بریکنگ نیوز

چین کی مشترکہ مستقبل کے حوالے سے کمیونٹی کا قیام انسانیت کی خوشحالی کو یقینی بنائے گا

4b6a7275-737d-4ba0-9297-74b80037e2e8.jpg

دنیا ایک ہی ہے جہاں پر مختلف براعظموں میںقائم بہت سے ممالک کے لوگ ایک دوسرے سے وابسطہ مفادات اور روابط کے تحت رہ رہے ہیں اور دنیا کے لوگوں کے باہمی مفادات ایک دوسرے سے گہرے سے گہرے ہوتے جا رہے ہیں جیسے جیسے مستقبل میں ان ممالک کے ایک دوسرے سے روابط مضبوط ہو رہے ہیں اور عالمی سطع پر موجودہ اقتصادی پیچیدہ صورتحال کے حوالے سے جو مسائل اور چیلنجز تیزی سے سر اٹھا رہے ہیں ا ن کو دیکھتے ہوئے آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ دنیاکا کوئی بھی تنِ تنہا ان مسائل کا سامنا نہیں کر سکتا۔ان مسائل اور چیلنجز کو دیکھتے ہوئے چینی صدر شی جنپگ نے دنیا میں مشترکہ مستقبل اور باہمی مفادات کی حامل ایک ایسی کمیونٹی کے قیام کا نظریہ پیش کیا جو سب منسلک ممالک کے باہمی مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں، اس ضمن میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کا آغاز کیا جس سے منسلک ممالک ایک دوسرے کیساتھ مشترکہ مستقبل اور باہمی مفادات کے تحت باہم مربوط انداز میں ایک بہتر اور مستحکم مستقبل کیجانب دوطرفہ مفادات کو یقینی بناتے ہوئیے گامزن ہونگے۔ واضح رہے کہ بیلٹ اینڈ پروگرام مشترکہ منصوبوں، انفراسٹرکچر اور مشترکہ مفادات کے حامل ایک ایسے پروگرام کاآغاز ہے جس کے تحت تمام منسلک ممالک باہمی اور مشترکہ مستقبل کے حوالے باہمی مفادات کے ایک تعلق کو مضبوط سے مضبوط کریں گے۔ اس پروگرام کے حوالے سے جاپان جو چین کاپڑوسی ملک ہے اس کیجانب سے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام میں بھر شرکت کے عزم کااظہار کیا گیا ہے۔ اس طرح سے دونوں ممالک کے باہمی عزم سے خطے اور اس پروگرام سے منسلک دیگر ممالک میں خوشحالی اور ڈیویلپمنٹ کو یقینی بنایا جا ئے گا۔ اس طرح سے چینی صدر شی جنپگ کی جانب سے مشترکہ مستقبل کے حوالیء سے ایک کمیونٹی کے قیام کے لیے شروع کیئے گیت بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے مثبت اثرات سامنے آّ رہے ہیں اور بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے آغاز سے بین الااقوامی تعلقات اور ممالک کے مابین باہمی روابط ایک مربوط انداز میں استوارہوتے ہیں۔ چینی صدر شی جنپگ کی اس نظریہ کے تحت مشترکہ مستقبل سے منسلک ممالک ایک دوسرے سے باہمی احترام اور شفافیت اور باہمی تعاون کے ایک ایسے تعلق میں استوار ہونگے جس کے تحت سب کے باہمی مفادات کو یقینی بنایا جاے گا۔ اور اسی سوچ اور عزم کیساتھ بین الاقوامی تعلقات اور منسلک ممالک ایکدوسرے کیساتھ امن اور باہمی خوشحالی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں چین مختلف شعبوں میں جس تیزی سے ترقی کررہاہے اس رفتارکو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ترقی کی اس رفتار میں چین امریکہ سے پیچھے نہیں ہے۔ اور اسی ترقیاتی رفتار سے امریکی قیادت خائف ہے جس طرح سے پہلے جاپانی ترقیاتی تجربات امریکی قیادت پر گراں گزرے ہیں۔ 1980کی دہائی میں جاپان کا تجارتی سرپلس امریکہ سے بہت بڑھ چکا تھالیکن جاپانی ین اس امر کو مستحکم نہ رکھ سکا جب امریکی قیادت نے جاپان کو مجبور کردیا کہ وہ پلازا معاہدہ پر دستخط ثبت کرے۔اس طرح سے اس ڈرامائی تبدیلی کے جاپانی مارکیٹ پر بہت منفی اثرات مرتب ہوئے جس سے جاپانی معیشت اور صنعت بہت حد تک متاثر ہوئے اس حوالے سے چینی قیادت کو ایسے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے بہت حد تک خاصا چاکس و چوبند رہنا ہوگا۔ واضح رہے کہ امریکہ وہ واحڈ ملک نہیں ہے جس کے مقابلے میں چین کا تجارتی سرپلس زیادہ ہے،چین نے دنیا میں گلو بلائزیشن کے حوالے سے ایک بہت مستحکم اور متحرک کردار ادا کیا ہے اور چینی انٹر پرائیسز نے بہت غیر معمولی عوامل کو یقینی بنایا ہے۔گلوبلائزیشن کا بنیادی مقصد کم لاگت کے ساتھ بہتر معیار کی مصنوعات کو سامنے لانا ہے اور اس ضمن میں جو ممالک بھی ایسی استطاعت کے حامل ہیں انکا تجارتی سرپلس دیگر ممالک کی مقابلے میں تیزی سے پروان چڑھے گا کیونکہ ایسی کم لاگت اور بہتر معیار کی مصنوعات کو ہر ملک میں پزیرائی حاصل ہو گی۔ اس حوالے سے موجودہ تناظر میں امریکی مارکیٹ کو اپنے تجارتی ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکی مارکیٹ کو تجارتی خسارہ اسی وجہ سے ہوا ہے کہ چین کی یہ مصنوعات امریکی منڈی پر اپنی افادیت کو ثابت کر چکی ہیں۔ اسی وجہ سے آزادانہ تجارت کی پالییز کی مخالفت تحفظ پسندانہ اقدامات کی مدد سے کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہامریکہ اور چین ایک دوسرے سے تجارتی لیول پر بہت باہم منسلک ہیں اورامریکہ کی بہت سی مصنوعات ایسی ہیں جن کا تمام تر انعصار چینی برامدات پر ہے۔ اس کیساتھ ساتھ امریکی زراعت اور دیگر کئی شعبیں مکمل طور پر چین پر انعصار کیئے ہوئے ہیں، دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ تحفظ پسندانہ عوامل پر مبنی جو پالیسز سامنے لا رہے ہیں اس کا بنیادی مقصد تیزی سے اپنے مقاصد حاصل کرنا ہے لیکن امریکی قیادت ان عوامل سے قلیل عرصے میں امریکی تجارتی خسارے میں اضافے کا موجب بنے گے اور جب تک امریکی قیادت اپنے صنعتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لاتی، تجارتی خسارے سے متعلق مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ا حوالے سے امید ظاہر کیا جا رہی ہے کہ آئیندہ کچھ عرصے میں امریکہ سے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحفظ پسندانہ پالیسیز کے خلاف ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے اس حوالے سے امریکی انتظامیہ کو فوری ایڈجسٹمنٹ کرنا ہونگی۔ دوسری طرف چینی معیشت جس تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے اس ترقی نے بہت سے ممالک کے خدشات کو ابھارا ہے، تاہم چینی صدر شی جنپگ کی مشترکہ مستقبل کے حوالے سے مبنی پالیسیز کسی بھی ملک کے خلاف کوئی منفی عزائم نہیں رکھتی۔ اوربین الاقوامی کمیونٹی کے لیے چینی قیادت تمام خدشات دور کرنے کے حوالے سے پر عزم ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں کیمونسٹ پارٹی آف چین کی 19thسی پی سی نیشنل کانگریس میں صدر شی جنپگ نے عالمی مسائل کے حل کے لیے چینی تجاویزکو پیش کی جنہیں بہت سراہا گیا، اس ضمن میں میں بین الاقوامی کمینوٹی چینی قیادت کی جانب سے عالمی مسائل کے حل کے حوالے سے مزید تجاویز سننے کی خواہا ںہے اس حوالے سے بوائو فورم 2018کو عالمی میڈیا میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ