بریکنگ نیوز

بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام نے21ویں صدی کے حوالے سے عالمی تعاون کے لیے ایک نئی جہت متعارف کروائی ہے

Circle-of-Influence.jpg

خصوصی رپورٹ

بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام ایک حوصلہ افزا اور بلند نظر شروعات کا آغا ز ہے جو مستقبل قریب میں عالمی تعاون کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم ترین جہت ثابت ہوگا۔ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام عالمی مواصلات کے حوالے سے ایک ایسا انقلابی آغاز ثابت ہوگا جو نہ صرف بین البراعظمی روڈز اور سمندر اور ہوائی سفر کے حوالے سے تمام امور کو مربوط انداز میں سہولیات سے مزین کرنے کے حوالے سے اہم ترین سہولت ثابت ہو گا۔واضح رہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کی تکمیل سے دنیا کے 60سے زائد ملک باہم اور مربوط انداز میں ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گئے اور ان تمام ممالک میں چین اہم ترین حیثیت اختیار کر لے گا۔ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام دنیا میں باہمی مواصلات کے نظام کو مربوط کرنے کی ایک کوشش ہے جیسے زمانہ قدیم میں ہی شاہراہِ ریشم سے عالمی تجارت کو یقینی بنایا جا تا رہا ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کی تکمیل سے 21ویں صدی کے لیے عالمی تعاون ایک نئی جہت اختیار کر لیگا۔ دنیا کی کوئی بھی جداگانہ حیثیت میں ترقی کے تسلسل کو یقینی نہیں بنا سکتا اور ترقی اور کوشحالی کا سفر اسی صورت یقینی بنایا جا سکتا ہے جب دنیا ایک مربوط اور سہل مواصلاتی نظام کے زریعے سے ایک دوسرے سے منسلک ہو۔ عالمی تجارت اور تعاون کو مربوط بنیادوں پر استوار کرنے کے حوالے سے جس فلسفے اور نظریے پر چینی صدر ژی جنپگ کارفرماں ہیں اور تاریخی اعتبار سے عالمی تجارت کو جس طرح سے دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے وہ تمام تر جدوجہد تعریف کے قابل ہے، ایک طرف چینی قیادت ایشیا میں تجارت اور باہمی روابط کو مثبت انداز میں فروغ دے رہے ہیں اور ایک بھر پور انداز میں چینی سرمایہ کاری سے ایشیا کے مختلف ممالک کو ترقی اور خوشحالی کے سفر میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اور جس طرح سے دنیا بھر کے بڑے بینک اپنی شاخوں کو چینی تک پھیلا رہے ہیں اس امر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چینی قیادت کس قدر سنجیدگی سے چینی سرمایہ کاری کو دنیا کے طول وعرض تک پھیلانے میں کوشاں ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں سے جہاں اس روٹ سے منسلک ممالک میں باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہو گا وہیں ان ممالک میں روز گار کے نئے مواقع جنم لیں گے اور اس طرح سے یہ ممالک ترقی کے سفر میں تیزی سے آگے بڑھیں گے اور اس طرح سے مختلف ممالک اور خطوں کے مابین ایک ثقافتی ہم آہنگی بھی جنم لے گی جس سے دنیا روشن خیالی اور امن پسندی کی طرف راغب ہوگی۔ مزید براں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں سے منسلک تمام ممالک میں ایک صنعتی انقلاب آئے گا جس سے ان ممالک کے لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔ اور لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ اس کیساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ روڈز کی تکمیل سے زہنی وسعت بھی حاصل ہوتی ہے اور نئے روڈز کی تعمیر سے جہاں نئے خیالات جنم لیتے ہیں وہیں ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع بھی سامنے آتے ہیں۔ اس طرح سے بیلٹ اینڈ روڈ سے منسلک ممالک میں ان منصوبوں کی تکمیل سے ترقی، کوشحالی اور صنعتی ترقی کا ایک انقلاب آئے گا جو نہ صرف ان ممالک کے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر کریگا بلکہ انکی ثقافتی زندگیوں میں مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کی بڑی کمپنی علی بابا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں سے منسلک تمام ممالک میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے ڈیجیٹل روڈز کی تعمیر کے حوالے سے اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے۔ اور آن لائن خریدو فرخت کے حوالے سے چین کی یہ کمپنی ایک نئے انقلاب کی جانب گامزن ہے اسطرح سے مالیاتی تعاون کے حوالے سے یہ کمپنی عالمی تعاون کے پیشِ نظر تمام تر سہولیات کو فراہم کر رہی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرامز کے حوالے سے جو ملک دیگر ممالک کی نسبت اہم ترین مواقع حاصل کر رہا ہے وہ پاکستان ہے ، پاکستان اور چین تاریخی اعتبار سے تجارتی امور میں ایک دوسرے سے صدیوں سے منسلک ہیں اور دونوں ممالک باہمی اشتراک کے حوالے سے بہت سے امور میں مشترک ہیں جن میں دونوں ممالک باہمی مفادات اور مشترکہ بارڈر کیساتھ ایک دوسرے کیساتھ منسلک ہیں ، اس طرح سے جو ممالک اپنی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں اپنے پڑوسی ممالک کو شریکِ سفر کرتے ہیں اس سے دونوں ممالک پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور یہ باہمی تعاون دونوں ممالک کی ڈیویلمنٹ کے لیے اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوتی ہے۔ اس طرح سے اس خواب کی تکمیل کے لیے اور خطے کو یکساں ترقی کے سفر میں شامل کرنے کے لیے ایشئین انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ بینک کیا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس سے ایشیا کے پست معیشت کے حامل ممالک کو مالیاتی ڈھانچے کو مربوط انداز میں استوار کرنے کے لیے بھر پور معاونت اور تعاون کو یقینی بنایا گیا اور یکساں ترقی کو یقینی بنانے کے لیئے انتظامی اور گوررننس سے متعلق امور میں بھی تعاون کیا گیا۔ اس طرح سے بریٹن ووڈز انسٹی ٹیوشنز کا قیام جو کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد عمل میں لایا گیا تاکہ انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس طرح سے عالمی تعاون کو یقینی بنانے کے حوالے سے ڈہلومیسی اور ڈائیلاگ کے زریعے سے پڑوسی ممالک کے مابین مسائل کو حل کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ اور عالمی سطع پر جو گونہ گوں مسائل سے ممالک دوچار ہیں انہیں تبھی حل کیا جا سکتا ہے جب اقتصادی ڈپلومیسی کے زریعے سے ان ممالک کو ایک دوسرے کے قرین لایا جا سکے۔ اس طرح سے یہ متصادم ممالک ایک مشترکہ مفادات کے زریعے سے ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں جب انکی باہمی مافادات مشترکہ حیثیت اختیار کر لیں گے۔ اور یہ عوامل تبھی یقینی بنائیں جا سکتے ہیں جب یہ ممالک اپنے شہریوں اور سماجی روابط کو اقتصادی روابط کیساتھ منسلک کریں گے، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کی مدد سے چین دنیا کو ایک مثبت راہ پر گامزن کر چکا ہے اور یہ راہ دنیا کو ایک روشن مستقبل کی جانب لیکر آگے بڑھ رہی ہے۔اس طرح سے دنیا کے دیگر ممالک اور طاقتوں کو بھی ان منصوبوں کے حوالے سے چین کی تقلید کرنا چاہیئے اور اس باہمی تعاون اور معاونت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے، تاکہ باہمی مفادات اور باہمی یکساں ترقی کی اس ویژن کو نہ صرف ایشیا، بلکہ یورپ، افریقہ اور پوری دنیا تک پھیلایا جا سکے۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ