بریکنگ نیوز

سیاسی حقیقت

430397_43241466.jpg

عنوان ۔ سیاسی حقیقت ۔

تحریر۔ سنیٹر سلیم ضیاء

یوں تو ہمارے معاشرے کا ہر آدمی آجکل جہاں دیدہ ۔ ارسطو اور سقراط بننے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ لیکن نا جانے وہ ذہین دماغ ۔ گہری سوچ اور مسلسل جدوجہد کرنے والے لوگ نا پید کیوں ہو گئے ہیں ۔ علمی باتیں ۔ بزرگوں کی مجلس ۔ اور کتاب پڑھنے کا شوق آج کے دور میں کافی کم دکھائی دیتا ہے۔ شاید اس کو وقت کی سرت رفتاری نے تبدیل کر د رکھا ہے یا ہما ری تر جیحات اور ضرریات کچھ تبدیل سی ہو کر رہ گئی ہیں ۔ کمپیوٹر کی کاپی پیسٹ ۔ سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ اطلاعات نے اکثریت کی سوچ کو معاملے کی گہرائی اور گیرائی پر غور کرنے سے مفلوج کر دیا ہے۔
مجھے عملی سیاست میں آۓ تقریبا تین دہائیوں کا عرصہ گزر نے کو ہے۔ اس دوران مختلف ذہن متفرق مزاج اور بدلتے ہوئے حالات کافی قریب سے دیکھے ہیں ۔
سیاست کبھی بھی آسان کام اور اقتدار کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہا یہ سورج کی طرح بدلتی ہے جیسے عام آدمی کا وقت اور سایہ بدل جاتا ہے ۔ سیاست میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
جب جس کا سورج چمک رہا ہو تو سایہ اسکے قدموں میں ہوتا ہے اور غروب آفتاب کے وقت اسکے قد سے بڑھ جاتا ہے ۔
جب ہم نے سیاست شروع کی تو اس میں گالی گلوچ الزام تراشی اور عوام کو بیوقوف بنانے کا رواج اتنا عام نہیں تھا ۔ اپنی قیادت کی بات پر یقین کردار کی پختگی اور وعدے کی پاسداری اہم جزو حیات ہوتے تھے۔ جو کہ اس پر آشوب دور میں بھی زیب تن اور مقصد حیات بنا کر اپنائے ہوئے ہیں ۔ ہمارے ناقدین ہمیشہ سےقیاس آرائی ۔ طنعہ اور منشور کی عدم تکمیل جیسے الفاظ کا سہارا تو الیکشن قریب آنے پر لیتے تھے لیکن بد قسمتی سے مروجہ سیاست اور دور حاضر جیسا اندز کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔
سابقہ کچھ سال جب سے جناب عمران نیازی صاحب سیاست کے افق پر نمودار ہوئے تو حیران کن انداز اور چال دیکھنے کو ملی۔ انکا ایک مخصوص انداز جو کہ سیاسی مخالف کی ذاتی ذندگی سے شروع ہوتا ہے اور مجمع کی مو جودگی و میڈیا کوریج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیازی صاحب بد تہذیبی کی تمام حدود بہت بے شرمی سے نیازی صاحب پار کر جاتے ہیں ۔
۔ انکے حالیہ سیاسی احوال کا اگر بغور جائزہ تو کچھ یوں ہے کہ
آئندہ عام انتخاب قریب آ ر ہے ہیں ایسے وقت میں کپتان صاحب ملک گیر آواز میں مینار پاکستان کے گراؤنڈ گریٹر اقبال پارک میں طاقت کا مظاہرہ کیوں ضروری سمجھتے ہیں ۔ اگر حقیقت میں تحریک انصاف آئندہ حکومت بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا دیکھتی ہے۔ اور اس حالت میں ہے تو یہ جلسہ اور اپنی سیاسی جماعت کی طاقت کس کو دکھائی جا رہی ہے۔ کیا
کہیں خان صاحب خود تذبذب کا شکار تو نہیں ؟ یاد رہے اسی جگہ ایک سیاسی جلسہ منعقد کر ے عمران صاحب نے اپنے آپکو قومی رہنماؤں کی فہرست میں شامل کیا ۔ لیکن اسوقت کا منشور اور دیگر حقائق سے خود مو صوف انحراف کر چکے ہیں ۔ گویا کہ بروز اتوار مینار پاکستان گراؤنڈ در حقیقت تحریک انصاف اپنے نئے منشور اور پارٹی کے ساتھ سیاسی میدان میں اترنے جا رہی ہے یا آئندہ الیکشن میں کامیابی کی امید کو دلائل سے ثابت کر کے عوامی کا رجحان بنانے کی کوشش کرنے جا رہی ہے۔
کیونکہ اکتوبر ٢٠١١ والی تحریک انصاف تو اب نہیں ہے کہ وہ الیکشن کے منشور کا اعلان کرے یہ نئی تحریک انصاف ہے جس میں میدان مارنے والے گھوڑے اور سرمایہ دار شامل ہو چکے ہیں ۔ جو تحریک انصاف کے بنیادی منشور اور تام تر سابقہ محنت کی نفی دکھائی دیتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ وقتی مفاد پرست لوگوں کی چھتری وقت گزرنے سے تبدیل ہو جاتی ہے ۔ مسلم لیگ ن ایک نظریہ پہ کھڑی ہے اور قائم رہے گی۔
کیونکہ سیاست میں سنجیدگی ۔ نظریہ اور کارکردگی کامیابی کے بنیادی عناصر ہوتے ہیں جس سے نیازی صاحب عملی طور پر معذوری ثابت کر چکے ہیں۔ نظریہ اور مسلسل جدوجہد پر یقین رکھنا عوام اور سیاسی تاریخ میں زندہ رہنے کا عمل ہوتا ہے۔ شخصی اغلاط اور نادانستہ غلط سیاسی فیصلے ہر دور میں ہر مقتدر انسان سے سر ذد ہوتے رہے ہیں لیکن ان کے مواخذے کا پلیٹ فارم وہ نہیں جو اکثریت کے ذہنوں میں بیٹھ چکا ہے۔ یہ ہمیشہ سے اس بحثیت قوم ہماری بد قسمتی رہی ہے کہ ہم بہت جلد ماضی کو بھول جاتے ہیں ۔ لیکن اگر اس الیکشن کی بات کی جائے تو یہ پہلی دفعہ عمل ہو رہا ہے کہ قائد مسلم لیگ ن نہ صر ف اپنے خلاف ہونے والے عدالتی فیصلہ پر عدم اطمینان کے اظہار کر رہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ اپنی سیاسی تاریخ کی کارکردگی بھی عوام کے ذہنوں میں انتہائی مثبت طریقے سے ثبت کر رہے ہیں ۔ سندھ میں پچھلی کئی دہائیوں مختلف انداز میں متفرق چہرے ایوان اقتدار عوام پر مسلط ہیں ان قابض قوتوں میں پیپلز پارٹی سر فہرست ہے جو بھٹو اور جمہوریت کے نام پر عملی طور پر سندھ کی عوام کو یر غمال بنائے ہوئے ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بھٹو عوامی راج پر یقین رکھتے تھے ۔ لیکن انکے بعد انکے نام پر بہت کچھ اس سندھ کے ساتھ ہو چکا ہے۔ اگر یہی سوچ سندھ میں مقبولیت کا پیمانہ ہے تو آئندہ الیکشن مسلم لیگ ن کو کامیابی ملنی چائیے۔ کیونکہ جمہوریت پر یقین اور اسکا فلاحی منصوبہ جات کا عملی مظاہرہ تو مسلم لیگ نے کیا ہے ۔

۔ دوسری طرف بحثیت سیاسی کارکن یہ سمجھتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کا بھٹو پارٹی یا پیپلز پارٹی سے ”زر داری“ پارٹی بننا ایک افسوس ناک ۔ عبرت ناک اور حیران کن عمل ہے۔ اب ایسے حالات میں عوام اور سیاسی شعور رکھنے والے انسان کے پاس ایک ایسی جماعت جس نے ملک کو خوشحالی دی اور عوام کے اصل حق یعنی ووٹ و عزت دینے کی بات کی یہی موضوع ترین جماعت ہی نہیں بکہ لباس بن جائے گی ۔ خوش قسمتی کی بات ہے کہ شہباز شریف جیسا انقلابی اور عوام دوست اسکو بطور صدر آگے بڑھا رھا ہے۔ بلکہ آئندہ کچھ دنوں میں نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ سے بھی بہت سے سیاسی رہنما شہباز شریف کی سربرائی میں مسلم لیگ میں شامل ہونے کو تیار بیٹھے ہیں ۔ جو کہ دراصل سیاسی بصیرف ۔خوشحالی پر یقین اور مستحکم پاکستان کی واضع دلیل ہے۔

دعا ہے خالق کون و مکان اس مملکت خداداد کو مستحکم اور تابندہ رکھے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ