بریکنگ نیوز

بوائو فورم2018کے موقع پر امریکی تحفظ پسندانہ اقدامات پر کڑی تنقید

U363P886T1D298386F137DT20180408225145.jpg

(خصوصی رپورٹ)
گزشتہ ہفتے جنوبی چین کے صوبے ہینان میں منعقدہ بوائو فورم برائے ایشیا2018 میں شریک مختلف ایشائی ممالک کے اعلی حکام اور اقتصادی ماہرین نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے دنیا میں آزادانہ تجارت کی مخالفت کے حوالے سے شروع کی گئی تحفظ پسندانہ پالیسز کی بھر پور مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے آزادانہ تجارت کی مخالفت میں شروع کی گئی تحفظ پسندانہ پالیسیز سے ایشیا اور عالمی تجارت کے مسائل میں سنگین اضافہ ہوگا۔ موجودہ اقتصادی صورتحال کے پیشِ نظر ایک ایسے وقت جب تجارتی محاز پر امریکہ اور چین ایک دوسرے کے لیے شدید محاز آرائی کی جنب گامزن ہیں اور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک ایک تجارتی جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف بر سرِ پیکار ہو سکتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے بوائو فورم برائے ایشیا کے مندوبین نیاس امر کی استدعا کی ہے کہ تمام ایشئین معیشتوں کو باہمی انضمام مضبوط کرنا ہوگا اور طویل مدتی گروتھ کو یقینی بنانے کے لیے تحفظ پسندانہ لہر کے خلاف اپنے عوامل کو بہتر بنانا ہوگا، اس حوالے سے فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر برائے چائینہ اٹل ڈالاکٹی نے بوائو فورم2018کے موقع پر گلوبل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور چین کے مابین تجارتی حوالے سے کسی بھی قسم کی محاز آرائی سے عالمی معیشت کو نا تلافی تقصانات پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک کا یہ ہی طریقہ کار ہے کہ ایک سست رو معشیت کو سنبھانے کا واحد حل تحفظ پسندانہ پالیسیز ہیں جو اگرچہ یکطرفہ ہیں ، ماضی میں امریکہ اور امریکی عوام آزادانہ تجارت سے بڑے پیمانے پر فائدے اٹھا چکے ہیں اور اب موقع ہے کہ اس حوالے سے مغربی ممالک سے بات چیت کی جا سکے۔ چائینیز نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹرفان گانگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے مابین تجارتی چپقلش سے ایشیا کی دیگر معاشی قوتوں کو بھی نا تلافی نقصانات پہنچیں گے۔ ایشیا کے بیشتر ممالک اسی انڈسٹریل علاقے میں واقع ہیں جہاں سے بیشتر خام مال چین کے زریعے سے امریکی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اور ن اہم ممالک میں ملیشیا اور جنوبی کوریا شامل ہیں اور امریکہ اور چین کے مابین تجارتی محاز آارئی اس سپلائی مارکیٹ کو خاصی متاثرکریگی۔ دوسری جانب چین کی عالمی ٹریڈ سر پلس ایشاکے علاوہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور بیشتر امریکی، یورپی اور جاپانی کمپنیز جن میں ایپل، جنرل موٹرز، اور بوئینگ، ایسی بڑی کمپنیز ہیں جو چین کے تجارتی سر پلس میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں ، ا س حوالے سے ژنگ یانگ شنگ، جو چائییز سنٹر برائیانٹر نیشنل اکنامک ایکسچینج کیساتھ بحثیت ریسرچر منسلک ہیں انہوں نے کہا کہ تجارتی تحفظ پسندانہ عوامل کی کوئی گنجائش نہیں ہے، امریکی معیشت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن ٹرمپ انٹظامیہ ان مسائل کے حل کے حوالے سے غلط انداز میں پلاننگ کر رہی ہے واضح رہے کہ ایشئین معیشت مجموعی عالمی معیشت کا چالیس فیصد ہے اور عالمی معیشت کی گروتھ کے حوالے سے ایشئین شراکت داری ایک تہائی ہے تاہم موجودہ تحفظ پسندانہ عومل کی وجہ سے ایشئن مومینٹم تیزی سے گر رہا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں ماضی کو دیکھتے ہوئے یشیا کو ایک جدید اور خوشحال معیشت کی طرف لیکر جانا ہوگا۔ بوائو فورم برائے ایشئا نے اپنی رپورٹ2018کے حوالے سے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اینٹی گلوبلائزیشن کے حوالے جاری عوامل کو علاقائی جامعاقتصادی شراکت داری تجارتی معاہدے کی مدد سے بہتر بنایا جا سکتا ہے، بوائو فورم برائے ایشیا 2018کے شرکاء نے چین اور امریکہ کی قیادت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ تجارتی محاز آرائی کے حوالے سے جاری تضادات کو دونوں ممالک کی قیادت باہم گفت و شنید سے مذاکرات کو حل کرے۔ اور تمام دنیا کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کو ان تضادات کو پھیلنے سے بچانا ہوگا۔ اس تنظر میں ڈائریکٹر برائے ایڈون ریشوئور سنٹربرائے ایسٹ ایشئین سٹڈیزکنٹ کالڈر نے کہا ہے کہ رواں سال کے اگلے دو تین ماہ باہمی گفت و شنید کے حوالے سے بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ امریکہ اور چین جو اپنے ٹیرف کا علان کر چکے ہیں مئی کے مہینے سے انکا آغاز ہو جائیگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیونکہ بنیادی طور پر بزنس سے وابسطہ رہ چکے ہیں اس لیے وہ کوئی بھی خطرہ لینے سے نہیں ہچکچائے گئے تاہم موجودہ صورتحال میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ایک غیر زمہ دار انسان ہیں۔ تاہم بیجنگ میں یونیورسٹی آف انٹڑ نیشنل بزنس اینڈ اکنامکس کے سئینر نائب صدرلنِ گوئیجن کا کہنا ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ اپنے کھپت سے متعلق ڈھانچے میں تبدیلی نہیں کرتی تو دیگر ممالک کے مقابلے میں اس کا وسیع ترین تجارتی خسارہ ایسے ہی رہے گا۔ ٹرمپ کیپالیسیز کی وجہ سے امریکیوں پر ٹیرف میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی آج پہلے کے مقابلے میں غیر مکی مصنوعات کے لیے زیادہ وقیمت ادا کر رہے ہیں جو امریکی کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ اک طوعیل عرصے تک انہیں ایسے ہی کرنا پڑے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ