بریکنگ نیوز

ترس زدہ

b319c21c-bac1-4163-97a6-fbe9393c52da.jpg

ترس زدہ
تحریر عبدالرحمن
جب بھی کوئی آپ پے ترس کھاتا ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ آپ نے اپنی کسی حرکت سے یا کسی بات سے ایسا کوئی اشارہ دیا ہے کہ آپ قابل رحم ہیں۔ اکثر لوگ کسی کو قابل رحم حالت میں پا کر اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اس پر ترس کھاتے ہیں اور یوں سستے داموں عاقبت کو عقوبت بننے سے بچا لیتے ہیں۔ اپنے پیارے دیس میں عوام ساری زندگی یا تو ترس کھانے والوں کی عنائیات کے سہارے گزار دیتے ہیں اور اس کے عادی ہونے کی وجہ سے اکثر ترس کی فریاد میں بتا دیتے ہیں۔
مڈل سکول میں سکاوٹینگ کے لیے منتخب ہوا تو بہت سے لوگوں نے مجھ پے اپنے اپنے حصے کا ترس کھایا۔ والدین کا سارے محلے کی منت محتاجی کے بعد راضی ہونا اپنی جگہ لیکن دونوں کا فرصت کے لمحات کا کافی وقت میرے پے ترس کھا کے اجازت دینے میں ضائع ہونے کا تو میں خود چشم دید گواہ ہوں۔ گاوں کے درزی چاچا زمان کو شادیوں کے موسم میں تہمندیں سیتے سیتے، پینٹ شرٹ سینے پے راضی کرنا تقریبا نا ممکن تھا۔ لیکن ایک تگڑی سفارش کے باوجود اس نے فرہنگی لباس سینے جیسے گناہ کی حامی اس وقت ہی بھری جب نمونے کے طور پر ایک ریٹائرڈ فوجی کی وردی پیش کی۔ لیکن اس کے رویے کے پیچھے بھی ترس ہی کارفرما تھا۔ اسے نے نمونہ سامنے رکھ کر اسی سے ملتی جلتی کوئی چیز سی تو دی لیکن یہ تو مری کیمپ میں شہری لڑکوں کو لوٹ پوٹ ہوتے دیکھ کر پتا چلا کہ اس نے ہم تیرہ چودہ سالہ لڑکوں کو 40 سالہ فوجی کے سائز میں فٹ کر دیا۔ شرٹ کا بڑا ہونا تو پینٹ میں ٹھونسنے سے قابو میں آگیا لیکن پینٹ کا کیا کرتے جسے کمر کے بجائے سینے تک چڑھا کر باندھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب نے سکول کے سب سے زیادہ سمجھ بوجھ والے ماسٹر کو سکاوٹینگ کے انچارج کی ذمہ داری اس لیے سونپی کیوں کہ وہ ہل میں جتے بیلوں کی ہی طرح کلاس کو بھی ہانکتے میں بڑی شہرت رکھتے تھے۔ لیکن ہمیں مری جا کر پتا چلا کہ ماسٹر صاحب کے خیال میں سکاوٹینگ میں کھانا پکانا سب سے اہم فن ہے۔ اور اگر سکاوٹ بھنڈی پکانے میں کامیاب ہو جائیں تو سمجھیں تربیت کے تمام اہداف حاصل ہو گئے۔ اصل وجہ تو واپس آکر پتا چلی کہ ماسٹرنی جی بھنڈی پکانے میں ناکام ہو کر اسے ناپسندیدہ قرار دیکر اس کا گھر میں داخلہ بند کیا ہوا تھا۔ اس لیے جو کام وہ نہ کر سکیں اگر وہ سکاوٹ کر گئے تو بات تو تربیت میں معراج جیسے درجے کی تھی۔ ہماری سکھلائی اپنی جگہ لیکن اس جستجو میں نتھیا گلی کے دوکانداروں کو بھنڈی کے سب سے بڑے تاجر احمد خان صاحب سے واقفیت ہوگئی کیونکہ ہم ہر روز کم و بیش ایک دفعہ بھنڈی ضرور پکاتے رہے۔ خود ماسٹر صاحب اور ان کا بیٹا دیسی گھی کی پنجیری کھا لیتے اور ہم صرف اس کی خوشبو پے گزارہ کرتے۔ دو ہفتے بھنڈی کی لئی کھاتے ہوئے ہمارے چہروں پے واضع کمزوری دیکھتے ہوئے بھی ماسٹر صاحب نے ایک دن بھی نہ تو پنجیری کی صلح اور نہ ہی بکسے کی چابی سنبھالنا بھولے۔ لیکن چکوال سے آئے ماسٹر بشیر صاحب سمجھ ہماری حالت زار دیکھ کر سمجھ گئے کہ بھنڈی میں کمال حاصل کرتے کرتے ہمارا کباڑہ ہونے کے روشن امکان تھے۔ یوں ایک بار پھر ترس نے ہماری جان بچائی اور جونہی ماسٹر صاحب شہر میں اپنے ایک رشتہ دار کو ملنے کے لیے نکلتے وہ اپنا بچا ہوا کھانا ہمیں دے دیتے۔ اس دوران ہم سکاوٹ تو اچھے بنے یا نہیں لیکن قابل رحم شکل بنانے میں مہارت حاصل کر گئے اور بشیر صاحب کی عنائیت سے مستفید ہوتے رہے۔
بہت عرصہ بعد دوبارہ ویسے ہی ترس کے جذبے سے مستفید ہونے کا ایک موقع تب پیش آیا جب تربیت کے لیے جرمنی جانا ہوا۔ میراایک دوست جس کا خوبصورتی کا شک آج بھی ختم نہیں ہوا وہ بھی ساتھ تھا۔ وہاں ڈائنیگ ہال میں وہ کھانا تقسیم کرنے والے ایک سیاہ فام جرمن کی مسکراہٹ سے دھوکہ کھا بیٹھا اور سمجھنے لگا کہ وہ اس کی وجاہت سے متاثر ہے۔ حالانکہ وہاں اور قومیتوں کے بھی کافی وجیہہ جوان آتے جاتے تھے اور وہ سیاہ فام ان سے بالکل بھی متاثر نہیں تھا۔ لیکن ہمیں ہال میں دیکھتے ہی وہ کھانے کی کچھ چیزیں اور لفافے ایک طرف کر کے اشارہ کرتا کہ ہم وہ کمرے میں لے جائیں۔ تب مجھے بڑے عرصے بعد چکوال کے ماسٹر بشیر صاحب یا د آئے وہ بھی تو ہماری شکلوں پے بھوک دیکھ کر ترس کھاتے تھے۔ جبکہ ہمارا دوست سیاہ فام جرمن کے ترس کھانے کو دوستی کا جذبہ سمجھ بیٹھا اب پتا چلا کہ سکاوٹینگ کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔
کچھ عرصے بعد علم میں اس وقت اضافہ ہوا اور پتا چلا کہ ترس صرف پیٹ کے بھوک پے ہی نہیں آتا جب یوکرین کی ایک دوشیزہ نے ترس کھانے کی حد ہی کردی۔ میں ہوٹل کے کمرے سے لفٹ میں لابی جانے کے لیے داخل ہوا تو وہاں ایک حسینہ پہلے سے موجود تھی۔ کافی بنی سنوری ہوئی دیکھ کے میں نے اسے آپریٹر سمجھنے کی غلطی تو بالکل نہ کی لیکن یہ خیال ضرور آیا کہ شاید پہلی دفعہ بڑے ہوٹل آئی ہے۔ میری سوچ کے کہیں ادھر ادھر بھٹکنے سے پہلے ہی اس نے مجھ سے میرے ارادے کے بارے میں پوچھ لیا۔ میں نے تھوک نگلتے ہوئے فورا نہ کی تو اس نے انتہا کی مایوسی سے میری طرف دیکھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتی۔ لفٹ رکی اور میں باہر نکل گیا۔ لابی میں بالا افسر سے ملاقات تھی اس لیے جلد ہی لفٹ والا واقعہ بھول گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد کمرے میں جانے کے لیے دوبارہ اتفاقا اسی لفٹ میں جا گھسا۔ کیا دیکھتا ہوں وہ محترمہ پھر سے اندر موجود تھی۔ دروازہ بند ہوتے ہی مجھ سے سیدھا پوچھ لیا کہ میں نے اپنا ارداہ بدلا ہے کہ نہیں۔ میرے جواب سے مایوس ہو کر اس نے بڑے کرب میں میرا جائزہ لیتے ہوئے کہا ” مجھے تم پر بیت ترس آ رہا ہے”۔ میں سوچتا رہا کہ میں نے تو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہوا ہے پھر یہ ترس کاہے کا۔ لیکن یوکرین جانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ترس کی ایک اورقسم سے واقفیت ہوگئی۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ اس نے کونسا کمال کیا جو ترس کھایا۔ ہم پے تو کیا اپنے، کیا پرائے سبھی ہی ترس کھاتے ہیں۔
وزیر اعظم صاحب ترس کھا کر کچرا اٹھانے والی گاڑیاں عنایت کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترس کھا کے بھیجے گئے دودھ سےبچپن میں کئی سال مستفید ہوئے جب سکول کے ہیڈ ماسٹر سٹور میں پڑے پڑے خراب ہونے سے پہلے ترس کھا کر پلا دیتے۔ سیلاب آنے پے ایک آدھ دفعہ وزراء ترس کھا کر ہیلی کاپٹر سے کھانا پھکوا دیتے ہیں۔ اپنے ملک میں تو سرکاری اہلکار تک اتنے بندہ پرور ہیں کہ ترس کھا کر رشوت کا ریٹ تک کم کر دیتے ہیں۔ ووٹر جو پارسائی کے دعووں میں اچھے خاصوں کی پگڑیاں اچھال دیتے ہیں لیکن ترس صرف نامی گرامی چور آچکوں اور ڈکیٹوں پے ہی کھاتے ہیں۔
ہاں اگر ترس نہیں کھایا تو ہم نے اپنے پے نہیں کھایا اور ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ لوگ ہم پے ترس کھانا بند کر دیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ