بریکنگ نیوز

چھوٹا بھائی

WhatsApp-Image-2018-02-24-at-11.18.28-PM.jpeg

چھوٹا بھائی
تحریر شکیل ملک
اللہ کرے چھوٹا بھائی کوئ نہ بنے۔ ہر بھائی کو بڑا ہونا چاہئے ورنہ چھوٹے کی تو ہر وقت شامت آئ رہتی ہے۔ اگر گیٹ پہ گھنٹی بجے تو بڑے بھائ فوراً چھوٹے بھائ کو حکم جاری کرتے ہیں،” دیکھو باہر کون ہے اگر کوئ میرا ہو تو اسے بتانا میں گھر پہ نہیں ہوں۔” یوں چھوٹے بھائ کو نہ صرف باہر جاکر چیک کرنا پڑتا ہے بلکہ جھوٹ بھی بولنا پڑتا ہے۔ بازار سے سودا سلف لانا ہو اور اگر ماں نے بڑے بھائ کو کہہ دیا تو اس کا فوراًجواب یہ ہوگا کہ چھوٹا کس لئے ہے۔ یعنی ہر چھوٹا بھائ سوداسلف لانے کے لئے دنیا میں وارد ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اگر بڑے کو ہی کہا جائے تو کہتا ہے، ” میں کبھی کچھ لایا ہوں کہ مجھے کچھ پتہ ہو۔ چھوٹے کو سب پتہ ہوتا ہے۔ ” جب کبھی چھوٹا بھائی کہہ دے کہ اس نے دوسرے شہر دوستوں کے ساتھ جانا ہے تو بڑا بھائی فوراً اعتراض کرتا ہے کہ اس کو تو دنیا کا کچھ پتہ نہیں۔ اسلئے نہیں جاسکتا۔
ہم بھی چھوٹے بھائی تھے۔ ہمارے بڑے بھائ جلیل ملک ہم سے بہت بڑے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہم دنیا میں صرف ان کے کاموں کے لئے آئے ہیں۔ وہ آج بھی ہمیں چھوٹا ہی سمجھتے ہیں اور بیگم صاحبہ کے دئے گئے احکامات ہم پہ جاری کرتے ہیں۔ اب ڈبل کام ہوگیا ہے۔ اس طرح ہمارا کام بھی بڑھ گیا ہے۔ جلیل ملک بھائ نہ صرف ہم پہ زبانی حکم چلاتے تھے بلکہ اکثر ہاتھا پائ پہ بھی اتر آتے۔ اس میں ہمیشہ انہی کا پلڑا بھاری رہتا۔ ہمیں ان کا ہر کام کرنا پڑتا۔ انکے کپڑے استری کرنا، انہیں پانی ڈال کر دینا، جوتے پالش کرنا، انکے دوستوں کے سامنے جھوٹ بولنا: اب یہ کام اکثر انکی بیگم کے سامنے کرنا پڑتا ہے۔
جلیل ملک جب شام کو دفتر سے واپس آتے تو ہم گراؤنڈ میں کرکٹ یا گلی ڈنڈا کھیل رہے ہوتے یا پتنگ اڑا رہے ہوتے۔ دوست ہمیں چھیڑتے کہ بھائی جان آگئے ہیں۔ ہم اس جانب دیکھے بغیر ہی گھر کی جانب دوڑ لگا دیتے۔ کئ بار ایسے ہوا کہ بھائ جان تو نہ آئے ہم پتنگ اور ڈور وہیں چھوڑ کر گھر پہنچ گئے۔ بعد ازاں ہمارے شرارتی دوستوں نے پتنگ اور ڈور پہ قبضہ کر لیا۔ یہی ان کا مدعا ہوتا تھا۔ اس طرح ہم نے خیالی بھائ جان کی آمد سے بھی اکثر بہت نقسان اٹھایا۔ جب کبھی وہ حقیقت میں وارد ہوتے تو گراؤنڈ میں موجود سب کھلاڑی تماشبین بن جاتے۔ ہماری حالت اس بکرے جیسی ہوتی جسے کبھی ٹوپی پہن کر سسرال روانہ ہونا پڑتا ہے یا کبھی دس اینٹوں پہ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ تماشبین تالیاں بجا کر بھائی جان کو داد دیتے۔ ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ہمارے ہی ہمجولی ہماری درگت بنتے دیکھ کر اتنے خوش کیوں ہوتے تھے۔ سنجیدہ خان محتاط کہتے ہیں کہ چونکہ اس زمانے میں میڈیا تماشے نہیں ہوتے تھے لہذا ہم ان کے لئے حظ کا باعث تھے۔
بھائ جان ہماری زندگی کے ہر کام میں دخل اندازی کرتے تھے۔ ہمارے دوست راجہ گوگل پہلی بار گاؤں سے شہر کے لئے نکلے تو انکی اماں نے ایک تھیلے میں آٹے کے چند پیڑے بنا کر انہیں دئے کہ شہر میں بھوک لگے تو پکوا کر کھا لیں۔ وہ گوجر خان پہنچے تو صبح صبح انہوں نے دیکھا کہ ایک حلوائ تیل کےکڑاہے میں بہت چھوٹے چھوٹے پیڑوں کی پوریاں بنا کر پھینکے جارہا ہے۔ راجہ گوگل نے پوچھا، ” تساں کے پئے تلنے او؟” حلوائ نے انہیں دیکھے بغیر جواب دیا، ” لچیاں”۔ راجہ گوگل نے تھیلے سے ایک پیڑا کڑاہے میں پھینکتے ہوئے کہا، ” ایہہ لے مہاڑا لچ وی تل۔ ” بھائی جلیل بھی ہمارے ہر کام میں اپنا لچ تل دیتے تھے۔
انہوں نے اپنے بقول ہماری زندگی کا ہر کام ( اپنے لچ سے) سیدھا کیا ورنہ ان کے نزدیک ہم کبھی بھی صراط مستقیم پہ نہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہم ایک پیدائشی گناہ گار واقع ہوئے تھے۔ ہماری ساری رغبت دنیا کی جانب تھی کہ ہم ہر وقت کھیل کے موڈ میں رہتے تھے۔ بھائ جان کے خیال میں گلی ڈنڈا غنڈوں کا کھیل تھا۔ پتنگ اوباش نوجوان اڑاتے تھے جنہیں پتنگ اڑانے کے ساتھ ساتھ سگریٹ پینے کی عادت بھی ہو جاتی تھی۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ پتنگ اور سگریٹ کا آپس میں کیا تعلق ہے لیکن بھائ جان کے نزدیک دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سنجیدہ خان محتاط کا خیال تھا کہ بچپن میں بھائی جان نے پتنگ اڑاتے ہوئے اتفاقاً سگریٹ بھی پی لئے ہونگے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ہر پتنگ اڑانے والا اس عادت کا شکار ہوتا ہے۔
ہم جب بھی کبھی پتنگ اڑا کر آئے اور بھائی جان کو اس کی بھنک پڑ گئ انہوں نے گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے ہمیں ایک عدد تھپڑ رسید کیا اور ہمارا منہ سونگھا کہ سگریٹ کی بو آرہی ہے یا نہیں۔ ہم ایک آدھ بار سگریٹ پینے والے دوستوں کی محفل میں کچھ دیر بیٹھ کر آئے۔ بھائ جان نے جب سونگھا تو انہیں ہمارے کپڑوں سے سگریٹ کی بو آئئ۔ اس دن انہوں نے ہم پہ تھپڑوں کے کوئی سترہ حملے کئے۔ ہر حملے پہ وہ پوچھتے کہ پھر پتنگ اڑاؤ گے۔ ہم جواب دیتے کہ ہم نے آج کوئی پتنگ نہیں اڑائ لیکن انہیں یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ سگریٹ کی بو سے سمجھ رہے تھے کہ ہم نے اس دن ایک نہیں کئ پتنگیں اڑائیں۔
بھائی جان کا خیال تھا کہ کرکٹ نکموں کا کھیل ہے۔ اس میں وقت کا بہت ضیاع کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ ہٹلر سے منصوب ایک واقع بھی سنا دیتے کہ جس میں ہٹلر نے وقت ضائع کرنے پہ پوری ٹیم مروا دی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ہماری کھیلوں اور انٹریٹمنٹ کی ایسی سرگرمیوں پہ بھائ جان کے پے درپےلچ کی وجہ سے ہم ان چیزوں سے تائب ہوکر مسجد کی طرف مائل ہوگئے لیکن وہاں بھی ذیادہ دیر نہ ٹھہر سکے۔ مولوی صاحب ہمیں بھائی جان پلس لگے۔ کبھی وہ ہمیں اگلی صف پہ کھڑے ہونے پہ ڈانٹتے تھے اور کبھی گفتگو کرنے پہ سرزنش کرتے۔ کبھی سنتیں پڑھتے دیکھ کر اچانک سجدے میں ہماری گردن پکڑ لیتے اور دباتے کہ ناک رگڑ کر سجدہ کرو۔ ہم نے دو ماہ بعد وہاں جانا بھی چھوڑا اور پٹھو گرم پہ لگ گئے۔ یہ کھیل ہمیں اچھا لگا۔ اس میں صرف ایک گیند چاہئے ہوتی تھی جو سنجیدہ خان محتاط کی جیب میں ہر وقت موجود ہوتی۔ کسی پرانے مٹی کے برتن کو توڑ کر اسکی ٹھیکریاں بنا لیتے۔ شروع میں ہمیں اس کھیل میں مہارت نہ تھی لہذا سب سے ذیادہ گیند ہمیں ہی ماری جاتی۔ ہمیں بھائی جان یاد آجاتے۔ گھر پہنچتے تو بھائ جان ہمارے کپڑوں پہ گیند کے نشانات دیکھ کر دو تھپڑ رسید کر دیتے۔ ایک دن گیند ہماری عینک پہ آلگی۔ عینک کے دو ٹکڑے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے گھر داخل ہوئے تو عینک نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ایک ہیولہ سا دکھائ دیا۔ ہم خوش ہوئے کہ یہ چچا جان ہیں انکی جانب لپکے لیکن آگے بھائی جان نکلے۔ پھر سترہ حملے ہوئے اور بھائ جان نے پٹھو گرم پہ پکی پابندی عائد کر دی۔ انہوں نے فتوی بھی جاری کیا کہ اسلام میں ایسا کھیل حرام ہے جس میں نقسان کا اندیشہ ہو۔
پٹھو گرم کے حرام قرار پانے کے بعد ہم نے لڑکیوں کے ساتھ ” چینجو” کھیلنا شروع کی۔ یہ گیم خانے بنا کر پالش کی ڈبیا سے کھیلی جاتی تھی۔ ایک دن بھائ جان نے ہمیں لڑکیوں کے ہمراہ ایک ٹانگ پہ خانوں میں اچھلتے دیکھ کر باہر نکالا اور وہیں لڑکیوں کے سامنے تھپڑ رسید کئے۔ لڑکیوں کی ہنسی رکنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ اس دن ہمیں اپنی بہت سبکی محسوس کی۔ گھر جاکر والدہ سے شکائت کی تو بھائ جان نے فرمایا کہ ہم بےحیائئ پھیلا رہے ہیں کہ لڑکیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ اس کے بعد یہ گیم بھی ہم پہ حرام قرار پائئ۔
اب ہم نے سگریٹ کی ڈبیاں اکٹھی کرنا شروع کر دیں۔ رنگ برنگی ڈبیاں ہمیں بہت اچھی لگتی تھیں۔ کچھ دوست پہلے سے یہ کھیلتے تھے۔ جس کے پاس ذیادہ مہنگے سگریٹوں کی ڈبیاں اکٹھی ہو جاتیں وہ اوّل قرار پاتا۔ ہماری قسمت ایسی تھی کہ ہمیں ذیادہ کےٹو سگریٹ کی ڈبیاں ہی ملتی تھیں۔ ایک دن بھائی جان نے ہمیں ایک کے ٹو کی ڈبی ٹٹولتے دیکھ لیا۔ اس دن تو شامت ہی آگئ۔ بھائ جان نے والدہ کو بتایا کہ یہ
کے ٹو سگریٹ کے ٹوٹے نکال کر پیتا ہے۔ والدہ نے بھی انہیں کہا کہ اس کو آج بہت مارو۔ ہمارا یہ کھیل بھی بند ہوگیا۔ پھر ہم نے “کوکلے”کھیلنا شروع کی۔ یہ گیم ایسی تھی کہ کوئلے سے پتھروں اور دیواروں کی خفیہ جگہوں پہ کئ لکیریں ڈال دیتے جو باقی دوستوں کو ڈھونڈ کر گننا پڑتیں۔ اس میں جس کی خفیہ لکیریں گننے سے بچ جاتیں وہ بعد میں سب کے سامنے گنتا اور مختلف تعداد میں لکیروں سے جیت جاتا۔ بھائی جان کو اس پہ بھی بہت اعتراض ہوا کہ ہم مختلف سوراخوں میں خفیہ جگہیں ڈھونڈتے ہیں جس میں سانپ کے کاٹے کا اندیشہ ہے۔ یہ پہلا قدم تھا جو انہوں نے ہماری جان بچانے کے لئے اٹھایا۔
اب بیرونی گیمز ختم ہو چکی تھیں۔ بھائی جان کے لچ اور پابندی کی وجہ سے ہم گھر میں مقید ہوکر رہ گئے۔ ہم نے جاسوسی ناول اور ڈائجسٹ پڑھنا شروع کئے۔ عمران سیریز، ٹارزن، انسپکٹر کامران، دیوتا وغیرہ ہماری پسندیدہ تحریریں بن گئیں۔ بھائی جان جب ہمارے ہاتھ میں کوئ ناول دیکھتے لیکر پھاڑ دیتے کہ ہم اپنی پڑھائ سے دور ہوگئے ہیں اور یہ کہ اپنا مستقبل تباہ کرنے پہ تل گئے ہیں۔ پھر ہم نے ناول ٹیسٹ پیپرز کے اندر رکھ کر پڑھنا شروع ہوگئے۔ بقول سنجیدہ خان محتاط بھائی جان ہمارے انہماک سے اندازہ لگا لیتے کہ ہم کوئ تعلیمی کتاب نہیں پڑھ رہے بلکہ ناول پڑھ رہے ہیں۔ وہ عقاب کی طرح آتے اور ناول نکال کر پھاڑ ڈالتے۔ ہمیں افسوس ہے کہ یوں کئ ناول آدھورےہی رہ گئے۔ ہم نے پھر ایک اور ترکیب نکالی کہ رات کو روشنی میں اپنے اوپر چادر اوڑھ کر اکڑوں بیٹھ جاتے اور بلب کی چھنتی روشنی میں ناول پڑھتے۔ بھائی جان اچانک لائٹ آف کر دیتے۔
بڑے بھائی نے اس طرح ہماری زندگی میں نہ صرف ہم سے خدمت کروائی بلکہ ہر کام میں لچ تلے۔ انہوں نے کئ جگہوں پہ ہماری شادی بھی نہ ہونے دی۔ کوئ نہ کوئی خامی نکال لیتے تھے۔ انہوں نے یہ لچ ہر اس جگہہ تلا جہاں ہمیں لڑکی پسند آگئ۔ ان کا خیال تھا کہ ہم پختگی سے عاری ہیں۔ جن وجوہات کی بنا پر ہم لڑکی پسند کرتے ہیں وہی انکے نزدیک ناپسندیدگی کی وجہ ہوتی ہے۔
ہمارے دوست سنجیدہ خان محتاط بھی اپنے سات بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ انکی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ محتاط کہتے ہیں کہ چھوٹا بھائی ہونے سے بہتر ہے کہ انسان ایک گدھا ہو۔ وہ کتے والی کہاوت سے متفق نہیں۔ انکا خیال ہے کہ چونکہ چھوٹے بھائی کو گدھے جتنا کام کرنا پڑتا ہے اس لئے وہ گدھا ہی ہو تو بہتر ہے۔ محتاط دعا کیا کرتے ہیں کہ کبھی چھوٹا بھائی پیدا ہی نہیں ہونا چاہئے۔ سب بڑے بھائی ہوں تو چھوٹے کے ساتھ ایسے واقعات نہیں ہونگے۔ ہم کہتے ہیں کہ جب تک دنیا ہے چھوٹے بھائی آتے ہی رہیں گے اور بڑے بھائ ان کے ساتھ ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہی رہیں گے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ