بریکنگ نیوز

چین امریکہ سے تجارتی محازآرائی نہیں چاہتا لیکن ضرورت پڑنے پر پیچھے نہیں ہٹے گا.

china-trade-678x381.png

(خصو صی رپورٹ)
ایک علی چینی سفارتکار نے حالیہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ چین امریکہ سے کسی قسم کی تجارتی محازآرائی اور تجارتی جنگی صورتحال نہیں چاہتا لیکن اگر چینی مفادات پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تو چین اس صورتحال پر فوری ردعمل کریگا۔ ژانگ ایسوئی، ترجمان برائے 13ویں فرسٹ سیشن نیشنل پیپلز کانگریس کا حالیہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا کی دو بڑی تجارتی اور معاشی طاقتوںامریکہ اور چین کے مابین تجارتی محازآرائی سامنے آ رہی ہے، بالخصوص ایک ایسے وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیل اور ایلومینئم کی درامد پر ٹیرف پھیلانے کا ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ چین اور امریکہ کے مابین تجارتی تعلقات دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں ہیں تاہم ژانگ ایسوئی نے کہا کہ دونوں عالمی طاقتوں کے مابین گزشتہ سال باہمی تجارت کا حجم 580بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے لیکن باہمی تجارت کا یہ حجم بہت سی توجہیات سے مبرا نہیں ہے۔ اور دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کے حوالے سے موجود یہ تجاوزات تبھی ممکن ہیں جب دونوں ممالک اوپن اپ مارکیٹس کے کلچر کو فروغ دیں اور باہمی تعاون کو یقینی بنائیں اور دونوں اطراف کو ایسے حل کی جانب بڑھنا چاہیے جو طرفین کے لیے قابلِ قبول ہو، اور اس باہمی معاونت کو ڈائیلاگ اور باہمی مشاورت کے عمل سے یقینی بنانا چاہیے۔ سماجی، ثقافتی، تاریخی، اور ڈیلویلپمنٹ کے باہمی تضادات کے مابین امریکہ اور چین کے مابین مختلف امور کے حوالے سے مختلف الخیال ایجنڈا ہونا ایک فطری عمل ہے تاہم ان باہمی تضادات کو دونوں ممالک کو باہمی گفت و شنید اور مشاورتی عمل سے قابلِ عمل بنانا ہوگا۔ اگر دونوں ممالک کی قیادت باہمی پالیسی سازی کو غلط فیصلوں یا تصورات کی بنیاد پر استوار کرتی ہے تو ایسی پالیسی سازی کے دونوں ممالک کے لیے انتہائی تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے جو دونوں ممالک کبھی نہیں چاہیں گے کے ان کے باہمی تعلقات اس نہج تک جا پہنچے۔ اس ضمن میں طرفین کو باہمی مفادات اور اسٹریجک عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے درست سمت میں اور درست طریقے سے دو طرفہ تعلقات کو درست ٹریک پر استوار رکھنا ہوگا۔ اس حوالے سے چینی نائب وزیرِ خارجہ لی بائوڈانگ نے کہا کہ چین کسی طور پر امریکہ کیساتھ تجارتی جنگ یا تجارتی محازآرائی کا خواہاں نہیں ہے کیونکہ دونوں عالمی طاقتوں کے مابین تجارتی جنگ کی صورت کوئی بھی ملک جیت کا حقدار قطعی نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں لئی نے مزید وضاحت پیش کی کہ دونوں ممالک کی قیادت اس صورتحال میں ایک دوسرے سے باہمی مشاورت کے عمل کو ایک تسلسل سے آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چین امید رکھتا ہے کہ تجارتی معاونت کو یقینی بنانے کے لیے طرفین بین الاقوامی قوانین پر عمل درامد یقینی بنائیں گے، با لخصوص ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن پر عمل درامد کے حوالے سے امریکہ اور چین کی قیادت ایک دوسرے سے تعاون کو یقینی بنائے گی۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ