بریکنگ نیوز

جنگ گروپ اور نواز شریف

429606_88627545.jpg

ں
تحریر مجاھد خٹک
نواز شریف اور جنگ گروپ کا باہمی اشتراک مشرف کے دور حکومت میں شروع ہوا اور پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں اپنے عروج کو پہنچا جب اسٹیبلشمنٹ عدلیہ مسلم لیگ ن اور جیو نے متحد ہو کر پیپلز پارٹی کی سیاسی غلطیوں٬ نااہلی اور کرپشن کے خلاف بھرپور مہم چلائی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر اس سے دور ہو گیا اور یہ پارٹی سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی۔

اب میاں نواز شریف کے لئے رستہ ہموار ہو گیا اور وہ آسانی سے الیکشن جیت گئے۔ جب طاقت اور اختیار کا کیک حاصل ہو گیا تو ان چاروں کے درمیان اس کے بڑے حصے پر قبضہ کرنے کی جدوجہد شروع ہوئی۔ جیو اور میاں صاحب نے مل کر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف وہی محاذ کھولا جو اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے خلاف کھولا گیا تھا جبکہ عدلیہ افتخار چوہدری صاحب کے بعد کمزور پڑ گئی اور خاموشی سے دیکھنے لگی کہ کس کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔

یہ لڑائی کبھی ڈھکے چھپے انداز میں اور کبھی سر عام لڑی گئی۔ چار سالہ کشمکش کے دوران فریقین نے اپنے ترکش کے سب تیر چلا دئیے۔ تاہم جب پانامہ سکینڈل کا غلغلہ بلند ہوا تو میاں نواز شریف کی قوت کو ایک دم سے ڈینٹ پڑا جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ ایک بڑا ہتھیار آ گیا۔ چنانچہ چار سال سے جاری گوریلا وار اب روایتی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ ایک طرف عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ تھے تو دوسری جانب جیو اور نواز شریف ان کے حریفوں کی صورت میں سامنے آئے۔ تاہم چونکہ پانامہ سکینڈل نے میاں صاحب کی اخلاقی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا تھا اس لئے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ایک طویل مزاحمت کے بعد ان کی سیاسی زندگی کا اختتام ہو گیا۔

میاں صاحب کے خلاف جس دن پانامہ کیس کا فیصلہ ہوا اس دن سے اندازہ ہو گیا تھا کہ جیو ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے۔ جب اسٹیبلشمنٹ نے جیو کے طاقتور اتحادی کو ختم کرلیا تو اب اس ٹی وی چینل کی شامت لازمی آنی تھی۔

ماضی میں جب عمران خان نے دھرنا دیا تب بھی جیو کے خلاف بہت بڑا کریک ڈاؤن ہوا تھا۔ لیکن اس وقت میاں صاحب اقتدار میں تھے اور انہوں نے سرکاری خزانے سے اشتہارات دے کر جیو کو زندہ رکھا۔ لیکن اب صورتحال تبدیل تھی۔ میاں صاحب کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا اور جیو اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے قابل بھی نہیں رہا۔ جب ملک میں اس کی نشریات بند کر دی گئیں تو ظاہر ہے پرائیویٹ اشتہارات بھی ملنا بند ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ جیو ایک ماہ بھی مزاحمت نہیں کر سکا۔

ویسے میری ایک بہت پرانی پیشین گوئی تھی کہ اگر میاں صاحب اور جنگ گروپ نے اسٹیبلشمنٹ کو شکست دے دی تو پھر ان دونوں کے بیچ گھمسان کی جنگ ہوگی جیسا کہ 1999 میں ہوا تھا۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ طاقت کبھی بھی شراکت پسند نہیں کرتی۔

آج خبر گرم ہے کہ جنگ گروپ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملاتِ طے پا چکے ہیں۔ یہ جیو کی جانب سے ایک دانشمندانہ قدم ہے۔ انہیں اس مشکل وقت کو سمجھوتے کے ذریعے گزار لینا چاہئیے کیونکہ اگلی حکومت نے آ کر ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ان سے ہی مدد مانگنی ہے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ کل عمران خان اور جنگ گروپ اکٹھے مل کر سویلین بالادستی کی جنگ لڑیں گے۔

البتہ جنگ اور جیو کے اہم لوگوں کو یہ تجزیہ ضرور کرنا چاہئیے کہ ان سے کونسی غلطیاں سرزد ہوئیں جس کی وجہ سے اس اہم لڑائی میں انہیں شکست ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جنگ گروپ نے عمران خان کو خوامخواہ اپنا حریف بنا لیا۔ اگر اسٹیبلشمنٹ سے جنگ کرنی ہے تو پھر کسی بھی سیاسی قوت سے تعلق نہیں بگاڑنا چاہئیے۔ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا پر اثر ورسوخ ایک حقیقت ہے۔ اس سے بلاوجہ کا پنگا لینا ایک بری حکمت عملی تھی۔ انہیں اس لڑائی میں غیر جانبدار رکھنے میں ہی دانشمندی تھی۔

اس معرکے سے یہ اہم سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ سیاست دانوں نے اگر سویلین بالادستی کا حصول ممکن بنانا ہے تو انہیں پرفارم بھی کرنا چاہئیے اور اپنی اخلاقی ساکھ کو بھی قائم رکھنا چاہئیے۔

۔ اس کے علاوہ بھی جنگ گروپ سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں۔ ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ اب تحریک انصاف کو پوری طرح سپورٹ کریں کیونکہ میاں نواز شریف سے جڑے رہنے کا مطلب اپنی قیمتی توانائیوں کو بلاوجہ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ ایک اور لڑائی اگلے انتخابات کے بعد دھیرے دھیرے شروع ہو گی۔ اس کے لئے ابھی سے منصوبہ بندی شروع کر دینی چاہئیے۔ انہیں چاہئیے کہ اب اپنے حلیف چنتے ہوئے یہ ضرور دیکھ لیں کہ ان پر کرپشن کے داغ تو نہیں ہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ