بریکنگ نیوز

عمران خان نے کیا سیکھا

428855_65807122.jpg

تحریر مجاہد خٹک
پی ٹی آئی کی قیادت نے جن چند صحافیوں سے ملاقات کی ان میں فہد حسین بھی شامل تھے۔ کل رات محمد مالک صاحب کے پروگرام میں انہوں نےاپنی ملاقات کی کچھ تفصیل بتائیَ فہد حسین کے مطابق انہوں نے عمران خان سے پوچھا کہ آج کے لاہور والے جلسے کی علامتی اہمیت کیا ہے؟ اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ کل والا جلسہ ایک گیم چینجر ہو گا۔ فہد حسین نے دریافت کیا کہ اس سے کیا مراد ہے؟
اس پر عمران خان کا تاریخی جواب یہ تھا کہ کل کے جلسے میں اتنی بڑی تعداد میں عوام آئے گی کہ پنجاب کے لوگ ہمیں جیتنے والی پارٹی سمجھنا شروع کر دیں گے۔ جب یہ تاثر پھیلے گا تو بہت سے الیکٹ ایبلز ہماری جھولی میں آن گریں گے۔

اگر خان صاحب کی اس منطق کا تجزیہ کیا جائے تو چند اہم نکات سامنے آتے ہیں۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے جو پرخلوص حمایتی اپنا وقت نکال کر، گرمی میں دھکے کھاتے ہوئے، ملک کے کونے کونے سے جلسے میں شرکت کے لئے آ رہے ہیں ان کی حیثیت فقط اس چارے کی ہو گی جسے ملک کی بدنام ترین اشرافیہ کو پھنسانے کے لئے ڈالا جائے گا۔ ایسی سوچ رکھنے والا کوئی بھی لیڈر سٹیٹس کو ختم نہیں کر سکتا۔ یہ ان مخلص اور ملک سے محبت کرنے والے لوگوں کی توہین ہے جو خان صاحب کو ایک نجات دہندہ سمجھے بیٹھے ہیں۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی آمد کے بعد پرانی نسل بہت تیزی سے غیرمتعلق ہوتی جا رہی ہے۔ اب نیا دور ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کی طرح سیاست میں بھی تازہ خون شامل ہونے جا رہا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ میاں نواز شریف سیاست سے باہر ہو چکے ہیں جبکہ عمران خان اور آصف زرداری کے لئے 2018 کا الیکشن اقتدار حاصل کرنے کا آخری موقع ہے۔ 2023 تک یہ دونوں اس قدر بوڑھے ہو چکے ہوں گے کہ قومی سیاست کے تند و تیز دھارے میں تیراکی نہیں کر پائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی قیادت بھی پوری قوت سے سامنے آ چکی ہو گی۔

یہی وجہ ہے کہ اقتدار کے لئے خان صاحب کا بے صبرا پن ان کی ایک ایک ادا سے چھلک رہا ہے۔ وہ شخص جو سٹیٹس کو توڑنے کا نعرہ لگا کر نوجوانوں کی امیدوں کا مرکز بنا تھا وہ اب اپنا منہ موڑ کر الیکٹ ایبلز کو لبھانے والی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ یہ اس معاملے کا دوسرا پہلو ہے۔

تیسرا پہلو وہی ہے جس کے لئے خان صاحب ہمیشہ سے بدنام ہیں۔ فرض کریں پی ٹی آئی یہ جلسہ اس لئے کر رہی ہے کہ الیکٹ ایبلز کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے تو اپنی یہ حکمت عملی صحافیوں کے ذریعے پوری قوم تک پہنچانے کی کیا تک بنتی ہے؟ آخرعمران خان اپنا منہ بند کیوں نہیں رکھ سکتے؟ فہد حسین کچھ نہ کچھ میاں نواز شریف صاحب سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے ایسی بات کہنا پراپیگنڈے کا طوفان برپا کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال پھر سے ابھر کر سامنے آتا ہے کہ جو شخص راز اپنے سینے میں دفن نہیں رکھ سکتا اس پر وہ طاقتیں کیسے بھروسہ کریں گی جو اقتدار دلانے میں ان کی مدد کر سکتی ہیں؟

کل جب فہد حسین نے یہ بات کہی تو محمد مالک، حامد میر اور سعید قاضی، تینوں اس بات پر متفق تھے کہ 2011 کے لاہور والے جلسے سے لے کر 2018 والے آج کے جلسے کے درمیان کا عرصہ خان صاحب نے اپنے مخلص ساتھیوں کر ترک کر کے رسوائے زمانہ الیکٹ ایبلز کی طرف مراجعت میں صرف کیا ہے۔ پاکستانی قوم کی امیدوں کے محل پھر سے مسمار ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔ بھٹو صاحب نے اقتدار میں آنے کے بعد جو تاریخی غلطی کی تھی وہ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے ہی دہرا رہے ہیں۔ ہماری سیاسی لیڈر شپ نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ