بریکنگ نیوز

چین دنیا میں کثیر الجہتی تعاون کے حوالے سے اہم ترین ستوں کی حیثیت رکھتا ہے: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

756933-Guterres.jpg

چین دنیا میں کثیر الجہتی تعاون کے حوالے سے اہم ترین ستوں کی حیثیت رکھتا ہے: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوئٹرس
(خصوصی رپورٹ):۔
گزشتہ ہفتے چین کے صوبے ہینان میں منعقدہ بوائو فورم برائے ایشیا میں شرکت سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس نے کہا ہے کہ وہ چینی صدر شی جنپگ کی مقامی اور عالمی گورننس کے حوالے سے احساسِ تکمیل اور تعاون کے فروغ کے حوالے سے جاری کوششوں اور عزم سے خاصے متاثر ہیں، گوئٹرس نے مزید واضح کیا کہ چینی صدر شی جنپگ جس طرح سے باہمی مفادات پر مبنی ایک کمیونٹی کے قیام کے حوالے سے اپنی جدو جہد کوجاری رکھے ہوئے ہیں اس سے دنیا کے بیشتر موجودہ مسائل بہت کامیابی سے حل کیئے جا سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس بوائو فورم برائے ایشیا میں شرکت کے حوالے سے ان دنوں چینی صدر شی جنپگ کی خصوصی دعوت پر چین کے دورے پر ہیں۔ اپنے دوریکے حوالے سے گوئٹرس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے اور ورکنگ ماحول کے حوالے سے اہم اصلاحات کو یقینی بنا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ دنیا کے مسائل کے حل کے حوالے سے امن اور پیداواری تسلسل کو دو بنیادی عوامل کی طرح یقینی بنانے کے لیے کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ واضح رہے کہ چینی صدر شی جنپگ نے 2015میں اقوامِ متحدہ کے ستر سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین اور اقوامِ متحدہ کے اشتراک سے ایک ڈیویلپمنٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ دنیا میں اس فنڈ کی مدد سے کثیر الجہتی مسائل کو حل کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ اور اس فنڈ کی مدد سے اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام بہت سے پراجیکٹس پر ڈیویلمپنٹ کو یقینی بنایا جا ئے گا۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ گوئٹرس نے چین کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے جاری پروگرامز میں معاونت کی خصوصی طور پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چین عالمی ترقی ،پیداواری استحکام اور ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے ایک متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ اور بین الاقوامی برادری کیساتھ مل کر چین دنیا کے مسائل کے حوالے سے سنجیدہ کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عالمی حکومتی میکنیزم کو بہتر سے بہترین راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ گوئٹرس نے کہا کہ 2017میں بیجنگ میں منعقدہ بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے حوالے سے منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت ان کے لیے خوشی کا سبب تھا۔ اور یہ فورم عالمی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے ایک مثبت میش رفت تھی، گوئٹرس نے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ پالیسیز پورے خطے کے لیے ایک مثبت نوید ہے اور اسی تناظر میں وہ امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں چین اور اقوامِ متحدہ کے مابین مثبت تعاون جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام دنیا بھر میں امن مشنز کے حوالے سے چین کے 2400فوجی مختلف مشنز پر خدمات انجام دے رہے ہیں جب کہ اسٹینڈ بائی فوج میں آٹھ ہزار چینی فوجی دنیا بھی کسی بھی مقام پر امن مشنز کے لیے تعیناتی کے لیے تیار رہتے ہیں۔اس کیساتھ چین اقوامِ متحدہ کے مختلف پراجیکٹس کی تکمیل کے حوالے سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ فنڈز فراہم کر رہا ہے۔ اس طرح سے اقوامِ متحدہ کے فورم سے چین دنیا میں قیامِ امن کے حوالے سے سب سے متحرک کردار ادا کررہا ہے۔ 28ستمبر2015میں اقوامِ متحدہ کے ستر سال مکمل ہونے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جنپگ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین دنیا میں بقائے امن کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے لیے ہر وقت آٹھ ہزار تازہ دم ٹروپس کی فراہمی کو یقینی بنا کر رکھے گا۔انتونیو گوئٹرس نے چین میں اپنے دورے کے دوران امن فوج کے ٹریننگ کیمپ کا بھی دورہ کیا اور انہوں نے دنیا میں قیامِ امن کے حوالے سے چینی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین مستقبل میں بھی اسی عزم کو جاری رکھے گا۔ موجودہ دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں کورین ایشو، شام سے متعلق بحرانی کیفیت اور افغان جنگ ان تمام مسائل کے حل کے حوالے سے مقامی اور بین الاقوامی سطع پر لوگ چین کی طرف دیکھ رہے ہیں ، حل ہی میں چین نے کورین مسائل کے حل کے حوالے سے ڈی نیوکلیئرازیشن کے لیے کوششوں کا آغاز کیا ہے جب مارچ کے مہینے میں شمالی کوریا کے صدر کم ٰانگ نے چین کا ادورہ کیا۔ اس حوالے سے گوئٹرس نے کہا کہ چین شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین تضادات کے حل کے لیے ایک مثبت کردار ادا کریگا۔ گوئٹرس نے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے پہلی بار چین کا دورہ 1984میں کیا اور اس وقت سے وہ مختلف حیثیتوں کیساتھ چین کا دورہ کر چکے ہیں اور ان چالیس سالوں میں انہوں نے چین میں اصلاحات اور اقتصادی وسعت پر مبنی پالیسز پر عملی سطع پر عمل درامد ہوتے دیکھا ہے انہوں نے چین کی انسدادِ غربت کے حوالے سے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین گزشتہ چند دہائیوں میں غربت کے خاتمے کے حوالے بہت اہم کوششوں کو یقینی بنایا ہے اور کروڑوں لوگوں کو خطِ غربت سے باہر نکال کر انکے معیارِ زندگی کو بہتر کیا ہے۔ آج چین بہتر معاشی پالیسز کی بدولت تیزی سے اقتصادی استحکام کی جانب گامزن ہے، چین ان عوامل سے دنیا میں بہتر مقام پیدا کر رہا ہے اور یہ ہی کامیابی ہے کہ آج چین ماحولیاتی تبدیلیوں ، تحفظِ جنگلی حیات اور انسانی مسائل کے حوالے سے مسائل پر ایشوز کو اجاگر کر رہا ہے۔ گوئٹرس نے چینی ثقافت اادب کو سرہتے ہوئے کہا کہ چینی ثقافت کی یہ خاصیت ہے کہ یہ تیزی سے دیگر ثقافتوں کو اپنے اندر سمونے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے دنیا کو چینی ثقافت کو سمجھنے میں آسانی ہے اور اس طرح سے بیرونی دنیا امن کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اور یہ وہ بنیادی عوامل ہیں جنہیں بیرونی دنیا کو چین سے سیکھنا چاہیئے کہ کیسے سماجی بہبود اور امن کو بقائے باہی کے لیے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ