بریکنگ نیوز

ھماری قوم کے لئے کچھ باتیں سمجھنا ضروری ہیں

faizabad.jpg

ہماری قوم کے لئے کچھ بنیادی باتیں سمجھنا ضروری ہیں۔
تحریر مجاہد خٹک
ماضی میں ملک اور قومیں، بادشاہوں، جرنیلوں اور فاتحین کی ملکیت ہوا کرتے تھے اور ان کے ملکیتی حقوق کوبین الاقوامی طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے مخالفین کی کھال کھنچوا دینا اور ان کے بیوی بچوں کو قتل کرا دینا ایک معمول کی بات تھی۔

دور جدید کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت جمہوریت کا تصور ہے جس کے تحت ممالک اب عوام کی ملکیت ہوتے ہیں۔ چونکہ عام لوگوں نے اپنے روزمرہ کے کام کرنے ہوتے ہیں اور بہت بڑی آبادیوں کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ تمام شہری ہر مسئلے پر اکٹھے ہوں اور فیصلہ کریں، اس لئے نمائندگی کا نظام اختیار کیا گیا ہے جس کے تحت عوام اپنے اختیارات نمائندوں کو سونپ دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے مسائل حل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل حل کرنے کے لئے بہت سے ادارے تخلیق کئے جاتے ہیں جنہیں عوام اپنی جیب سے تنخواہ دیتی ہے تاکہ یہ ادارے روزی روٹی کی فکر سے آزاد ہو کرعام شخص کی خدمت کرتے رہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی عوامی نمائندہ یا ادارہ عوام کے لئے کچھ کرتا ہے تو وہ کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ ایک نوکر کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کررہا ہوتا ہے۔ الٹا عوام کا اس پر احسان ہے کہ اپنی جیب سے اسے پیسے دیتے ہیں اور اس کے بچوں کو پالتے ہیں۔ یہ ملک کے باشندے ہیں جو حقیقی حاکم ہیں باقی سب ان کے نوکر ہیں۔ اسی لئے اگر فوج اور پولیس عوام کے تحفظ کے لئے خطرات مول لیتے ہیں تو ان سے یہ کام زبردستی نہیں لیا جاتا بلکہ انہوں نے خود اس نوکری کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہوتا ہے۔

اس پس منظر کو ذہن میں رکھیں اور پھر منظور پشین کے مطالبات پرغور کریں۔ جو لوگ پشاور میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اپنے مطالبات پیش کئے وہ اس ملک کے حقیقی مالک ہیں۔ فوج اور عوامی نمائندے ان کے ملازم ہیں۔ اگر کوئی مالک اپنے ملازم کی نااہلی پر ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اور اگر کوئی ملازم اس مالک کے بچوں کو مار دے، یا انہیں اغوا کر کے غائب کر دے تو اس کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کا بغیر اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے ساتھ دینا ہمارا فرض ہے۔ جب تک یہ بات ہمیں سمجھ نہیں آئے گی یہ ملک سیکورٹی سٹیٹ بنا رہے گا، فلاحی مملکت کبھی نہیں بن سکے گا۔

مسنگ پرسن کا معاملہ یقیناً الجھا ہوا ہو گا لیکن حکومتی ادارے آئین کے تحت پابند ہیں کہ وہ اس حوالے سے اپنے مالکوں کو جواب دہ ہوں۔ جو لوگ ان کے پاس موجود ہیں انہیں قانون کی عدالت میں پیش کریں اور جو قتل ہو چکے ہیں ان کے قاتلوں کو سزا دلوائیں چاہے وہ قاتل ان کی اپنی صفوں میں چھپے ہوئے ہیں یا پھر کہیں باہر پھر رہے ہیں۔ اس سے کمتر کسی بات پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کا ہر وہ طبقہ جس کے ساتھ ظلم ہوا ہے، ہمیں اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہئے۔ جب تک یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا، یہ ملک اسی طرح اشرافیہ کی غلامی میں رہے گا۔ دوسرے الفاظ میں مالک اپنے ملازموں کی غلامی میں رہیں گے جو کہ ایک غیرفطری نظام ہے۔ یا تو یہ نظام ختم ہو گا یا پھربڑے پیمانے پر انتشار پھیلے گا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ