بریکنگ نیوز

کالمی سفر

IMG-20170730-WA0001.jpg

“کالمی سفر”
تحریر ثاقب ملک
کبھی کبھی لگتا ہے ہم سیاست ہی نہیں ہر شعبے میں سرابوں کے پیچھے بھاگتے زندگی ضائع کر رہے ہیں.لیڈر جو خدا کا منتخب شدہ لگنے لگتا ہے اسکا کعبہ ہمارے جیسا ہی خام مال نکلتا ہے. روحانیت کا سراب کہ شعبدہ بازی اور نفسیاتی پیچیدگی کے شناور لوگ ہمیں اہل ذکر لگتے ہیں. صحافی اور کالم نویس کہ جن کا لکھا اٹل حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں وہ خود اٹکل پچو پر چلتے ہیں. . ادیب ایسے کہ انکے فہم و ادراک پر سر دھنتے ہیں جو کسی جام یا کسی کے در پر خود سر دھن رہے ہوتے ہیں. ہمارا زمانے کا المیہ تنزلیوں کی ترقی ہے.

لڑکپن میں مجھے یاد ہے کہ گھر میں دو اردو اخبار باقاعدگی سے آتے تھے. ایک جنگ اور دوسرا مفت اور زبردستی ملتا تھا روزنامہ الاخبار..ایک آدھ دن ہاکر اخبار نہ پھینکتا تو فون کرنے پر، الاخبار کے سینئر ایڈیٹر پلس دیگر سٹاف جو صرف سیکیورٹی گارڈ پر ہی شاید مشتمل ہوتا تھا، خود آدھ درجن اخبار ہمارے گھر پھنکوا جاتے تاکہ خاندان کے ہر فرد کے پاس اپنا ذاتی الاخبار ہو. وہی اخبار جس کے ایڈیٹر، کالم نگار، پرنٹر اور ہاکر سب کچھ غلام اکبر ہوتے تھے اور شاید ابھی بھی ہیں، امکان ہے کہ اپنی وفات تک انکی یہ حیثیت برقرار رہے گی . گیارہ بارہ برس عمر ہوگی تب غلام اکبر کی “پہلی بات” سے واسطہ پڑا. جناب نشاۃ ثانیہ کا لفظ اس مذہبی عقیدت سے بیان کرتے تھے کہ ایک طویل عرصہ میں نشاۃ ثانیہ کو کوئی الہامی لفظ سمجھ کر اسے عقیدت کے جھولے میں پالتا رہا. بعد میں عقل پر پردے کچھ ہٹے تو پتہ چلا کہ موصوف بس جذبات ابھار کر اپنا دال دلیہ چلاتے ہیں. مزید کیا کہا جائے کہ ان پر عجیب عجیب الزامات لگتے رہے جو انکی عمر سے میچ نہیں کرتے. بہرحال جناب پوری تندہی سے عالم اسلام کے چمپیئن ہیں اور لوگوں کو جذباتی دھوکا دے رہے ہیں.

ڈائجسٹ، کتابوں کی کہانی پھر کبھی چھوڑتے ہیں. شعور میں سرگزشت، جاسوسی، حکایت، اردو اورسیارہ ڈائجسٹ شامل تھے. ریڈرز کبھی کبھار اور ایمبیسز کے میگزین بھی چاٹے جاتے. اخبار جہاں، فیملی، اخبار وطن، کرکٹر، وزڈن سب پڑھے. وہی جو نوے کے دہائی میں ہوش سنبھالنے والے کرتے رہے.

پھر جاوید چوہدری کو پڑھا. لگا دنیا میں اس سے بہتر شاید کسی نے لکھا ہی نہیں. یہ قبل از انٹرنیٹ اور گوگل کی بات ہے تو جاوید چوہدری علم اور انفارمیشن پلس افسانہ نگاری کا بادشاہ لگتا تھا. لیکن برا ہو ایکسپریس نیوز کا کے انھوں نے موصوف کو ٹی وی پر بٹھا دیا. برسوں بعد جب جاوید چوہدری کو ٹی وی پر بولتے دیکھا اور سنا تو اپنی دس برس کی حماقت پر آج دس برس گزر جانے کے باوجود بھی غصہ آتا ہے. چول پن مجھ پر ختم ہے شاید، جو ایسے پر فدا رہے. اب ردعمل سے اتر کر کچھ متوازن انداز میں موصوف کی قلمی حماقتیں سمجھیں ہیں تو مزید غصہ آتا ہے. ایک مشہور پامسٹ نے بتایا کہ جاوید چوہدری کریمنل ہے تو یقین نہ آیا لیکن وہ بضد رہے. رؤف کلاسرا نے ان پر دھوکے کا الزام لگایا یقین نہ کیا. آخرکار سوشل میڈیا کے اور ایک نوجوان کالم نگار نے اپنے ساتھ ہونے والے فریب کی روداد بتائی تو دل میں کہا ” ثاقب آپ کو یہ تسلیم کرنے پڑے گا کہ یہ دال ہی کالی ہے.”

اسی دوران اس وقت کالی داڑھی والے ہارون الرشید کو پڑھنے کی کوشش شروع کی جو آج تک جاری ہے. اب انکی داڑھی سفید ہے لیکن سمجھ کر پڑھنے کی کوشش جاری ہے. بہرحال جاوید چوہدری کو بچپن کی غلطی سمجھ کر اب بھی پڑھتا رہتا ہوں تاکہ لطف اٹھا سکوں کیونکہ کالم دلچسپ بنانا اس پر ختم ہے. ہارون الرشید کو پڑھتے ہوئے احساس رہتا ہے کہ ہم بڑے ہوگئے ہارون صاحب اپنی باکمال نثر کے ساتھ وہیں کھڑے ہیں. انکا اپنا معیار سے نیچے نہ گرنا ہمارے زوال کے دور کی واحد کامیابی ہے. لیکن اب لگتا ہے ہارون الرشید کو نہ سمجھنا ہی بہتر تھا کچھ باتوں کا پردہ ہی اچھا. متلون مزاج اور خوددار اور بے باک ہیں تو ضدی بھی لگتے ہیں اس لئے درجنوں ہی متضاد کالم بمع متضاد انفارمیشن اور مسلسل غلط انفارمیشن کے چلائے جاتے ہیں. ہارون صاحب پھر بھی آج کے دور میں غنیمت ہیں. ایم کیو ایم کی بدمعاشی کے عروج میں انکے منہ پر منہ توڑ جواب دیتے. کراچی میں نہ ہونے کا ایڈوانٹج انھیں دیا بھی جائے تو بھی انکے مزاج یہی ہے. لیکن انکے اپنی ڈکشن میں، میں انکی فسوں خیزی کو اب میں انسانی لیول پر لے آیا ہوں. گو اسلام آباد کے کچھ پرانے جاننے والے ان پر سخت تنقید ہی کرتے ہیں.ممکن ہے حسد وجہ ہو. ایک شاعر جو اسلام آباد میں پرانی کتابوں کی دوکان چلاتے ہیں، بچپن میں انہی کی دوکان پر جا کر کھڑے کھڑے پورا میگزین پڑھ جاتا تھا وہ ہارون الرشید پر الزام دھرتے ہیں. بہرحال یہ کہانیاں تو صحافت کے لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہیں. ہارون صاحب کے درویشوں نے بڑا گمراہ کیا. انکی کہانی پھر کبھی.

پیروڈی پر ایک دلچسپ قصہ بنتا ہے. میں ہارون الرشید صاحب کے کالمز کی پیروڈی کرتا رہتا ہوں تو کراچی میں مقیم ایک معروف صحافی اور ایک روزنامہ کے ایڈیٹر جو کشادہ دلی اور شفقت سے میری حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے ان سے کراچی میں سیک سیمنار میں شرکت کے سلسلے میں ملاقاتیں ہوئیں. انھوں نے بتایا کہ ہارون الرشید صاحب سے پرانی دوستی ہے انکا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے انکی بھد اڑانے کے لئے پیروڈی کا سلسلہ شروع کیا ہے. تب ان محترم صحافی نے تصیح کی کہ یہ تو آپکے پسندیدہ کالم نگار عامر خاکوانی کا دوست/برخوردار ہے میری بھی بات ہوتی ہے. پیڈ نہیں ہے. ہارون صاحب کو شاید تامل تھا خیر بعد میں اتنے بڑے کالم نگار نے اپنے کالم میں میری پیروڈی کی ستائش کی جو کہ انکی کشادہ ظرفی کی دلیل ہے. اسلام آباد ہی کے ایک مشہور شاعر اور کالم نگار نے بتایا کہ ہارون صاحب موڈ میں ہوں تو فرشتہ ہیں. کئی مجبوروں کی مدد کرتے رہتے ہیں. زیادہ زور موڈ پر دیا. دل چاہا تو سر درد پر گھر پوچھنے آجائیں گے وگرنہ کسی بچے کی شادی پر بھی غائب ہونگے.

اس کالمی سفر میں اگلا پڑاؤ ارشاد احمد حقانی تھے. انکے بعد خوشنود علی خان، رؤف کلاسرا، اوریا مقبول جان، عامر خاکوانی، حسن نثار، انصار عباسی اور دیگر آتے ہیں انکی کہانی اگلی بار.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ