بریکنگ نیوز

مکافات عمل

IMG_20180425_190315.jpg

تحریر محمد عابد
میں نے دوکان والے سے کہا اک یوفون کا کارڈ چاہیے

۔ ابھی دکان والے نے کارڈ نکالا ہی تھا کہ اچانک فائرنگ کی آواز آئی لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی ہر کوئی سوالیہ نشان تھا کہ آخر ہوا کیا؟ میں نے زیادہ وقت تجسس والی کیفیت برداشت نا کرتے ہوئے سامنے سے آنے والے یعنی جائے وقوعہ سے آنے والے شخص سے خشک گلے اور بڑی بڑی سانسیں لیتے ہوئے پوچھا بھائی کیا ہوا ہے وہاں ؟ اُس شخص نے بتایا کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار نے ایک بندے پر فائر کیے ہیں اُسکی حالت خراب ہے ہسپتال لے جا رہے ہیں۔
یہ بات 2011 کی ہے جب اس شہرِ قائد پر نامعلوم افراد کا عروج ہوتا تھا۔ نا معلوم کال آتی تھی لندن سے یا کبھی ایسے ہی نا معلوم افراد یہاں بے گناہ لوگوں کو بھی مار دیتے تھے پھر چاہے کسی شاپنگ مال کے مالک نے بھتہ نا دیا ہو یا اُس بریانی کے ٹھیلے والے نے روزانہ کا ۵۰ روپیہ نا دیا جس کی آج کمائی نہ ہوسکی وہ ٹھیلے والا جو پشاور ہو یا کوئٹہ سے آیا تھا یہاں روزی روٹی کمانے جو گھر کا ایک ہی کفیل تھا کبھی کبھی تو ایسے بھی دیکھنے کو ملا کہ اگر کوئی نا معلوم دنیا کی نظر میں معلوم افراد ہونا چاہتا تھا تو یہ لوگ اُسے بھی گولیوں سے چھلنی کر دیتے تھے پھر کچھ نا معلوم اُس لاش پر سیاست کر رہے ہوتے تھے اور اگلے روز اُس “فلاں نا معلوم شھید بھائی” کے نام سے چوک تعمیر ہوجاتا تھا اور اُس علاقے میں تین دن سوگ اور دوکانیں بند رہتی تھی۔
خیر بچپن میں کوئی کچھ کہتا تھا یا مارتا تو ماں کہتی تھی بیٹا جو کرتا ہے اُس کے ساتھ ویسے ہی ہوتا ہے، پہلی بات تو سمجھ آجاتی تھی دوسری بات میں سوچ میں پڑ جاتا تھا کہ مجھے کسی نے تھپڑ مارا تو اب اُسکو کون ماریگا اور وہی تھپڑ اُسی رفتار سے کیسے؟ اور پھر کھیل کود میں بات ذہن سے نکل جاتی تھی بحر حال میں بات کر رہا تھا شہر قائد کی یہاں رہنے والوں نے جو ستم برداشت کیے ہیں اُنکا درد صرف وہ خود ہی جانتے ہیں، یہاں آئے روز ہڑتال ہوتی تھی مغرب کے بعد دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ہوٹل پر گپ شپ لگانا تو گویا ایک خواب بن چکا تھا، ہر روز تقریباً ۲۰ لوگ تو نا معلوم افراد کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے پھر کبھی ایک ادھ کم ہی سہی پر اُنکا روز کا ریشو یہی ہوتا تھا۔
کچھ معلوم نا ہوتا تھا کہ آخر ہو کیا رہا ہے مارنے والا نا معلوم کبھی کبھی مرنے والا بھی نا معلوم عباسی شھید پے ہنگامہ مچانے والا بھی نا معلوم اور تو اور مردہ بچارہ زندہ ہوتا تو اپنی لاش پے مرنے کے بعد سیاست دیکھ کر رو پڑتا جب سر اور دھڑ سے ایک گروہ کھیچ رہا ہوتا تھا کہ بھائی میرا بیٹا ہے اِسے ایدھی کی ایمبولنس میں لے جائینگے تو دوسری طرف پیروں سے نا معلوم گروہ کھیچ رہا ہوتا تھا کہ یہ بندہ ہمارا ہے تحریک میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑا رہنے والا کارکن ہے یہ خلق خدا کی خدمت کرنے والی ایمبولنس میں اپنی آخری آرام گاھ جائیگا۔ گاؤں دیہات میں بوری گندم یا آٹے کے لئیے استعمال ہوتی ہے مگر یہاں لاشوں کے ٹکرے بوری میں بند کر کہ کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیے جاتے تھے اور پھر اُن ٹکروں کی طرح کچھ یوں ہوا کہ لندن پھر پاکستان پھر پاک سر زمین پھر پی۔ آئی۔ بی پھر بہادر آباد
اور ماں کی بات سمجھ آنے لگی کہ بیٹا جو کرتا ہے اُسکے ساتھ ویسے ہی ہوتا ہے۔ تحریر محمد عابد

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ