بریکنگ نیوز

جینز پہننے والی طالبات اور ‘بے حیائی’ کا سدباب

184042_3861698_updates.jpg

جینز پہننے والی طالبات یا لڑکیوں کے حوالے سے حالیہ کچھ عرصے میں متعدد خبریں اور بیانات سامنے آتے رہے ہیں، گاہے بگاہے مختلف یونیورسٹیوں کی جانب سے طالبات کے جینز پہننے پر پابندی کی خبریں بھی سننے کو ملیں اور رواں برس مارچ میں پنجاب حکومت نے ایک ہدایت نامے کے ذریعے اساتذہ کے جینز پہننے پر بھی پابندی عائد کر دی۔

گزشتہ چند برسوں میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی آف فیصل آباد، جی سی یونیورسٹی فیصل آباد، فاسٹ نیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، کنیئرڈ کالج اور ایسے دیگر بڑے تعلیمی اداروں کی جانب سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر طالبات کے جینز پہننے پر پابندی کی خبریں آتی رہی ہیں۔ بات تو معقول ہے۔ کسی لڑکی کے جینز پہننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ وہ ‘مغرب زدہ خیالات’ کی حامل ہے۔

لیکن ایسا نہیں ہے کہ مغرب بھی اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتا رہا ہے۔ باشعور مغربی قوموں نے بھی اس کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ مشرقی جرمنی کی ‘باحمیت حکومت’ نے جینز پر طویل عرصے تک پابندی عائد کیے رکھی۔ اُدھر تعلیمی اداروں اور ڈسکو میں جینز پہننے کی ممانعت تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کے باشعور رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جینز صرف وہی افراد پہنتے ہوں گے، جو مجرمانہ اور آوارہ ذہنیت کے مالک ہوں گے۔

بگڑا ہوا بھارت بھی جینز پر پابندی لگا رہا ہے۔ پٹنہ کے مگدھ مہیلا کالج نے طالبات کے جینز پہننے پر پابندی لگادی ہے۔ آگرہ کے ایک گاؤں کی پنچایت نے لڑکیوں کے جینز پہننے پر پابندی لگاتے ہوئے شراب نوشی اور جوئے کے اڈوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیرالہ کے ایک پروفیسر صاحب نے تو اس کے عواقب پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ علم نباتیات کے پروفیسر راجتھ کمار نے بتایا ہے کہ وہ عورتیں جو جینز اور شرٹس پہنتی ہیں ان کے ہاں عام بچوں کی بجائے خواجہ سرا پیدا ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے کیرالہ میں خواجہ سراؤں کی تعداد 6 لاکھ ہو چکی ہے۔

اگر مشرقی جرمنی سے لے کر بھارت تک جینز پر پابندی لگ چکی ہے تو ہمیں ان سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے، کیونکہ یہ ‘غیرت کا معاملہ’ ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جینز کی جگہ طالبات کیا پہنیں؟ بہتر ہے کہ طالبات کو ہمارا روایتی لباس پاجامہ پہننے کی ترغیب دی جائے۔

پاجامے کو ہر قسم کے فیشن میں بہ سہولت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی بے شمار اقسام ہیں۔ جن لڑکیوں کو کھلا ڈلا لباس پسند ہے وہ کان پور اسٹائل کا لہراتا ہوا پاجامہ پہن سکتی ہیں۔ جن طالبات کو جسم سے چپکے ہوئے تنگ کپڑے پسند ہیں وہ چوڑی دار پاجامہ پہن لیں۔ پھر لٹھے سے لے کر مختلف لان اور دیگر اقسام کے رنگ برنگ پاجامے دستیاب ہیں۔ جینز میں تو بس دو تین رنگ ہی ہوتے ہیں اور ڈیزائن سب کا ایک ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پاجامے میں کتنی زیادہ ورائٹی ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر جدید ڈیزائنر لباس میں جینز یا شلوار کی بجائے پاجامے کا رواج ترقی پا رہا ہے۔

یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض طالبات نہایت ہی مہین کپڑے کے پاجامے پہن لیتی ہیں جس سے پردے کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، بہتر ہے کہ جینز پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بعد پاجامے کے بارے میں بھی رہنما اصول وضع کر دیئے جائیں۔

پہلا یہ کہ پاجامے کا کپڑا خوب موٹا ہونا چاہیے۔ ہو چاہے کاٹن کا، لیکن اتنا دبیز ہو کہ اس کے آر پار دیکھنا ممکن نہ ہو تاکہ بے پردگی سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ طلبہ و طالبات کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس وقت نہایت کم ہوتا ہے اور عام لٹھے کے پاجامے پر نہ صرف ایک گھنٹے میں شکنیں پڑ جاتی ہیں بلکہ ایک مرتبہ پہننے کے بعد اسے دھونا بھی پڑتا ہے، لہذا اس مسئلے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

ہم نے مارکیٹ میں نیلے اور کالے رنگ کی کاٹن کا ایک خوب موٹا کپڑا دیکھا ہے۔ اس کے بنے ہوئے پاجامے کو چاہے مہینے بھر نہ دھوئیں، یہ بالکل صاف لگتا ہے اور اس کی استری بھی خراب نہیں ہوتی ہے۔ بہتر ہے کہ پاجامے بنانے کے لیے لٹھے کی بجائے اسے استعمال کیا جائے۔ بعض طالبات ہینڈ بیگ وغیرہ استعمال کرنے سے کتراتی ہیں۔ ان کی سہولت کے لیے اس موٹے کپڑے کے پاجامے میں جیبیں بھی لگائی جا سکتی ہیں جن میں وہ اپنے پیسے اور موبائل وغیرہ رکھ لیں۔

ہمیں امید ہے کہ اس جدید وضع کے موٹے کپڑے کے پاجامے، جس میں جیبیں، بٹن اور بیلٹ موجود ہو، کے استعمال کے نتیجے میں معاشرے میں پھیلی ہوئی بے حیائی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ طالبات مغرب زدہ بھی نہیں ہوں گی اور اپنی روایت کے مطابق موٹے کپڑے سے بنا ہوا یہ پاجامہ پہن کر نہ صرف وہ دور سے ہی مشرقی خیالات کی علمبردار ہونے کا بصری ثبوت فراہم کر دیں گی بلکہ یونیورسٹی حکام کو اس ہیجان سے بھی نجات مل جائے گی جس میں وہ جینز میں ملبوس طالبات کو دیکھ کر مبتلا ہو جاتے ہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ