بریکنگ نیوز

بین الاقوامی فلائی وے سمٹ

1.png

بین الاقوامی فلائی وے سمٹ
تحریر محمد شکیل ملک
تلور ایک مہاجر پرندہ ہے۔ ہر سال جب روسی ریاستوں میں برف پڑتی ہے تو اس کو کھانے کے لئے حشرات الارض میسر نہیں آتے۔ پھر یہ خوراک کی تلاش میں غول درغول نکلتا ہے۔ ہزاروں میل اڑتا ہوا ان ریگستانی علاقوں میں اترتا ہے جہاں حشرات الارض، چھپکلیاں وغیرہ بہت تعداد میں پائ جاتی ہیں۔ چند ماہ گزارنے کے بعد وہ دوبارہ اپنے وطن کو لوٹتا ہے جہاں برف پگھل چکی ہوتی ہے اور خوراک اس کی منتظر ہوتی ہے۔
پاکستان کے ریگستانی علاقوں میں یہ پرندہ ہجرت کر کے آتا ہے. یہاں چھپکلیاں ، سانپ اور کیڑے مکوڑے کھاتا ہے۔ مارچ میں یہ واپس اپنے دیس کو مارچ کر جاتا ہے۔ پاکستان کی ایک این جی او نے حال ہی میں ان کو گنا ہے جس کے اعداد وشمار کے مطابق انکی تعداد کوئ ساڑھے چھ ہزار ہے۔
اپنی مردانہ طاقت کی صلاحیت ( جو کہ فرضی ہے) کی بنا پر تلور مڈل ایسٹ میں بہت مقبول ہے۔ ان کا خیال ہے کہ عقاب کی ذریعے شکار کئے گئے تلور کو کھا کر وہ کئ سال تک جوان رہتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ کثرت ازواج ہے۔
سیکر فالکن دنیا کا سب سے مہنگا اور تیز رفتار فالکن ہے جو تقریباً تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتا ہے۔ مڈل ایسٹ میں یہ پسندیدہ ترین پرندہ ہے جو تلور کے شکار کے لئے مستعمل ہے۔
ہم نے ابوظہبی میں مہاجر پرندوں کی اڑان کے راستوں پہ ایک سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں تقریباً ستر ملکوں کے نمائندے اور سو کے لگ بھگ بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شامل ہوئے۔ اتنی بڑی کانفرنس کا پرندوں کو علم نہیں۔ ابوظہبی کی حکومت نے اس کانفرنس میں میزبانی کی اور خطیر رقم خرچ کی۔ پرندوں کے مسائل اور انکی افزائش کے طریقہ کار پر سیر حاصل مباحثے کئے گئے۔ عربوں کے پسندیدہ پرندوں فالکن اور بسٹرڈ پہ خاصہ وقت لگایا گیا۔
پہلے دن ہبارہ بسٹرڈ پہ سمٹ ہوئ جس میں بڑے بڑے سورما گوروں نے پریزنٹیشنز دیں۔ ایک گورے نے بتایا کہ دنیا میں ہبارہ کے بارے میں آشنائ بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ہبارہ کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ انکی تحفظ افزائش سینٹرز میں افزائش کی جائے اور جب کچھ بڑے ہوں تو مختلف علاقوں میں انکو کھلا چھوڑا جائے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ کچھ علاقوں میں شکار پہ مکمل پابندی ہو اور جہاں شکار کی اجازت ہو وہاں واضع قوانین بناکر شکاریوں کو انکا پابند بنایا جائے۔ ایسے علاقوں کی نگرانی کا موثر نظام ہونا چاہئے تاکہ کوئ غیر قانونی شکار نہ کر سکے۔ انہوں نے واضع کیا کہ اعدادوشمار کے مطابق سنہ دو ہزار چار سے اب تک ایشیا میں اکتیس ہزار ہبارہ بسٹرڈ غیر قانونی طور پر مارے گئے ہیں۔ یہاں انہوں نے پاکستان کے چند شکاریوں کی ایک تصویر دکھائ جو ان کے مطابق اپنے سامنے دو ہزار ہبارہ مار کر فخر سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس پہ کانفرنس ہال میں ایک غلغلہ بلند ہوا اور لوگوں کے منہ سے افسوس کے الفاظ نکلے۔ بعد ازاں ہمیں کسی نے بتایا کہ یہ تصویر جعلی ہے۔ اس گورے نے ہبارہ کے معاملے کو ایسا پیش کیا کہ وہ عربوں کے دلوں میں جاگزیں ہو گیا۔ بعد میں ہمارا جب ایک عرب سے تعارف ہوا تو اس نے ہمیں ایسے دیکھا جیسے ان دو ہزار ہبارہ کے قاتل ہم ہی ہیں۔
گورے نے ہبارہ بسٹرڈ کے جائز شکار کے متعلق بتایا کہ ان کا جائز شکار صرف مخصوص علاقوں میں ہونا چاہئے۔ شکار کے لئے صرف عقاب استعمال ہونے چاہئیں۔ شکار اس موسم میں ہو جب افزائش نسل کا موسم نہ ہو۔ شکاریوں کی تعداد محدود ہو اور شکار کے بعد مقید افزائش کے پرندوں کو اس علاقے میں آزاد بھی کیا جائے۔ اس نے یہ ساری باتیں اس لئے کیں کہ عرب رائلٹی کے لوگ انہی اصولوں پہ عمل کرتے ہیں۔ ورنہ ہمارے وڈیرے اور اشرافیہ کے لوگ گن سے شکار کرتے ہیں اور ٹولیوں میں کرتے ہیں۔ فارسٹ کے لوگ بھی انکے اپنے ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک سائیں دوست نے ایک بار ہمیں کوئ دس پرندے بھیجے۔ ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان کا گوشت کھائیں یا ماتم کریں۔ یہ تحفہ ان کے بقول انہوں نے چند اور دوستوں کو بھی بھیجا تھا۔
گورے ریسرچر کے اعداد و شمار کے مطابق مقید افزائش نسل کا ہبارہ جنگلی ہبارہ کے اکیس دن بعد ہجرت کرتا ہے اور کوئ چار سو ستر کلومیٹر تک جاتا ہے۔ اگر دوسو ہبارہ کا شکار کیا جائے تو ان کے بدلے میں کم ازکم انیس سو بیس ہبارہ بسٹرڈ جنگلی بسٹرڈ کے غول میں چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگلی ہبارہ کی آبادی سالانہ چھ اعشاریہ چھ فی صد کم ہورہی ہے۔ انہوں نے یہ نتائج اپنے مراکش میں پندرہ سالہ ، یو اے ای میں دس سالہ اور سینٹرل ایشیا میں پندرہ سالہ تحقیق پہ نکالے۔ انہوں نے بے شمار ہبارہ بسٹرڈ میں سیٹلائٹ ٹریکرز بھی لگائے۔ آخر میں انہوں نے نتیجہ پیش کیا کہ ہبارہ اب اتنے کم ہوگئے ہیں کہ یہ اب شکار کے لئے میسر نہیں اس لئے شکار پہ پابندی لگائ جائے۔ اگر مقید پرندوں کی افزائش کر کے بھی چھوڑا جائے تب بھی شکار قابل برداشت نہیں۔ تاہم ہبارہ کی مقید افزائش انتہائ ضروری ہے۔ ان کا نتیجہ کچھ افراد کو پسند نہ آیا۔ تاہم جب انہوں نے مقید افزائش پہ زور دیا تو وہ چہرے مطمئن ہوگئے۔ اس گورے کا بھی کام ہوگیا جو مقید افزائش کا کہیں سینٹر کھولنے کا پروگرام بنا رہا تھا۔ امید واثق ہے کہ اسے عربوں سے فنڈ مل جائیں گے۔
اس کے بعد جو پریزنٹیشن دی گئ اس میں بتایا گیا ہبارہ کے طبعی مسکن میں انحطاط، غیر قانونی شکار اور بجلی کی تاروں سے ٹکرا کر انکے مرنے کی بنا پر انکی آبادی میں تغیر آرہا ہے۔ ایک مادہ ہبارہ اوسط ہر سات سال میں ایک بچے کو پروان چڑھاتی ہے لیکن درج بالا وجوہ کی بنا پر ایک مادہ ہبارہ کے مقابلے میں اعشاریہ چھ نر پرندہ رہ گیا ہے۔ اس لئے حکومتوں اور این جی اوز کو چاہئے کہ زندہ پرندوں کو جال وغیرہ لگا کر پکڑنے کے عمل میں کمی کروائیں۔ زرعی پروگرام شروع کریں جس کی بنا پہ پرندوں کی جائے مسکن میں افزائش کی سہولیات ہوں۔ بجلی کی تاروں کو زیر زمین لے جائیں تاکہ پرندے ان سے ٹکرا کر نہ مریں۔ اس سلسلے میں میڈیا کو استعمال کیا جائے کہ پرندوں کے تحفظ و بچاؤ کے متعلق آگاہی ہو۔
بحث و مباحثے کے بعد درج ذیل پانچ سفارشات مرتب کی گئیں:-
-کچھ مخصوص علاقوں کو ہبارہ کی افزائش کے لئے مکمل طور پر محفوظ کیا جائے۔
-عوام الناس کی مدد سے وسیع علاقے ہبارہ کے جائے مسکن کے طور پر بنائے جائیں۔
-موجودہ جائے مسکن کا اچھی طرح انتظام کیا جائے
-ہبارہ کے جائے مسکن میں موجود سڑکوں کا رخ موڑا جائے، بجلی کی تاروں کو زیر زمین کیا جائے، باڑ لگائ جائے۔
– قواعد کے تحت شکار کو قابل برداشت بنایا جائے
درج بالا تجاویز ایسی تھیں کہ ان پہ عمل درآمد کے لئے پیسے چاہئیں اور پیسے وہی دے سکتے ہیں جن کے پاس موجود ہیں اور انہیں ہبارہ سے محبت بھی ہے۔ پریزنٹیشنز دینے والے گوروں نے انتہائ کامیابی سے فنڈ لینے کے ماحول کو سازگار بنا دیا۔ عربوں کی جیبیں چھلکنے کے لئے مچلنے لگیں۔
اگلے دن پرندوں پہ عمومی پریزنٹیشنز دی گئیں۔ یہ بتایا گیا کہ پرندوں کی بقا کا مسئلہ بین الاقوامی ہے۔ کریبین میں ساحلی پرندوں کا بے تحاشا غیر قانونی شکار ہوتا ہے۔ ساؤتھ افریقہ میں طوطوں کی غیر قانونی تجارت ہوتی ہے۔ بحیرہ روم میں کثیر تعداد میں پرندے جالوں کے ساتھ زندہ پکڑے جاتے ہیں۔ افریقہ میں گدھ کو زہر دیا جاتا ہے۔ شکار کرنے والے پرندوں کو یورپ میں زہر دیا جاتا ہے۔مڈل ایسٹ میں بندوقوں سے غیر قانونی شکار ہوتا ہے۔ ایشیا میں جالوں سے پرندے پکڑے جاتے ہیں۔ اس پہ ہمیں یاد آیا کہ ہم بھی بچپن میں اس عمل کے مرتکب رہے۔ ٹوکرے کے نیچے ڈنڈا لگا کر کھڑا کرتے اور ڈنڈے کے ساتھ رسی باندھ کر ایک سرا ہاتھ میں پکڑ کر دور اوٹ میں بیٹھ جاتے۔ ٹوکرے کے نیچے دانے پڑے ہوتے۔ پرندے دانا چگنے ٹوکرے کے نیچے گھستے تو ہم رسی کھینچ لیتے۔ ڈنڈا نکلنے سے ٹوکتا گر جاتا اور پرندے پھنس جاتے۔ پھر ہم ٹوکرے پہ ایک چادر ڈالتے اور ہلکا سا اوپر کر کے پرندے پکڑ لیتے۔
مشرق بعید میں گانے والے پرندوں کو کثیر تعداد میں پکڑ کر بیچا جاتا ہے۔ یہ بہت بھیانک صورت حال ہے۔ اگر انسان اسی طرح پرندوں کے پیچھے پڑا رہا تو ایک دن دنیا میں کوئ پرندہ نہیں رہے گا۔ انسان کے اعمال قبیحہ کی وجہ سے پہلے ہی دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جسکی وجہ سے پرندوں کے طبعی مسکن کم ہوتے جارہے ہیں۔
پرندوں کا غیر قانونی شکار اور جالوں کے ذریعے پکڑ دھکڑ ہر ملک کا مسئلہ ہے۔ ایسی صورت حال کا ادراک اور تجزیہ ضروری ہے تاکہ اس کے سدباب کے لئے قدم اٹھائے جا سکیں۔ ہر قوم کے قوانین کا تجزیہ بھی ضروری ہے کہ وہ کس قدر موثر ہیں کہ پرندوں خصوصی طور پہ ہبارہ بسٹرڈ کا تحفظ ممکن بنے۔ اس سلسلے میں ایسے تیکنیکی قواعد و ضوابط کی ضرورت ہے کہ غیر قانونی شکار کا پتہ چلے۔ اٹلی میں سالانہ چھپن لاکھ پرندے انسانی ظلم کا شکار ہوکر کھائے یا پکڑے جاتے ہیں۔ شام میں چون لاکھ پرندے سالانہ مارے یا پکڑے جاتے ہیں۔ مصر میں انتالیس لاکھ، لبنان میں چھبیس لاکھ اور سائپرس میں تئیس لاکھ پرندے شکار ہوتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان ٹاپ کے شکاری ملکوں میں صرف ایک غیر مسلم ہے باقی سب مسلمان ہیں۔
برڈ لائف کے ادارے کے تحت بحیرہ روم میں 2014-2015 میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق اس علاقے میں سالانہ ایک کروڑ تیرہ لاکھ پرندے شکار کئے جاتے ہیں یا پکڑے جاتے ہیں۔ اسی طرح بحیرہ عرب، عراق اور ایران میں کئے گئے سروے کے مطابق سالانہ ایک اعشاریہ سات ملین سے لیکر چار اعشاریہ چھ ملین پرندے سالانہ شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح افریقہ- یوریشیا کے پرندوں کی اڑان کے راستے میں سالانہ ایک کروڑ چوالیس لاکھ پرندے شکار ہوتے ہیں یا پکڑے جاتے ہیں۔ ان میں ایک کروڑ تینتیس لاکھ مہاجر پرندے ہوتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ مہاجرین کے ساتھ کم ہی اچھا سلوک ہوتا ہے۔ انسان کو مہاجر پرندہ مارنے میں شائد کافی لذت ملتی ہے۔ بلھے شاہ نے کئ سو سال پہلے کہا تھا۔
آئ رُت شگوفیاں والی، چِڑیاں چُگّن آئِیاں
‎اِکناں نُوں جُرّیاں پَھڑ کھاہدا، اِکناں پھاہیں لائیاں
‎اِکنں آس مُڑن دی آہے، اِک سِیخ کباب چڑھائِیاں
‎بُلھے شاہ! کیہ وسّ اُنھاں دا جو مار تقدیر پھسائِیاں
دنیا میں بیس ایسے مقامات ہیں جہاں پرندوں کا سب سے ذیادہ شکار ہوتا ہے۔ ان مقامات میں مجموعی طور پر سالانہ پچاسی لاکھ پرندے مارے جاتے ہیں۔ ان میں سات مقامات شام میں ،پانچ لبنان میں تین تین سائپرس اور مصر میں اور ایک ایک آذربائیجان اور ایران میں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارے مسلمان ملک ہیں جو سب سے ذیادہ پرندے مارتے ہیں۔ ہر ملک کو دراصل پرندوں کے غیر قانونی شکار کا سکور بورڈ بنانا چاہئے تاکہ اس سے ایسے اقدامات کی رکاوٹ کے لئے حکمت عملی وضع کرنے میں اور سیاسی حمائت اور وسائل کے حصول میں مدد ملے۔ بین الاقوامی قوانین پہ عمل درآمد بھی آسان ہوگا کہ یہ پتہ چلے گا کہ ایک خاص مدت میں کتنے پرندوں کا غیر قانونی شکار ہوتا ہے۔ دراصل معلومات میں کمی، وسائل میں کمی اور دلچسپی کی کمی ایسے مسائل ہیں جن کی بنا پہ پرندوں کے شکار میں کمی نہیں ہو پائ۔ اس سلسلے میں مالٹا ایک ایسا مثالی ملک ہے جہاں پرندوں کے لئے مخصوص پولیس ، سخت قوانین، عمیق انسپکشن اور سخت سزاؤں کی وجہ سے پرندوں کا شکار نہیں ہوتا۔ دنیا کو مالٹا کی پیروی کرنی چاہئے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ قومی سطح پہ شکار کی تنظیمیں بنائ جائیں اور قوانین پہ عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ شکار کے قوانین پہ عمل کروانے والے اداروں اور سماجی اداروں کے درمیان گہرا تعلق پیدا کیا جائے۔ تعلیم اور آگاہی عام کی جائے کہ لوگ اخلاقی طور پر پرندے مارنے کو برا سمجھنے لگیں۔
کانفرنس کے تیسرے اور آخری دن سیکر فالکن پہ ایک بہت اہم پریزینٹیشن دی گئ۔ اس میں سیٹلائٹ ٹریکرز کے ذریعے کی گئ ریسرچ کے ذریعے بتایا گیا کہ ہنگری، رومانیہ، ترکی اور چائنہ میں عقاب بجلی کے تاروں سے ٹکرا کر مر جاتے ہیں۔ لیبیا، روس، کرغزستان اور منگولیا میں مختلف تراکیب سے عقاب پکڑے جاتے ہیں۔ ہنگری اور سربیا میں دوسرے پرندوں کو بچانے کے لئے عقابوں کو زہر دیا جاتا ہے۔ ہنگری میں انہیں بندوقوں سے مارا جاتا ہے۔ ہنگری، آسٹریا اور رومانیہ میں روڈ اور بلڈنگز بنانے کی وجہ سے عقابوں کے طبعی مسکن میں کمی آرہی ہے۔ اس سلسلے میں یورپ اور چائنہ میں بجلی کے تاروں کو تبدیل کیا گیا ہے۔ افریقہ اور مڈل ایسٹ میں یہ مسئلہ بدستور قائم ہے۔ مہاجر عقاب ایشیا میں بجلی کی تاروں سے ٹکرا کر مر جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں کچھ نہیں کیا جارہا۔ ان مسائل کا حل نکالنا چاہئے۔
عربوں کی عقابوں کے ذریعے شکار کی روایات کو ابھارتے ہوئے اس بات پہ زور دیا گیا کہ حکومتوں کو لائحہ عمل بنانے کی ترغیب دی جائے۔ اس سلسلے میں معلومات کو عام کیا جائے۔ عقابوں کی ہجرت میں آنے والے ممالک میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔ مانیٹرنگ اور ریسرچ کو عام کیا جائے۔
یہ بتایا گیا کہ منگولیا میں ایک سال میں چار ہزار عقاب بجلی کی تاروں سے ٹکرا کر کرنٹ لگنے سے مرے۔ عقابوں کے گھونسلوں کا بھی مسئلہ ہے۔ عقاب کی خاصیت ہے کہ یہ اپنا گھونسلہ نہیں بناتا بلکہ دوسرے پرندوں کے بنائے گھونسلوں پہ قبضہ کر لیتا ہے۔ شائد اسی لئے یہ انسان کو بہت پسند ہے۔ ایک ادارے نے بتایا کہ انہوں مختلف ملکوں میں سٹیل کے مصنوعی گھونسلے بنا کر
لگائے جو عقابوں کا مسکن بن گئے۔
کانفرنس کی آخری پریزنٹیشن گدھ پہ تھی کہ ان کی آبادی میں کیسے اضافہ کیا جائے۔ ان تمام پریزنٹیشنز نے ڈونرز کے دل اتنے موم کر دئے کہ آخر میں ایک خفیہ ڈونرز کانفرنس منعقد کی گئ جس میں صرف فنڈ دینے والے یعنی عرب اور فنڈز لینے والے یعنی گورے شامل ہوئے۔
سمٹ کے اعلامیے میں آٹھ ترجیحات کی نشاندہی کی گئ جو درج ذیل ہیں:-
– مختلف عناصر و اقوام پہ مشتمل ساحلوں کے پرندوں کی دیکھ بھال کے لئے ایک فورم تشکیل دیا جائے
– توانائ کے منصوبوں میں مہاجر پرندوں کی نقل و حرکت میں آنے والی رکاوٹوں کو مدنظر رکھا جائے
– تمام اقوام پرندوں کے غیر قانونی شکار اور تجارت پہ سختی سے قابو پائیں
– ہبارہ کے تحفظ کے لئے ان کے جائے مسکن کو فروغ دیا جائے
– افریقہ، یورپ اور ایشیا میں سماجی تنظیموں کو شامل عمل کیا جائے
– سیکر عقاب کے تحفظ کے پروگرام کو تمام متعلقہ ملکوں تک وسعت دی جائے
– سول سوسائٹی برائے پرندوں کے تحفظ کو سپورٹ کیا جائے اور انکی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے
– پرندوں کے تحفظ کے لئے ڈونرز الائنس کو وسعت دی جائے۔

محمد شکیل ملک
ایڈیشنل سیکرٹری
وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ