بریکنگ نیوز

ہمیں دکھ کب ہوتا ہے ؟

WhatsApp-Image-2018-04-05-at-1.07.47-AM.jpeg

تحریر عامر ہزاروی

کل اپنی ایک تحریر میں لکھا تھا زندگی کی قیمتی بہاریں جنگ دیکھنے میں گزار دیں ، امن ایک خواب ہے جو پورا نہیں ہو رہا ،جنگ کے ماحول میں آنکھ کھولنے والے شخص کی بھی کیا زندگی ہوتی ہے ؟ یہ آنکھیں ابھی تک بچوں ، جوانوں ، بوڑھوں ، عورتوں کی لاشیں ہی دیکھ رہی ہیں،

کبھی بتایا جاتا ہے کشمیر میں ظلم ہو گیا ، کبھی بتایا جاتا ہے افغانستان میں ظلم ہو گیا ، کبھی بتایا جاتا ہے بنگلہ دیش میں بوڑھوں پر ظلم ہو گیا ، کبھی بتایا جاتا ہے اپنے ہی ملک میں اپنی ہی گولی سے اپنوں پر ظلم ہو گیا ہے ،

ایک جگہ کا رونا ختم ہوتا ہے تو دوسری جگہ کا رونا شروع ہو جاتا ہے ، آئے روز کے رونے نے آنکھیں خشک اور دل پتھر کر دیے ہیں ، اب قوم سانحات سہنے کی عادی ہو گئی مگر پھر بھی کچھ واقعات جھنجھوڑ دیتے ہیں ،

افسوس اس وقت ہوتا ہے جب لاشوں پر سیاست ہوتی ہے ، جب جذبات بھڑکائے جاتے ہیں، جب نفرت کی لکیریں گہری کی جاتی ہیں، جب لاشیں اٹھانے کے بعد بھی امن کا خواب نہیں دیکھا جاتا ، کہیں تو یہ ہوتا ہے اور کہیں لاشوں پر مسکرایا جاتا ہے ، کچھ لوگ قاتل کے لیے لوگ جواز ڈھونڈتے ہیں، کچھ لوگ مرنے والوں کا دکھ تک محسوس نہیں کرتے ،

سوال ہے کہ ہمیں دکھ کب ہوتا ہے ؟

ایک حدیث یاد آئی میرے آقا نے فرمایا ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے ، پھر کیا وجہ ہے خدا کا کنبہ جلتا ہے تو ہم اداس نہیں ہوتے ؟ ہم لباس، پگڑی ، داڑھی ، چہرہ دیکھ کر دکھی ہوتے ہیں خون دیکھ کر دکھی کیوں نہیں ہوتے ؟

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ

شیعہ کو اس وقت دکھ ہوتا ہے جب شیعہ مرے ؟ سنی کو اس وقت دکھ ہوتا ہے جب سنی مرے ؟ پنجابی کو اس وقت دکھ ہوتا ہے جب پنجابی مرے ؟ پٹھان کو اس وقت دکھ ہوتا ہے جب پٹھان مرے ؟ بھارتی کو اس وقت دکھ ہوتا ہے جب بھارتی مرے ؟ پاکستانی کو اس وقت دکھ ہوتا ہے جب پاکستانی مرے ؟ افغانی و ایرانی کو اس وقت دکھ ہوتا ہے ایرانی و افغانی مرے ،

ہمارے دکھ کی حد یہ ہے کہ سرحد کی لکیر کے اس پار کوئی مرتا ہے تو ہم کہتے ہیں اچھا ہوا مر گیا بھارتی تھا ، ہم فیصلہ ملک کی بنیاد پر کرتے ہیں خون کی بنیاد پر نہیں ، شیعہ مر جائے تو کہتے ہیں اچھا ہوا شیعہ مر گیا ہمارا نہیں تھا ، سنی مر جائے تو کہتے ہیں سنی مر گیا ہمارا نہیں تھا ،

ہمارے دکھ کی بھی سرحدیں ہیں،

خدائی مٹ جائے تو مٹ جائے میرا قبیلہ بچے رہے بھلا یہ بھی انسانیت ہے ؟ قوم ، قبیلہ ، رنگ ، نسل ، یا مذہب بدلنے سے کیا دکھ کی تعریف بدل جاتی ہے ؟ کیا دوسری طرف ماں کو دکھ نہیں ہوتا ؟ کیا دوسری طرف سہاگ نہیں اجڑتے ؟ کیا دوسری طرف سینے لوہے کے ہیں ؟

یہ جتنا وقت دشمنی میں ضائع کیا جاتا ہے اتنا دوستی میں کیوں نہیں لگایا جاتا ؟ نفرت کی چنگاریاں بھڑکانے کی بجائے محبت کی کھتیاں ہری کیوں نہیں کی جاتیں ؟ رنگ ، نسل ، زبان ، اور سرحد کے بدلتے ہی دکھ کیوں ختم ہو جاتا ہے ؟

آئیے آدم کی اولاد اور خدا کے کنبے کو بچانے کی کوشش کریں ، اکیلے اکیلے رونے کی بجائے مل کر روئیں، ہمارا یک نکاتی ایجنڈا ہونا چاہیے کہ خون محترم ہے ، دکھ کی کوئی سرحد نہیں ، بیگناہ جہاں کا بھی ہو بیگناہ ہوتا ہے ، لکیر کے اس پار کا ہے یا اس پار کا ، انسان تو ہے ، ایک انسان کی موت پر بھلا خوشی کا جواز کیا ہو سکتا ہے ؟ ہو سکے تو تنہائی میں ضرور سوچنا _

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ