بریکنگ نیوز

چین کا تبت میں کششِ ثقل لہروں کے تجزیہ کیلئے دوربین کی تعمیر

pic-4.jpg

تبت کے خود مختار علاقے میں دنیا کی بلندترین سطع پر کششِ ثقل لہروں سے متعلق دوربین کی تعمیر کی جا رہی ہے اس حوالے سے اس پراجیکٹ سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ اس دوربین کونصب کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کائنات بازگشت سے متعلق اٹھنے والی لہروں کا مربوط سائنسی انداز میں تجزیہ کیا جا سکے۔ اس منصوبے کا آغاز جو کہ اینگری پلان کا حصہ ہے گزشتہ سال2017میں اس منصوبے کا آغاز کیا گیا تاکہ بگِ بینگ لہروں کا سائنسی انداز میں تجزیہ کیا جا سکے۔اس ضمن میں اس پراجیکٹ کے چیف سائنٹسٹژانگ ژنمن نے کہا کہ اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد زمین سے دور کششِ ثقل کی لہروں کو پرکھنا ہے، ژانگ نے 13ویں نیشنل کمیٹی برائے CPPCCکے اجلاس میں اس پراجیکٹ کی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ پر اپریشن 2020میں فعال ہو جائیگا اور اس پراجیکٹ کے آپریشن نتائج 2022تک حاصل کیئے جا سکیں گے، واضح رہے کہ ژانگ ژنمن چائینیز ایکیڈیمی آف سائنسز کے انسٹیٹیوٹ برائے ہائی انرجی فزکس کیساتھ بحیثیت سئینر ریسرچر منسلک ہیں ، انہوں نے اس پراجیکٹ کے حوالے سے مزید کہا کہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں دیگر دوربینیں بھی نصب کی جائیں گی جن کو ناگری 2کو نام دیا گیا ہے اور اس دوربین کو تبت کے بلند ترین علاقے میں 6000میٹر کی بلندی پر نصب کیا جائے گا تاکہ زمیں سے دور ان لہروں کی درست انداز میں پیمائش کی جا سکے۔ اس حوالے سے چائینیز سائنسدان اس دوربین کی تعمیر کے حوالے سے سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں بھی اس سے متعلق تعاون اور معاونت جاری رکھا جائیگا۔ وضح رہے کہ ابتداعی کششِ ثقل کی لہریں دیگر آسمانی عوامل کی لہروں اور ارتقاء سے بہت حد تک مختلف ہوتی ہیں اور یہ لہریں بنیادی طور پر پہلے بگِ بینگ زبردست دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں تھیں، ان لہروں کی اہمیت کو اجاگر کرتیت ہوئے ژانگ ژنمن نے کہا کہ ان لہروں کی ہیت کو سمجھنا اسی قدر ضروری ہے کیونکہ ان کو سمجھنے سے ہی کائنات کے ابتدائی ارتقاء کے متعلق تمام معلومات کو حاصل کیا جا سکتا ہے، واضح رہے کہ تبت کا آذاد اور خودمختار علاقہ ناگری خلائی ماہرین کے لیے خلاء کو جاننے اور سمجھنے کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس علاقے کا صاف اور شفاف آسمان جہاں پر انسانی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں کائنات اور خلاء کو سمجھنے کے حوالے سے بہترین ماحول مہیا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر تین بہترین جگہیں جہاں سے خلائی ماہرین بہتر انداز میں خلائی ریسرچ سے متعلق معلومات اکھٹی کر سکتے ہیں ان میں جنوبی کرہ میں ایٹاکامہ کا صحرا، چلی اور انٹارٹیکا شامل ہیں جبکہ شمالی کرہ ہوائی میں گرین لینڈ بہترین انتخاب ہے۔ تبت کے علاقے ناگری میں قائم اس آبزرویٹری سنٹر سے چین ابتدائی کششِ ثقل کی لہروں سے متعلق معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ناگری سنٹر اور ایٹاکامہ سنٹرز کی تعمیر سے چین شمالی اور جنوبی کرہ ہوائی میں بہترین معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح چین خلائی تحقیقاتی مشن کو زمینی ریسرچ اور کائنات کو کھوج لگانے کے لیے مربوط انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ناگری کی نصب کی گئی دوربین جنوب مغربی چین کے صوبے گوئی ژو میں پانچ سو میٹر طویل ریڈیو دوربین ہے جوزمینی لہروں کے تجزیہ کرتی ہے جبکہ تیانجن میں نصب پراجیکٹ سیٹلائیٹس کی تحقیق کرتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ