بریکنگ نیوز

مسلئہ کشمیر اور تحریک کشمیر

0124A12D-92DF-4104-8BEC-96C5099FC221.jpeg

گزشتہ دنوں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اسلام آباد میں ماضی حال اور مستقبل تحریک کشمیر کے نام سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا اس میں ملکی اور غیر ملکی سکالرز نے شرکت کی . کانفرنس کے شروع میں حریت راہنما سید علی گیلانی کا ویڈیو ریکارڈڈ تقریر بھی ہوئی .
اس کانفرنس میں جہاں ملکی و غیر ملکی سکالرز اپنے ریسرچ پیپرز پڑھنے کے لئے مدعو تھے وہیں میرے جیسے تحریک کشمیر پر کسی نئی چیز کی تلاش میں بھی موجود تھے۔
اور پھر مقررین کی وہی رٹی رٹائی ہوئییں باتیں تو پھر بوریت تو ضرور ہوتی ہے ایسے میں پروفیسر طاہر ملک کے ایک دوست چوہدری سعید جو جرمنی سے آئے ہوۓ تھے اور انکی پی ایچ ڈی کی ریسرچ جرمنی کی یونیورسٹی میں مسئلہ کشمیر پر تھی۔
ان سے دوران کانفرنس انٹریو کا موقع مل گیا مجھے شق سا تھا کہ شاید انکا تعلق بھی کشمیر سے ہے تبھی انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ریسرچ کی ہوگی جب ان سے انکے آبائی وطن پوچھا تو بتانے لگے کے ضلع فیروز پور بھارتی پنجاب سے ہے ہم لوگ پاکستان بنتے وقت پاکستان ہجرت کر کہ آئے تھے ان کی عمر 80 سال سے زیادہ تھی مگر تحریک کشمیر پر انکی نظر خوب تھی ان سے زیادہ سوالات پاکستان ایمبیسی جرمنی کہ حوالے سے کیے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو اجاگر تو کررہی ہے مگر چار دیواری کہ اندر جسکی بینالقوامی میڈیا میں بالکل کوریج نہیں ملتی بالکل ایسا ہی انہوں نے ایک حالیہ قصہ سنایا کہ اس سال 5 فروری پاکستانی ایمبیسی جرمنی میں بھی کشمیریوں کیساتھ یوم یکجہتی کے حوالے تقریب کا انعقاد کروایا مگر افسوس اس بات کا کسی بھی جرمنی کی یا کسی بھی اور بین الاقوامی میڈیا کی کوریج نہ تھی اور تو اور جو پلے کارڈز تھے ان پر جو تحریریں لکھیں تھیں وہ بھی اردو میں تھیں. ایسے میں تحریک کشمیر کا عالمی میڈیا میں کوریج ملنا ناممکن ہی ہے اور دوسری طرف بھارت نے ایسی چال چلی ہوئی ہے کہ کسی بھی عالمی اخبار یا چینل پر تحریک کشمیر کے حوالے کو سرخی نہیں بننے دیتا.
مسئلہ کشمیر اور تحریک کشمیر پر انکی گہری نظر ہونے کی بنا پر ڈاکٹر سعید چوہدری سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے نوجوان خودمختاری کا نعرہ کیوں لگا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ 70 سالوں میں پاکستان آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی صحت تعلیم غرض کسی بھی شعبہ میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کرواسکا اگر یہ چیزیں پاکستان آزاد کشمیر میں کروا دے تو امید کی جا سکتی ہے جیسے مشرقی جرمنی والوں نے مغربی جرمن میں تعمیر وترقی دیکھی تو برلن دیوار توڑی ایسے ہی مقبوضہ کشمیر کے لوگ لائن آف کنٹرول توڑ کر متحدہ کشمیر کر سکتے ہیں ۔ انکا کہنا تھا کہ جس طرح عالمی میڈیا شام یمن فلسطین روہنگیا کے مسئلہ پر آواز اٹھاتا ہے ایسے کشمیر کی آواز کیوں نہیں اٹھاتا ایسے میں دیکھنا ہو گا دفتر خارجہ پاکستان کو کہ وہ کس طرح کشمیر کا مقدمہ بہترین انداز میں لڑ سکتے ہیں.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ