بریکنگ نیوز

تنقید

87375614-3553-453C-98D2-C1674D1BA6C9.jpeg

تحریر عبدالرحمن

اکثر چھوٹی اور معصوم سی تنقید بھی کسی بڑی غلطی کی نشان دہی کر جاتی ہے اور اگر کسی فرد یا گروہ میں تھوڑی سی بھی سوچنے سمجھنے کی حس زندہ ہو اور اس پر توجہ دی جائے تو یقیناً وہ جگ ہنسائی سے بچ سکتا ہے۔ ہم سب اتفاق کرتےہیں کہ موجودہ نسل پہلی والوں سے ذہین اور سمجھدار ہے لیکن اسے وہ مقام نہیں دے رہے جس کا حقدار ہونے کا وہ برملا اظہار کرتی ہے. کچھ عرصہ پہلے میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن میرے بیٹے نے مجھے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے دیکھا اور سنا۔ شاید اس تماشے کو دیکھ کر ہی اس نے فیصلہ کر لیا کہ اگر ہو سکا تو وہ کبھی نوکری نہیں کرے گا۔ میں جتنی دیر فون پر رہا وہ حیرت اور پریشانی سے مجھے تکتے ہوئے ٹہلتا رہا۔ لیکن جونہی میں نے ٹیلیفون رکھا اس نے سوالات کا تابڑتوڑ حملہ کر دیا۔ جن سے مجھے احساس ہوا کہ میری اندازے کے برعکس نوجوان میں باغیانہ سوچ اور رویہ جڑ پکڑ رہاہے اور مناسب ماحول نہ ہونے کے باوجود پتا نہیں اس میں کہاں سے حقیقت پسندی کے جراثیم آ گئے؟ حالانکہ ہمارے گھر کا ماحول بھی بالکل ملکی ٹکر کا ہی ہے۔ جہاں آزادی اظہار کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ تو پھر یہ تبدیلی کیسے ائی؟ مجھے بیٹے کے سوالات سے اس میں مشاہدے اور عقل کی ہلکی سے جھلک سے خوشی کے ساتھ خلاف طبعیت تھوڑی سی شرمندگی بھی ہوئی۔ خاص طور پر جب اس نے نشاندہی کی کہ میں نے دوران گفتگو جو کہ شاید دو منٹ سے کم دورانیہ کی تھی، کم و بیش تین درجن دفعہ سر کا لفظ استعمال کیا۔ جو آداب گفتگو، گرامر، عزت و احترام، تہذیب غرضیکہ کسی بھی قانون کے مطابق درست نہیں۔ مجھے ہکا بکا دیکھ کر بھی وہ کہتا گیا! آپ نے سر کو فٹ کرتے ہوئے نہ فقرے کے شروع کا خیال کیا اور نہ آخر کا۔ حد تو یہ ہے کہ کئی دفعہ بلاوجہ سر کو فقرے کے عین درمیان میں بھی ٹھونس دیا۔ جیسے سفر سے واپسی پے شوہر عجلت میں نظر بچا کے بیوی کے نفاست سے بند کیے ہوئے سوٹ کیس میں اپنے موزے رکھ دیتا ھے اور گھر پہنچ کر ڈھکنا کھلتے ہی جھگڑا اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ صلح کے لیے زوجہ کی پسند کے تیسرے فریق کی مداخلت ناگزیر ہو جاتی ہے اور آخر یکطرفہ شرائط مان کر گھر کی سالمیت مردانہ اور شوہرانہ انا کی قربانی دے کر ہی بچ پاتی ہے۔
جو لوگ نوکری پیشہ ہیں ان کے لیے اس سارے قصے میں یقینا کوئی نئی بات نہیں اور مزاح کا عنصر تو بالکل بھی نہیں۔ بس ایک جتاونی ہے کہ ٹیلیفون ایسی جگہ رکھیں جہاں بچوں کا آنا جانا کم ہو کیونکہ نوکر چاہے کسی بھی درجے اور نسل کا ہو، اس سر والی متعدی مرض سے بچنا ناممکن ہے۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے بیٹے کے سوالوں سے ہونے والی شرمندگی میں کچھ کمی ہوئی ہے؛ وہ اس طرح کہ میرے گھر میں سیاسی ٹاک شوز کوئی نہیں دیکھتا، اگرچہ اس میں پسند نا پسند کا عمل دخل نہیں بلکہ بھلا ہو ان ڈراموں کا جو میری بیوی کو پسند ہیں وہ عین اسی وقت دکھائے جاتے ہیں جب یہ ملاگھڑے عروج پر ہوتے ہیں۔ اور اگر کبھی رات گئے دیر سے نشر ہونے والے پروگرام دیکھنے کا ارادہ کروں تو چھوٹے صاحبزادے کا فٹ بال میچ لگ جاتا ۔ عجیب قوم ہے؟ ہمارے نوجوان فٹبال کھیلنے سے زیادہ دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
اس سارے مسئلے کے پیچھے میری رسمی سی اصول پسندی بھی ہے۔ ابھی تک میں ایک چھوٹے سے فیصلے پر بیگم کو راضی رکھنے میں پتا نہیں کیسے قائم ہوں؟ کہ ٹیلیویژن بیڈروم میں نہیں جائے گا۔ اب اس کی پسند کے ڈرامے دیکھ کر اس فیصلے کی سزا کاٹ رہا ہوں۔ لیکن اس سے ایک فائدہ بھی ہوا ہے۔ بیگم کا مجھ پے لگایا اس کے ساتھ ڈرامہ نہ دیکھنے کا الزام اخلاقی جواز کھوتا ہوا لگ رہا ہے۔ میرا ازدواجی معاملات، ہندی زبان اور خصوصا طلاق سے متعلقہ علوم پر دسترس اس کا جیتا جاگتاثبوت ہے کہ میں اس کے ساتھ ٹی وی دیکھتا ہوں۔ اب بھلا میری شرمندگی اور پچھتاوے میں کمی کیسے ہوئی؟ میں جب کبھی ڈیوٹی پر دوسرے شہر جاتاہوں تو مجھے ٹی وی دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اور کیونکہ بیگم کے ساتھ ڈرامے دیکھ دیکھ کر میں ازدواجی اور خاندانی سیاست اور متعلقہ معاملات میں اچھا خاصہ ماہر بن چکا ہوں اس لیے مزید علم کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے خبروں کے چینل کا ہی انتخاب کر لیتا ہوں۔ جب میں اپنے عالی مقام وزراء، اعلی نسل سیاسی اور مذہبی لیڈران، فراڈیے ارب پتیوں اور سرکاری عہدیداروں کی اینکرز خاص طور پر خواتین کے ہاتوں درگت بنتے دیکھتا ہوں تو اپنا رویہ بہت برا نہیں لگتا، پاکستانی ٹم سبیسٹین ان کا جو حشر کرتے ہیں مجھے بڑا سکون ملتا ہے۔
باوجود اس حقیقت کے کہ مملکت خداداد میں کوئی کسی کو جوابدہ نہیں، لیکن نالائقیوں اور لالچ کی ماری یہ نامی گرامی ہستیاں جس طرح اینکرز کے سامنے سر سر کی گردان کرتی ہیں، بھائی بھائی کہہ کر توجہ کی بھیک مانگتی ہیں، میری درخواست ہے جناب کہہ کر چند اضافی لمحوں کی خیرات لیتی ہیں، حلف آٹھانے اور قسمیں کھانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے کیا کچھ قربان کرتے ہوں گے؟ لیکن ظالم اینکرز ان کی ایک نہیں سنتے۔ گفتگو کے درمیان میں بریک پے جانا، کرسی موڑ کے منہ پھیر لینا، آنکھیں چڑھا کر ناگواری کا اظہار، طنزیہ مسکراہٹ کچھ بھی معیوب نہیں لگتا۔ ہمارے لیڈران جن کے ناموں کے ساتھ ان گنت القابات سجے ہوتے ہیں انتہائی بے بسی سے وقت نزع کاٹتے ہیں۔ ان کا یہ حال کسی اورکو اچھا لگے نہ لگے سچ کہوں؟ مجھے تو بہت اچھا لگتا ہے انہیں ہی تو دیکھ دیکھ کر مجھے اپنا غلامانہ رویہ برا نہیں لگتا۔ کیونکہ میرا رویہ چلو غلط ہی سہی پر ہے تو کسی قانون کے طابع جس کی عمارت ہی ڈر اور خوف پر کھڑی ہے اور میرے ہی جیسوں کو اس معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے اس غلامی کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حضرات کس مجبوری کے غلام ہیں؟ نہ رزق کا غم، نہ جان کا خوف پھر بھی ایسا غالمانہ رویہ کیوں؟ یہ تماشا دیکھ کر سوچتا ہوں غیرت کی گولی مملکت خداداد میں ناپید ہونے کی صورت کم ازکم خواہشات کی غلامی سے بچنے کا کوئی حل تو ہوگا ہی۔
میری ناقص عقل کے مطابق نالائقی تو حالات کی پیداوار بھی ہو سکتی ہے، ممکن ہے کچھ حضرات کی پرورش ہی ایسے حالات میں ہوئی ہو جس میں غیرت کی کوئی وقعت ہی نہ ہو۔ لیکن ہوس چاہے دولت کی ہو یا رتبے کی وہ تو ہر ایک کا اپنا انتخاب ہوتا ہے۔
شکریہ اینکرز خواتین و حضرات، مجھے اس شرمندگی کے ساتھ بھی سر آٹھا کر جینے کا بہانہ دینے کا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ