بریکنگ نیوز

عورت سے مردوں کی شکایات

184234_8984565_updates.jpeg

تحریر ولائت حسین اعوان
ایک عزیز نے کسی پیج کی ایک پوسٹ اپنی وال پر شئیر کی جس میں حضرت مرد کے عورت پر احسانات اور عورت سے شکائیت کا زکر کیا گیا۔ساتھہ عورت کی چست پتلون میں نامناسب تصویر بھی اس پوسٹ کے ساتھ لنک کر کے عورت سے بڑی شکائیت اور شکوہ کیا کہ اسکی بےپردگی کی وجہ سے عظیم حضرت مرد زات گمراہ ہوتے ہیں اور اسکی طرف ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اسکے لباس حلیئے کی وجہ سے۔مطلب عورت ہی انکو مجبور کرتی ہے شرافت پر بھی اور بدمعاشی پر بھی۔تو حضرت مرد کی اپنی عقل شعور اور نفس کہاں ہے پھر۔۔۔آفرین ہے ایسی پوسٹس بنانے والوں پر۔جو اپنی نفسیاتی ہیجانی نفسانی بیماریوں کا بھڑاس اپنے پیج پر نکال کر دوسروں کو بھی زہنی بیمار کرتے ہیں اور کچھہ کو زہنی اذیئت دیتے ہیں۔۔
اس پوسٹ کے جواب میں ،میں نے جو اپنی محدود دانست میں رائے دی وہ آپ دوستوں کی نظر اس لیئے کر رہا ہوں کہ سائد کچھ کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں اور کچھ کا بھلا ہو جائے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مرد جب پیدا ہوتا ہے خواہ گھر میں ہو یا ہاسپٹل میں وہ عورت کے بطن اور اسکے ہاتھوں سے ہی ہو کر دنیا میں آتا ہے1 دن کی عمر سے 10سال تک تقریبا ماں بہن کے ہاتھوں ہی “پاک صاف” ہوتا ہے۔اسکی دماغ کے کورے کاغز پر سب سے پہلا لفظ ڈالنے سمجھانے والی بھی عورت ہوتی ہے۔نوکرانی کی سہولت میسر ہونے پر سارا دن اسے اٹھا کر کھلانے والی بھی عورت۔۔سکول مین پہلا دن بھی اسے عورت کا استقبال “برداشت” کرنا پرتا ہے۔ا،ب،پ اور A-Ze بھی اسے عورت کی “کڑوی”زبان اور “کمزور دماغ” کی محنت سے ہی سیکھنا پڑتا ہے۔۔۔ساری ذندگی وہ روٹی کھاتا ہے تو عورت کے ہاتھ کی،کپڑے دھلے استری ہوئے پہنتا ہے تو عورت کے ہاتھ کے،تیمار داری کراتا ہے تو ماں بہن بیٹی بیوی اور نرس کی صورت میں اسے عورت ہی ملتی ہے۔شادی کے لیئے اسکی شریک حیات عورت یا عورتیں ڈھونڈتی ہیں۔اور “شومئی قسمت” عورت کے بطن سے پیدا ہونے کے بعد عورت ہی ذندگی بھر کے لیئے اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر اس “عظیم مرد” کے پہلو میں آ جاتی ہے۔۔۔مختصر کریں تو مرنے کے بعد بھی میت عورتون میں پڑی ہوتی ہے اور مرد باہر ایک دوسرے سے خیر خیرئت دریافت کر رہے ہوتے ہیں اور موبائل سے دل بہلا رہے ہوتے ہیں۔۔۔
اللہ پاک نے قرآن پاک میں جہاں عورت کی شرم و حیا اور پردہ کا تقاصا کیا ہے وہیں حضرت مرد کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کی ترغیب اور اپنے نفس پر قابو پانے کی تلقین کی ہے۔۔
کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں نفسیاتی نفسانی اور زہنی ہیجان میں مبتلا مریض عورت پر حریص نگاہوں کی وجہ اسکی بےپردگی چست لباس اسکا میک اپ قرار دیتے ہیں؟؟۔۔۔مطلب یہ عورت کا تو فعل ہوا ہی ایسے مردوں کی فیلڈ اور دلچسپی کا محور بھی اسی میں ہے۔
یہاں یورپ میں عورتیں اپنے جسم کا 50 % اور Beach Area میں 80% حصہ برہنہ رکھتی ہیں اور بعض دفعہ اس سے بھی کام بڑھ جاتا ہے۔اسی حالت میں وہ شاپنگ بھی کرتی ہیں اسی حالت میں وہ ریسٹورنٹس پر جا کر کھانا بھی کھاتی ہیں۔اور سفر بھی کرتی ہیں۔وہاں ان کو مردوں سے ہی زیادہ واسطہ پڑتا ہے۔اور مرد صرف انکے اپنے ممالک کے ہی نہیں ہم پاکستانیوں جیسے بھی۔۔لیکن مجال ہے کہ کوئی انکو گھورے۔انکو چھیڑے یا انکو چھونے کا سوچے بھی۔۔۔
ان پاکستانیوں اور غیر مسلموں کا برہنہ عورت بھی دیکھ کر نفس پر اسقدر کنٹرول کیوں اور پاکستان میں رہنے والوں کی بےپردہ عورت دیکھ کر سوچ ناپاک کیوں؟ ایسی نایاب رگ ناپاک اور سوچ بےمثال صرف پاکستانیوں کی ہی کیوں؟؟؟
غور فرمایئے گا۔۔۔۔”
ولائیت حسین اعوان سپین

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ