بریکنگ نیوز

عزمِ بے نظیر

0c2647f4-cf3f-43a4-a3c1-2a6faedac6d2.jpg

تحریر: علی جمیل

سرد موسم اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں دھند کا راج ہر سال کی دہرائی جانے والی حقیقی داستان ہے۔ ایسے میں جب کبھی سورج کا دیدار ہو تو جسم سے روح تک دھوپ کی حدت سے فیض پانے کے لئے بے قراری ہر چھوٹے بڑے اور خاص و عام کی فطری خواہش ہوتی ہے۔

اسلام آباد سے اپنے آبائی گاؤں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ چند دنوں سے دھند کا راج ہے اور دھوپ کے نا ہونے کی وجہ سے موسم کافی سرد ہو چکا ہے۔ لیکن ہماری قسمت بہت اچھی تھی کہ اس بار ویک اینڈ پے سورج چار روز بعد پوری آب و تاب سے لوگوں کو زندگی کی نوید سنا رہا تھا ۔ دروازہ کی بیل بجنے پر معلوم پڑا کہ کچھ دوست ملاقات کے لئے تشریف لائے ہیں۔ گھر کے ساتھ منسلک  باغیچے میں ہم سب دوست اپنی گپ شپ کی محفل سجائے دھوپ کی تمازت سے محظوظ ہو رہے تھے۔

اتنے میں چھوٹا بھائی سنگتروں سے بھری ٹوکری اٹھائے آن پہنچا۔جِسے دیکھتے ہی سب کی بانچھیں کھل اٹھیں۔ سردیوں کی دھوپ میں رس بھرے سنگتروں نے دوستوں سے گپ شپ کا لطف دوبالا کر دیا۔

کچھ دیر بعد بھائی ہاتھ میں باغبانی کے کچھ اوزار تھامے باغیچے میں داخل ہوا اور کیاریوں کے ساتھ بیٹھ کر انہیں بنانے سنوارنے میں مصروف ہو گیا۔ اسی دوران قصور اور مردان کے واقعات جو آجکل زبانِ زدِ عام ہیں محفل کی بحث کا حصہ بن گئے۔ سب دوست اپنی اپنی رائے دے رہے تھے لیکن میرا دھیان مسلسل اپنے نوجوان بھائی کی طرف تھا جو بہت انہماک کے ساتھ کیاریوں کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ نوخیز کھلتی کلیوں اور چھوٹے خوشبودار پھولوں کے ارد گرد سے کانٹے اور گلے ہوئے کیڑا لگےپتوں، جڑی بوٹیوں کو ہٹانے میں مگن تھا۔  پھر وہ پھولوں،کلیوں اور پودوں کو ہلکی پھوار سے پانی دینے لگا۔ اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اس کام کو  انتہائی توجہ اور احتیاط سے سر انجام دینے کی کوشش کر رہا ہو ۔ دوستوں کی گفتگو لمحہ بھر کے لئے رک گئی سب اسے دیکھنے لگے اور ہم سب کو اس کے انداز سے محسوس ہوا کہ جیسے وہ ان کلیوں اور پھولوں کی کچی عمر کے حساب سے ان کی تربیت میں حصہ لے رہا ہو اور ارد گرد کے ماحول کو ان کی پرورش کے لئے سازگار بنا رہا ہو۔

قصوراورمردان میں بچیوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کی لاحاصل بحث کو لپیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے سب دوست اس نتیجہ پر پہنچے کہ مقامی انتظامیہ کے قابلِ رشک افسران، الیکٹرونک میڈیا کے بازی گر اور پنجاب و کے پی کے حکومت کے شعبدہ باز اپنے اپنے کیچڑ سے لُتھڑے ہاتھ سفید ملبوسات کے پیچھے چھپانے میں مصروف ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اپنے ہاتھوں پے لگا کیچڑ دوسروں پے اچھالنے میں کوئی موقع گنوانے سے باز نہیں آرہے۔

خاص کر عرصۂ دراز سے بلا شرکت غیر پنجاب کا حکمران خاندان ہر اندوہاک واقع کے بعد کسی کو لفظوں کے جال میں پھنسا کر اور کسی کو جذبوں کی ڈھال سے دھوکہ دے کر اپنا وقت نکال رہا ہے۔ ان واقعات کے سدِباب کے لئےکوئی عملی اقدام نہیں کر رہے اور الٹا متاثرہ لوگوں کی عزت اچھالنا ایک معمول بن چکا ہے۔

قریب دو گھنٹے ہم سب دوست پاکستان کے موجودہ حالات اور سیاسی قیادت پر لاحاصل بحث میں مصروف رہے اور اس دوران نوجوان بھائی مسلسل باغبانی میں مشغول رہا ۔۔ کلیوں، پھولوں اور کیاریوں کے ساتھ ساتھ وہ باغ میں موجود پودوں اور درختوں کی دیکھ بھال میں بھی مگن تھا۔

اسی اثناء میں دوستوں نے اجازت چاہی اور دوبارہ ملاقات کا وعدہ کرنے کے بعد وہاں سے چل دیئے ۔میں آرام دہ کرسی پر دراز ہو گیا اور میری سوچ تخیل کے پر لگائے اِس چمن(پاکستان) کے باغبان کو ڈھونڈنے میں محوِ پرواز ہو گئی۔

فاٹا سے کے پی کے، کشمیر سے گلگت، شمالی، وسطی اور جنوبی پنجاب سے بلوچستان اور سندھ تک سوائے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو اور دخترِ مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو کے نوجوان لعل بلاول بھٹو زردای کے سوا کوئی بھی قابلِ قدر، مُحبِ وطن اور نوجوان سیاستدان دکھائی نہ دیا۔

نوجوان بھٹو نے قصور اور مردان کے اندوہناک واقعات سے متعلق کراچی میں اپنی ایک پریس کانفرنس میں کسی پر کیچڑ نا اچھالا اور معاشرے کی بہتری کے لئےحقیقت سے بالکل انکار نا کرتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کرنے اور تعلیمی نصاب کے ذریعے عملاً جدوجہد پر زور دیا۔ اعداود شمار کے مطابق سندھ کے 29 اضلاع میں بچوں کے لئے حفاظتی مراکز، اور ان کے کام کے حوالے سے آگاہی دی اوراس کے ساتھ ساتھ تعلیمی نصاب میں ان کی تربیت پر زور دیا۔  تمام صوبائی وزرائے اعلٰی پر زور دیتے ہوئے ملکِ پاکستان کے بچوں کے لئے اور معاشرے کے بگاڑ کو سدھارنے کے لئے مل کر کردار ادا کرنے کی گذارش کی۔ بتائے گئے اعدادو شمار اور طریقہ کار کو ملک کے لوگوں بشمول اساتذہ، علماء، سول سوسائٹی اور والدین نے بہت زیادہ سراہا۔

ڈیووس میں بلاول بھٹو زردای نے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے دوران بین الا قوامی قیادت اور پریس کی موجودگی میں انتہائی ذمہ داری کا مظا ہرہ کرتے ہوئے ہر محاذ پر پاکستان کے مفاد کی وکالت کی۔دنیا کے بڑے بڑے لیڈران کی موجودگی کے باوجود بلاول بھٹو کا اندازِ خطابت اور منجھے ہوئے میڈیا کے تند وتیزسوالات کے جوابات کو بین الااقوامی سطح پر غیر معمولی اہمیت ملی۔

پاکستان اور دنیا کےاعلٰی پائے کے مفکروں، تجزیہ نگاروں اور صحافیوں نے پاکستان کے اندر اور باہر ڈیووس کی اس مہم کے دوران پھر سے بھٹو صاحب کے لہجے اور بی بی کی سیاسی بصیرت کا امتزاج نوجوان بھٹوکی صورت میں محسوس کیا۔

مثبت سوچ کے مالک افراد یہ بات من وعن تسلیم کر رہے ہیں کہ نوجوان بلاول بھٹو زرداری ملک وملت کے مفاد اور اس سے جُڑے ہوئے معاملات کو درست سمت میں چلانے کے لئے عزمِ بے نظیر کا اعادہ کر چکے ہیں۔ ان کا یہ عزمِ بے نظیر ہمالہ کی چوٹیوں کی مانند بلند اور فطرت میں اس پرندے کی مانند دکھائی دے رہا ہے جو اُڑنے کی ٹھان لے تو ہوا کو رستہ دینا ہی پڑتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ