی خفیہ آپریشن کیا تھا، جس میں انھوں نے سوئس کیسز سے معتلقہ اصلی دستاویزات اور مضبوط شواہد پر مبنی بارہ ڈبے حاصل کر لیے تھے۔ بعض تو فرماتے ہیں کہ چوری کر لیے تھے (جہالت کے منہ زور گدھوں کی تحقیق ملاحظہ ہو کہ پاکستانی عدالتوں میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اِن ریفرنسز میں دستاویزات تصدیق کے بغیر فقط فوٹو کاپیاں جمع کرائی گئی تھیں اور اِن فوٹو کاپیوں پر اوریجنل دستخط اور سٹیمپس تک موجود نہیں تھیں اور یہ اصل دستاویزات سوئٹرز لینڈ کی عدالت میں جمع کرائے بیٹھے ہیں، جہاں بعد میں مقدمے فائل کرنے کی کوششیں کی گئ تھیں)۔ جو حکومت پاکستان کے پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے جمع کرائے گئے تھے۔ کوئی تو اِن صحافت کے نام پر جہالت پھیلاتے سیاپا فروشوں کو بتائے کہ یورپ میں مقدمے کا فریق فیس ادا کر کے عدالتوں سے ریکارڈ کی فوٹو کاپیاں بغیر کسی حیل و حج لے سکتا ہے۔ اور یہ بات بھی کوئی سمجھانے والی ہے کہ کوئی بھی عدالت سوئس کیسز ایسے مشہور مقدمات تو کیا کسی عام کیس کے ریکارڈ کی فوٹو کاپیوں کی بجائے اصل ریکارڈ اُٹھا کر ایک فریق کو دے دے گی اور پیچھے سوفٹ یا ہارڈ کاپیز کی صورت میں کوئی بیک اپ بھی نہیں رکھے گی؟ عقل دنگ ہے کہ وطنِ عزیز میں کیسی کیسی بودی کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور ہم وطنوں کی اکثریت ایسی ہے جو ایسی جھوٹی کہانیوں کو سچ مان کر جھٹ سے ایمان بھی لے آتی ہے۔ خاندانِ شریفیہ اپنے ہر بڑے پروجیکٹ کا ریکارڈ جلا کر اِسی تھیوری کے تحت سب کو سمجھا دیتا ہے کہ اب ریکارڈ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ ضیائی اولاد یہ سمجھتی ہے کہ شاید باقی دنیا میں بھی پاکستانی عوام ایسے بغلول بیٹھے ہوئے ہیں کہ بیوروکریسی کے ساتھ مل کر بیک اپ سمیت پروجیکٹس کا سارا ریکارڈ ختم کر دیا جاتا ہے اور مشہور یہ کر دیا جاتا ہے کہ آگ لگنے کے دوران سارا ریکارڈ جل گیا ہے، لہذا اب گھپلوں کے بارے میں انکوائری ممکن ہی نہیں۔ وطنِ عزیز کے علاوہ یہ کُھلا فراڈ پوری دنیا میں کہیں بھی ناممکن ہے۔

وطنِ عزیز میں ایسے ڈھیٹ سیاستدان اور صحافی بھی پائے جاتے ہیں، جو ایک سانس میں شریفوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شریف برادران ججوں کو ہمیشہ خریدتے رہے ہیں اور فون کر کے اپنے مخالفین کو اپنی پسند کی سزائیں بھی دلواتے رہے ہیں (مگر یہ لوگ اس بات کا بھول کر بھی ذکر نہیں کرتے کہ شریف برادران کِن مخالفین کو ججوں کے ذریعے سزائیں دلواتے رہے ہیں۔) اور اگلی ہی سانس میں آصف علی زرداری کو کرپٹ ترین شخص بھی کہہ دیتے ہیں۔

سوئس کیسز چلانے والے صادق و امین فرشتوں کا فقط ایک ہی ایجنڈہ ہے کہ آصف علی زرداری کی بھرپور کردار کشی کی جائے۔ سوئس کیسز کا نام لے کر پروپیگنڈہ کرنے والے فقط پنجابی کہاوت کے مطابق ہزار جُجتوں والے ہیں ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل حقائق سے نا واقف ہوں:

1. ایس جی ایس اور کوٹیکنا نامی دونوں کمپنیوں سے نواز شریف حکومت نے 1992ء میں تجارت کے عالمی معاہدے کے تحت دستخط کیے۔ نواز شریف کی حکومت کے بعد 1994ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو ڈبلیو ٹی او کے تحت دونوں کمپنیوں کو پری شپمینٹ اِنسپیکشن کے یہ کنٹریکٹ دینے پڑے۔

2. نومبر 1996ء کو آصف علی زرداری گرفتار ہوئے۔ مئی 1997ء میں سوئس کیسز گھڑنے کے لیے اے اے زی اور بی بی کے کوڈ نام سے سوئٹزر لینڈ میں دو اکاؤنٹس کھولے گئے اور پھر جعلی خطوط بنائے گئے (اِن خطوط میں بیس بیس ملین ڈالرز بطور کمیشن مندرجہ بالا اکاؤنٹس میں بھجوانے کا ذکر تھا)، جو عدالت میں جعلی ثابت ہوئے۔

3. شریف حکومت نے سوئس حکام کے سامنے بار بار مواقف بدلے۔ سب سے پہلے ثابت شدہ جعلی اکاؤنٹس میں موجود پیسوں کو کِک بیکس کہا، پھر منی لانڈرنگ کا ڈھونگ رچایا اور آخر میں کہا کہ یہ تو منشیات کی کمائی تھی مگر سوئس حکام نے اِن کے ہر من گھڑت اور جھوٹے الزام کو رد کیا۔

4. محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو 1999ء میں سزا دلوانے کے لیے شریفوں کی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ راشد عزیز اور جسٹس ملک محمد قیوم کے ساتھ ملی بھگت، جو سپریم کورٹ میں 2001ء میں ثابت ہوئی اور شریفوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے ججوں کو گھر جانا پڑا۔ اگر یہ کیسز سچے ہوتے تو شریف برادران ججوں سے اس طرح کی گفتگو کرتے؟ (اِس آرٹیکل کی چوتھی قسط میں آڈیو ٹیپس میں ریکارڈڈ گفتگو کی مکمل تفصیل موجود ہے۔)

5. شریفوں نے پاکستانی ججوں کے ساتھ ملی بھگت کی طرز پر سوئس حکام سے بھی ملی بھگت کرنے کی بھرپور کوششیں کیں مگر سوئس انویسٹیگیٹنگ جج ڈینیل ڈیواؤ نے ابتدائی انکوائری میں بوگس ثبوت دیکھ کر مقدمات چلانا تو دور کی بات، فائل تک کرنے سے انکار کر دیا۔

6. شریف حکومت کے سوئس وکیل جیکؤس پاتھن، جنیوا کے اٹارنی جنرل (پراسیکیوٹر جنرل) ڈینیل زیپیلی، جنیوا کے دوسرے اٹارنی جنرل فرانکوئس راجر مچلی کا ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات (سوئس کیسز) کے بارے میں کھلے مواقف دے چکے تھے کہ پیش کردہ ثبوتوں کی بنا پر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کاروائی نہیں ہو سکتی۔

7. راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 30 جولائی 2011ء کو اٹھارہ گواہان کی گواہیوں کے بعد ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز کو خارج کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوتا بلکہ اِن معاہدوں سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا، جس کی تصدیق ایک آڈٹ فرم کر چکی ہے۔

آصف علی زرداری کی عہدہ صدارت سے سبکدوشی کے بعد عدالت کی بار بار کی ہدایات کے باوجود استغاثہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ اس طرح 24 نومبر 2015ء کو عدالت نے آصف علی زرداری کو بھی سوئس کیسز میں باعزت بری کر دیا۔

8. سوئس کیسز بنانے والے یعنی احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن اور نواز شریف نے آصف علی زرداری سے معافیاں مانگیں اور یہ بھی تسلیم کیا کہ انھوں نے جھوٹے مقدمات بنائے تھے۔ مزید برآں، شریف حکومت کے بعد سوئس کیسز جاری رکھنے والے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بھی ان کیسز کو میڈیا کے سامنے جعلی تسلیم کیا۔

9. جب آئین کا آرٹیکل 248 واضح طور پر کہتا ہے کہ “صدر یا گورنر کے خلاف، اس کے عہدے کی میعاد کے دوران کسی عدالت میں کوئی فوجداری مقدمات نہ قائم کیے جائیں گے اور نہ ہی جاری رکھے جائیں گے”۔ پھر سپریم کورٹ آف پاکستان صدرِ پاکستان کے خلاف اُن کی صدارت کے دوران ایک غیر ملکی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے پورے تین سال تک کیوں بضد رہی؟ یاد رہے کہ انٹرنیشنل قانون کے مطابق صدر، وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کو عالمی استثنٰی حاصل ہوتا ہے۔ مزید برآں، سوئس حکام بار بار واضح کر رہے تھے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کا جو مرضی فیصلہ آئے مگر سوئس قوانین اور انٹرنیشنل لاء اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی ملک کے صدر مملکت کے خلاف کیسز شروع کیے جا سکیں۔

10. عدالتِ عظمٰی وزراء اعظم کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹرزلینڈ میں ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ اُن بند کیسز (سوئس کیسز) کو کھلوانے کے لیے خط لکھوانے پر بضد تھی، جو سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ سوئٹرز لینڈ میں اِن کیسز کی فقط انکوائری ہوئی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی اور شواہد نہ ہونے پر سوئٹزر لینڈ میں مقدمے فائل ہی نہیں ہو سکے تھے۔ مزید برآں، یہ بوگس کیسز پاکستانی احتساب عدالت میں بھی خارج ہو چکے تھے۔

11. وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی عدالتِ عظمٰی کے حکم پر جب آئین کے آرٹیکل 248 کے مطابق سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے تیار تھے مگر عدالت اِس آرٹیکل کو پس پشت ڈال کر خط لکھوانا چاہتی تھی، جس پر عدلیہ نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں جاری کیے گئے توہین عدالت کے آرڈیننس 2003ء کے سیکشن پانچ کے تحت جرم کا مرتکب قرار دے کر منتخب وزیرِ اعظم کو نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا۔ ایک ڈکٹیٹر کو تین سال کے لیے آئینِ پاکستان سے کھلا کھلواڑ کرنے کی اجازت دینے والے ججوں نے قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم کے حق میں قرارداد اور اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا۔ مگر بعد ازاں وزیرِ اعظم پرویز اشرف سے عدالت نے سوئس حکام کو اُسی متن کے ساتھ خط لکھوایا، جس کے لیے یوسف رضا گیلانی رضامند تھے۔

12. ڈبل جیوپرڈی پوری دنیا کا مسلمہ قانون ہے یعنی ایک مقدمے کی دو بار سماعت نہیں ہو سکتی۔ پھر عدالتِ عظمٰی اپنے ہاتھ سے مئی 2001ء میں ان مقدمات کی سزاؤں کو خلاف قانون قرار دینے کے بعد دوبارہ سوئٹزر لینڈ میں کس طرح کھلوانا چاہتی تھی؟ اِس کے باوجود کہ راولپنڈی کی احتساب عدالت بھی مقدمات کو من گھڑت قرار دے کر خارج کر چکی تھی۔

13. سپریم کورٹ کے حکم پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے سوئس حکام کو بھجوائے گئے خط کا کورا جواب آیا اور سوئس حکام نے آصف علی زرداری کے خلاف کاروائی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ سوئس حکام نے اپنے جواب میں بالکل وہی موقف اختیار کیا، جو وہ ہمیشہ سے میڈیا پر دیتے چلے آ رہے تھے۔ کیا عدالتِ عُظمٰی اس قانونی موفف سے نا واقف تھی؟

حیرت ہے کہ سوئس کیسز میں ملوث صادق و امین فرشتوں کے ضمیروں سے اٹھارہ سالوں کے دوران ایک بار بھی آواز نہیں اُٹھی کہ یہ کہاں کی سیاست ہے؟ یہ کہاں کی حُب الوطنی ہے؟ یہ کہاں کی سرحدوں کی رکھوالی ہے؟ یہ کہاں کی دینِ اسلام کی پیروی ہے؟ یہ کہاں کی صحافت ہے؟ اور یہ کہاں کا اِنصاف ہے؟

محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سوئس کیسز سب سے بڑے مقدمے تھے، جس میں صادق و امین فرشتوں نے ان مقدمات میں اٹھارہ سال کے دوران قدم قدم پر دھونس، دھاندلی، لاقانونیت، پروپیگنڈے، بے شرمی اور ڈھیٹ پن کے ریکارڈز قائم کیے۔ یاد رہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر سوئس کیسز کے علاوہ بھی لاتعداد ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، جن میں صادق و امین فرشتوں کا بالکل یہی طریقہ واردات رہا، جن میں اولین مقصد صرف اور صرف محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کے ساتھ ساتھ قید و بند کی صعوبتیں دے کر سیاست سے بے دخل کرنا تھا۔

سوئس کیسز کی تفصیل جاننے کے بعد اپنے تئیں صادق و امین فرشتوں اور آصف علی زرداری کی کرپشن کی حقانیت بخوبی سمجھی جا سکتی ہے۔ ہاں البتہ ایک ذہنی کیفیت، جسے willingness to believe کہا جاتا ہے، میں مبتلا مریض کی اور بات ہے (اِس کیفیت میں آدمی ناپسندیدہ کے خلاف اور پسندیدہ کے حق میں ہر بات مان لینے پر فوراً آمادہ ہوتا ہے)۔

وطنِ عزیز میں اگر انصاف ہو تو سوئس کیسز میں ملوث شریف برادران (اپنے سرکاری اور غیر سرکاری حواریوں سمیت) اور انصاف کا سرعام قتل کرنے والے ججوں کے لیے ساری عمر کی نااہلی کے ساتھ ساتھ کم از کم اُتنی جیل کی سزا ضرور بنتی ہے، جتنی اِنھوں نے کوئی مقدمہ ثابت کیے بغیر آصف علی زرداری کو پابند سلاسل رکھ کر دی ہے۔

محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں آنے کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں صداقت و امانت کا لبادہ اوڑھے مقدس عدالتی منصب پر بیٹھے جج اور ضمیر فروش صحافی آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا مکمل ساتھ دیتے چلے آ رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کے تمام مقدمات میں باعزت بری ہونے کے بعد آج بھی اُن کے خلاف مبالغہ آرائی کے بھرپور رنگ بھرے جا رہے ہیں اور آج بھی اُن کے مخالفین انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں کرپٹ کہتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اُن کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو، دونوں بیٹوں مرتضٰی بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کی جانیں لینے کے بعد آصف علی زرداری کے خون کی پیاس میں گز گز بھر لٹکتی زبانیں یہ بات واضح کرتی ہیں کہ پاکستان میں دو گروہوں میں ایک تاریخی معرکہ لڑا جا رہا ہے۔ ایک گروہ جمہوریت، ووٹ اور آئین کی حرمت کو تار تار کرنے پر درپے ہے اور دوسرا گروہ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے ان کا راستہ روکے کھڑا ہے۔ ان سے برسر پیکار ہے، ان سے پنجہ آزمائی کرنے، گتھم گتھا ہونے یا ملکی اداروں کی توہین کرنے کی بجائے ایک جہد مسلسل، ایک عزم اور ایک صبر مسلسل کے ساتھ ستمگروں کے سب ستم ہراتے ہوئے ارتقائی طریقے سے قوم کو درکار اصل منزل کے قریب تر کر رہا ہے۔ اپنے تئیں صادق و امین فرشتے مت بھولیں کہ غیر جانبدار مورخ اپنی تجربہ کار آنکھوں سے ٹکٹکی باندھے سب کچھ دیکھ رہا ہے، سب مناظر اُس کے ذہن کی لائبریری میں محفوظ ہو رہے ہیں اور وہ معاملات کی گہرائی میں اتر کر کسی پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر انتہائی بے دردی سے کسی لیپا پوتی کے بغیر اپنے قلم سے تاریخ لکھ رہا ہے۔ جس سے سب کچھ واضح ہو کر رہے گا۔ اسی حساب سے آج کے کردار آئندہ تاریخ میں پہچانے جائیں گے کہ کون قوم کا غدار تھا اور کون وفادار؟

(ختم شُد)

بچھلی قسط

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی آخری قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، چھٹی , ساتویں ، آٹھویں ، نویں اور دسویں پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ