بریکنگ نیوز

ممبئ حملے نواز شریف اور تجزیوں کے تجزیے

184199_7133372_updates.jpg

” ممبئی حملے، نواز شریف اور تجزیوں کے تجزیے ”


تحریر ثاقب ملک

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر نواز شریف نے وہی بات کی ہے جو مشرف، عمران، درانی، پاشا اور باجوہ ماضی میں کر چکے تھے، تو پھر نواز شریف کے لبرل، پرو جمہوریت، اور ہر قسم کے موسمی مداحین اس بیان سے نواز شریف کی بہادری، انکا نظریاتی ہونا کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟. بھلا ایک پرانی رٹی رٹائی بات پر کس بات کا کریڈٹ دیا جائے؟. اگر نواز شریف کو کریڈٹ دے رہے ہیں تو پھر ان سے پہلے کے بہادروں کی جرات کی توصیف و تعریف کیوں نہیں کی جا رہی؟

اگر یہ بیان غلط ہے تو پھر پرو نواز، پرو جمہوریت اس بیان پر نواز شریف کی حمایت کیوں کر رہے ہیں ؟ اگر ایشو یہ ہے کہ نواز شریف کو ہدف تنقید کیوں بنایا جا رہا ہے، غدار کیوں کہا جا رہا ہے، پچھلے لیڈروں اور محب الوطنوں کو تو غدار نہیں کہا گیا. یعنی اسکا صاف مطلب یہ ہے کہ آپکے خیال میں نواز شریف کا انٹرویو کا یہ حصہ ہرگز ملکی مفادات کے خلاف نہیں. اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو پھر انہی نکات کو ماضی بیان کرنے والے رہنماؤں کے لئے غداری کے فتوے کیوں چاہتے ہیں؟

یہ کیا تضاد ہے؟

یقیناً فیس بک پر بیٹھے اتنے مہان دانشوروں سے ایسی سادہ لوحی کی توقع نہیں کی جا سکتی.

خوش اخلاقی کے بھاشن دینے والے اکثر تجزیہ نگار ایسے مواقع پر جب انکے تعصبات و خیالات و نظریات پر ضرب لگتی ہے، بمع داڑھی مونچھ ،بمع صدیوں کے صحافتی تجربے، بمع مسلمہ دانشوری، بمع اخلاقیات کے فرامین و ہدایات، بمع آزادی اظہار و رائے کے سرکردہ چمپیئنز ہوتے ہوئے ہتھے سے کسی بد مست شرابی بیل کی طرح اکھڑ جاتے ہیں.

“نواز شریف”

میاں صاحب کی دلیری اور جرات کو میں کھڑے ہو کر سراہتا اگر ایسا کوئی بیان آپ جناب اپنے دور حکومت میں دیتے. صرف بیان ہی نہ دیتے اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار کو بھارت بھیجتے کہ ہم نے ٹرائل مکمل کرنا ہے آپ ہمیں تفتیش تک رسائی دیں. فوج اور ایجنسیوں کے ساتھ مل کر مستقبل کی پلاننگ کرتے، ڈائلاگ کرتے کیونکہ آخر تو انہی ایجنسیوں نے ملک کے لئے کام کرنا ہوتا ہے. را، سی آئی اے اور موساد تو پاکستان کے مفاد کے لئے کام کرنے سے رہے. اپنے اداروں کی غلطیوں کو بھی اون کرتے اور انہیں ٹھیک کرنے کا بیڑہ بھی اٹھاتے.

ایسا کچھ بھی نہیں ہوا نہ کوشش ہوئی. صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے ڈرامے ہوئے اور یقیناً دونوں طرف سے ہوئے مگر الیکشن میاں صاحب جیت کر گئے تھے میں یا آپ یا چیف آف آرمی سٹاف یا ڈی جی آئی ایس آئی نہیں. وزیراعظم کی کرسی بھی آپکے پاس تھی. اگر کچھ کر نہیں سکتے تھے تو غیرت مندوں کی طرح چھوڑ دیتے جو ایسا نہ کرسکے وہ کم از کم بزدل اور مفاد پرست شخص کہلایا جائے گا.

جب آپ بوٹوں کے سامنے اپنی اقتدار کے لئے لمبے لیٹ جاتے ہیں تو پھر میں کیوں آپکو نظریاتی مان لوں؟

جناب سابقہ وزیراعظم دراصل جرات بہادری نہیں بلکہ پاور سٹرگل کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں. ظاہر ہے وہ فوج کو ہی ٹارگٹ کرینگے. یقیناً وہ الیکشن کی ہرگز پرواہ نہیں کر رہے. سینٹ میں قانون بدلنا ممکن نہیں رہا اس لئے دو تہائی اکثریت بالفرض مل بھی جائے تو کچھ فرق نہیں پڑتا جو کہ ملنے کا امکان بھی نہیں ہے. اگر صرف سرل المیڈا کو ہی پڑھ لیں تو مہینہ قبل وہ اپنے آرٹیکل میں سہیل وڑائچ اور حامد میر کا حوالہ دیکر لکھ چکے ہیں کہ میاں صاحب کی نظریں اگلے تین چار برسوں پر لگی ہیں تا کہ عالمی حالات میں تبدیلی، ججز اور آرمی لیڈرشپ کی ریٹائرمنٹ اور امریکہ میں ممکنہ اگلی نئی ڈیموکریٹک حکومت کے توسط سے اپنی واپسی اور فوج کو کاونٹر کرنے کی پالیسی ہر عملدرآمد کے لئے وہ عالمی برادری کے سامنے مضبوط ترین امیدوار ہونگے.

نہ انہیں کبھی نظریاتی ہونے کی بد ہضمی ہوئی ہے اور انشاء اللہ نہ کبھی ہوگی.

اب بیان کے متعلق کیا کہنا بنتا ہے کہ یہ سوائے اقتدار کی جنگ میں ایک وار کے کچھ بھی نہیں ہے. امکان غالب ہے کہ بھارت رقم بھجوانے کی خبر پر جواب دیکر حساب برابر کیا گیا.

“ممبئی حملے”

ہمارے اینٹی فوج، یعنی لبرل سیکولر، پلس پرانے مجاہدین دنیا جہاں کے مسائل میں سے پاک فوج کو برآمد کر لینگے مگر جہاں بھارت، امریکہ پر کوئی سوال کر دے فوراً مطالعہ پاکستان اور سازشی تھیوری کا طعنہ مار کر اسے خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر کامیاب بھی رہتے ہیں.

انکے لئے خبر ہے کہ میں بلیک میل نہیں ہوتا اس لئے اپنے نازک دلوں پر ہاتھ رکھ کر یہ چند سوالات جو ممبئی پولیس کے سابق آئی جی، ایس ایم مشرف کی کتاب ” Who killed Karkare ” اور جرمن فلسطینی نژاد یہودی صحافی الیس ڈیوڈسن کی 900 صفحات پر مشتمل کتاب “؛The India betrayal” اور بھارتی صحافی عزیز برنی کی کتاب ” 26/11 سازش” سے اخذ کئے گئے ہیں. کم از کم غور کرنے میں حرج نہیں ہے.

1. بقول مشرف، “را” کو انفو ملی کہ پاکستان سے دہشت گرد کراچی سے بوٹ پر ممبئی کی جانب نکل چکے ہیں. انکا مقصد ممبئی کے بڑے ہوٹلز پر حملہ کرنا ہے. را نے یہ ٹپس بھارت کی داخلی سلامتی کی ذمہ داری ایجنسی آئی بی کو 19 نومبر کو مہیا کر دیں تھیں.

2. آر ایس ایس جس کا آئی بی میں بہت اثر و نفود ہے اسکو انٹیلیجنس بیورو، نے اجمل قصاب اور دیگر دہشتگردوں کی بوٹ اور دہشت گردی کے پلان کے متعلق معلومات لیک کر دیں.

3. 22 نومبر کو “را” نے بوٹ کے ٹریولنگ کوڈ بھی آئی بی کو فراہم کر دئیے تھے.

4. حیران کن طور پر آئی بی نے یہ معلومات آگے ممبئی پولیس یا نیول کمانڈ کو فارورڈ نہیں کیں.

5. بقول مشرف آر ایس ایس نے 26 نومبر کی دہشت گردی کی آڑ میں ہمینت کرکرے کو قتل کیا. انکا مقصد مالیگاؤں اور حیدرآباد دکن مسجد بم دھماکے کی تحقیقات کرنے والے مہاراشٹر اینٹی ٹیر رسٹ اسکواڈ کے سربراہ کرکرے کی جگہ اپنا من پسند افسر کے پی راگھو ونشی لگوانا تھا. کرکرے کسی کے قابو میں نہیں آتا تھا.

6. مصنف یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کرکرے کے پاس دوران تفتیش چار لیپ ٹاپ موجود تھے جن میں آر ایس ایس نے دکن بم دھماکے کہ تفصیل بطور پراجیکٹ درج کرکے رکھی تھیں. ان لیپ ٹاپس میں ایسی 24 میٹنگز اور پراجیکٹس کا احوال ہے.

7. یہ بات حیران کن نہیں ہونی چاہئے کہ کرکرے کی ہلاکت کے سات ماہ تک اسکی پوسٹ خالی رہی اور سات ماہ بعد راگھو ونشی صاحب مہاراشٹر کے اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کے سربراہ بن گئے. صرف سال بعد ہی موصوف میڈیا کے سامنے زیادہ انفارمیشن دینے کے الزامات پر ٹرانسفر کر دیئے گئے.

8. مالیگاؤں کے دھماکے میں ممکنہ طور پر ملوث شدت پسند ہندو توا “ابھنیو بھارت” تنظیم جو ریٹائرڈ بھارتی کرنل پرساد پروہت اور میجر رمیش اپادھائے نے قائم کی انکے اراکین پر دس برس گزرنے کے باوجود بھی ٹرائل بلا کسی ججمنٹ کے جاری ہے. کئی بار ججز بدل چکے ہیں.

9. رام پردھان کمیٹی نے اوپر درج نکات کی بطور آزاد کمیشن کے تحقیقات کیں. کمیشن نے 21 دسمبر 2009 کو اپنی رپورٹ وزیراعلٰی مہاراشٹر کو پیش کی لیکن حسب توقع اسکی رپورٹ آج تک ریلیز نہیں کی گئی. یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کیوں ریلیز نہیں کی گئی. کچھ عرصے بعد چند حصے میڈیا پر لیک کئے گئے جن میں ساری ذمہ داری ممبئی پولیس کے چیف حسن غفور پر ڈالی گئی.

10. بقول ڈیوڈ سن ایف بی آئی کو سب سے پہلے اجمل قصاب سے ریکارڈڈ تفتیش بغیر کسی کے وکیل کے کرنے دی گئی. ایف بی آئی ہی نے سب سے پہلے عینی شاہدین سے گفتگو کی.

11. حیران کن طور پر 26 نومبر کو ممبئی حملوں کے دوران ایک ایف بی آئی اہلکار “رپورٹنگ” کے لئے پہلے سے ہی موجود تھا.

12. ایف بی آئی کے فورا بعد سکاٹ لینڈ یارڈ اور اسرائیلی پولیس نے قصاب سے بات چیت کی. بھارتی پولیس کو اسکے بعد کہیں اجازت مل سکی.

13. ہنری کسنجر تین دن پہلے سے تاج ہوٹل میں موجود تھے، ٹاٹا خاندان جو تاج ہوٹل کا مالک ہے بحیثیت اسکے مہمان. اور حملے کے فوراً بعد انہوں نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا دیا.

14. ایلیٹ کمانڈو یونٹ کے تقریباً چار سو سے آٹھ سو اہلکار 26 نومبر کو دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے رہے انکی گواہی کبھی نہیں لی گئی.

15. حملے کے دن دو سو میں سے ایک سو نوے سی سی ٹی وی کیمرے خراب نکلے.

16. چار اسرائیل کے شہریوں کی ان حملوں میں ہلاک ہونے کی اطلاعات کنفرم کی گئیں مگر ان چاروں کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا بلکہ ایک جیوش تنظیم کو انکی لاشیں مذہبی بنیادوں اسرائیل لے جانے دی گئیں.

17. سینکڑوں گواہوں کو جنہیں عدالت میں پیش کیا گیا، ان سب نے ممبئی حملوں میں ملوث ان آٹھ دہشتگردوں کو براہ راست فائرنگ کرتے نہیں دیکھا تھا.

18. یہ دعوے کئے گئے کہ کاما ہاسپٹل اور دیگر علاقوں پر حملے میں اے کے 47 استعمال ہوئیں مگر اے کے 47 کی گولیاں کہیں سے برآمد نہ ہوسکیں.

19. نریمان ہاؤسز اور کاما ہاسپٹل پر حملہ کرنے والے آپس میں مراٹھی میں گفتگو کر رہے رہے تھے.

اسکے علاوہ درجنوں مشکوک سوالات اٹھائے گئے جیسے بھارت فوج اور ممبئی پولیس کے بجٹ میں 21 فیصلہ اضافہ، آسٹریلیا اور اسرائیل سے سیکیورٹی معاہدے، عالمی امداد وغیرہ شامل ہیں.

دال میں بہت کچھ کالا ہے اور تھا.

بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یقیناً اجمل قصاب پاکستانی تھا مگر اسے بیرونی ایجنسی نے پاکستانی نان اسٹیٹ ایکٹرز کے تربیت یافتہ دہشت گرد کی طرح تیار کیا. یہ پاکستانی ایجنسیوں کی مکمل ناکامی ہے. دونوں ملک ایک دوسرے پر پراکسی وار اور جاسوسوں کے ذریعے دھماکے کرتے رہے ہیں اور ماضی میں شاید پاکستان کا قصور ہی زیادہ لگتا ہے مگر ممبئی حملوں کو اتنی آسانی اور سہولت سے پاکستان پر نہیں تھوپا جا سکتا جبکہ سارے فوائد بھارت کو ملے.

ہاں یہ بتانا تو یاد نہیں رہا کہ میاں نواز شریف کو یقیناً یاد نہیں ہوگا کہ پیوٹن اور چینی صدر نے اس وقت ممبئی حملوں کی براہ راست ذمہ داری بے چارے دنیا میں “تنہا” پاکستان پر عائد نہیں کہ تھی جب ساری دنیا ہم پر انگلیاں اٹھا رہی تھی . روس نے داؤد ابراہیم پر اور چین نے دہشتگردی پر گول مول بیان دیکر جان چھڑا لی تھی.

مزید غور کرنے میں ہرج نہیں ہے.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ