بریکنگ نیوز

اصلی بابا رحمتا اور صوبیدار صاحب

6_Vj7qh.jpg

راجہ فیصل

حال ہی میں محترم چیف جسٹس صاحب نے اپنے ایک خطاب میں ہر پنڈ میں موجود ایک بابے رحمتے کا ذکر کیا۔ میں ٹھہرا اُن کا شیدائی اور ہوں بھی پینڈو، مُجھ سے رہا نہ گیا اور اپنے ارد گرد نظر کے “گھوڑے دوڑا دئیے ہم نے!”۔

اسی تجسس نے مُجھے اپنے “دادکے” ضلع گُجرات اور تحصیل کھاریاں کے موضع سریعیہ راجگان پہنچا دیا۔ اپنے بڑوں سے کسی بابے رحمتے کا پُوچھا۔ بتایا گیا کہ ایسا تو کوئی بابا نہ تھا اور نہ ہی ہے۔ جب پُوچھا کہ گاوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے فیصلے کون کرتا ہے تو جواب ملا کے کسی زمانے میں یہ کام میرے دادا حضور صوبیدار (ر) راجہ احمد خاں سرانجام دیا کرتے تھے۔ میرے دادا نے اپنی حیات میں انگریزوں کیلئے دوسری جنگِ عظیم سے لے کر پاکستان کیلئے اڑتالیس اور پینسٹھ کی جنگ بھی لڑی۔ عسکری اعتبار سے وہ کیولری کے شعبہ سے مُنسلک تھے۔ ایک عُمدہ گُھڑسوار ہونے کے ساتھ ساتھ پُورانے زمانے کے مِڈل پاس تعلیم یافتہ بھی تھے۔

گاوں والوں نے بتایا کہ صوبیدار صاحب کی حیاتی میں گاوں کے معاملات باطریقِ احسن حل کر لئے جاتے تھے۔ اُن کی وفات، جو کے سن بانوے میں ہوئی، کے بعد گاوں میں جیسے بھونچال آ گیا۔ اُنّیس سو پچانوے میں رشتے کا تنازاعہ طُول پکڑ گیا۔ جس کے نتیجے میں آج تک کم و بیش پینتیس لوگ وفات پا چُکے ہیں۔ تعجب کی بات یہ کہ جب پُوچھا کے اب تنازعات کی صورت میں صلح کروانے کون آتا ہے تو بتایا گیا کہ علاقہ ایم این اے نے زماداری صوبیدار صاحب کی وفات کے بعد سے لے رکھی ہے۔

بابے رحمتے کی تلاش کا یہی تجسس مُجھے اپنے “نانکے” ضلع گُجرات اور تحصیل سرائے عالمگیر کے موضع بکوہل چباں لے گیا۔ وہاں میری ملاقات میرے خالہ زاد راجہ وسیم شوکت ایڈووکیٹ سے ہو گئی۔ وہی سوال، کہ پنڈ کا بابا رحمتا کون ہے؟
وہاں بھی صورتِ حال یہی نظر آئی۔ بابا رحمت نامی شخص کی عدم موجودگی میں دو ریٹائرڈ صوبیداروں نے گاوں کی مسجد کے انتظام سے لے کے امن و امان کے نظام کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔

میرے بھرپور اسرار پہ ایڈووکیٹ صاحب نے تصویروں کے ایلبم سے ایک تصویر نکال کے مجھے تھما دی۔ “یہ ہے بابا رحمت سدوالیہ!” اُن کا یہ کہنا ہی تھا کہ میں نے فوراً تصویر میں بیٹھے بابے کو غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔ وضع قطع سے چیف جسٹس صاحب والے بابے رحمتے سے زرا بھی مماثلت نہ تھی۔ پُوچھنے پہ معلوم ہوا کہ بابا رحمت سدوالیے نے ساری عُمر جنگل میں کاٹ دی۔ اُس بابا رحمت کی کُچھ جائیداد بھی تھی جو اُس نے شروع سے ہی پہلے بھائیوں کے حوالے کی رکھی پھر اپنے بھتیجوں کے۔ ساری عُمر شادی نہ کی۔ کہتا تھا کہ دُنیا بس ایک دھوکا ہے۔ جنگل میں ایک غار بنا کے وہیں رہتا تھا۔

بابے رحمتے نے ساری زندگی ایک ہی کپڑا پہنا۔ سر پہ ہر وقت پگڑی اور پاؤں میں سالوں سے بے ہنگم پیوندوں سے بھرا جوتا۔ اپنی زمین کی فصلوں کے حصے میں سے فقط تمباکو لیتا اور ایک پورانے حقے کی چلم کبھی بُجھنے نہ دیتا۔ اپنے پاس حقے کے علاوہ فقط کلہاڑی بطور ہتھیار رکھتا۔

مزید پُوچھنے پہ وکیل صاحب نے بتایا کہ بابا رحمت، جس نے ایک طویل عُمر پائی، کا انتقال ۲۰۱۰ میں ہوا۔ بابا رحمت جنگل سے اکثر قریبی دیہات میں اُسی وقت نظر آتا جب کسی کی فوتیدگی، شادی یا میلہ ہوتا۔ جب کھانے بیٹھ جاتا تو اپنی ضرورت کے مطابق کھاتا۔ لوگوں سے پنجابی زبان میں اکثر کہتا کہ “جدوں میں رَج جاواں تے چاول دا اک دانہ وی مینوں شنتیر ای نظر آوناں!” مطلب یہ کہ جب بابا رحمت ایک بار سیر ہو کے کھا لیتا تھا تو اُسے چاول کا ایک دانہ بھی شہتیر کی طرح محسوس ہوتا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا کہ جنگل میں رہنا گاوں میں رہنے سے آسان ہے۔ گاوں میں کسی کا کوئی اعتبار نہیں۔ لوگ بتاتے کچھ ہیں اور ہوتے کچھ۔ جنگل میں شیر شیر ہی ہے اور گیدڑ گیدڑ ہی۔ درخت بھی ضرورت پڑنے پہ ہر روز چھاؤں دیتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ درخت نے وعدے کے مطابق چھاؤں نہ دی ہو۔ وہ اکثر کہا کرتا کے اللہ کی بنائی ساری مخلوقات میں سے صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جو ہوتی کچھ ہے اور بتاتی کچھ۔ کوئی اپنے آپ کو شیر ثابت کرنے میں زندگی لگا دیتا ہے تو کوئی لومڑی کی طرح دوسروں کو نقصان پہنچانے کی طاق میں ہے۔ اگر انسان جانور بننے کے در پہ ہے تو کیوں نہ اصلی جانوروں کے ساتھ ہی جا کے بسیرا کر لیا جائے۔

اس بابے رحمتے کی تلاش میں بہت سی باتوں پر سے پردہ ہٹا۔ “گاوں” میں جو بھی ہے، نظریہِ ضرورت کے مطابق کچھ نہ کچھ بنا ہوا ہے اور کسی حد تک کامیابی سے گاوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ کہیں ریٹائرڈ صوبیدار گاوں کا نظام بطریقِ احسن چلاتے نظر آتے ہیں تو کہیں صوبیداروں کے جانے کے بعد معاملات کو سیاست کی نظر کر کے بیڑا غرق بھی ہو رہا ہے۔ کہیں بابا رحمتا اپنی فصل میں سے تمباکو لے کے اپنے حقے کی چلم گرم رکھتا ہے اور گاوں والوں کے دوغلے پن کے خوف سے جنگلوں میں نکل جاتا ہے۔ شاید اُس کو بھی جنگل کا قانون ہی پسند ہے کہ جس میں شیر کو شیر ہی سمجھا جائے اور لومڑی وہی چالاکیاں کرتی ہی دیکھائی دے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ