بریکنگ نیوز

چانکیہ اورھماری بے خبری

images-4.jpg

چانکیا کی ولادت اور مسلم دنیا کی بے خبری
چانکیا کی ولادت اور مسلم دنیا کی بے خبری
تحریر عبدالرحمن
بین الاقوامی سیاست میں اخلاقیات اور اصول پسندی کہاں؟ با شعور قومیں صدیوں سے باہمی تعلقات میں ذاتی پسند ناپسند کے بجائے صرف ملکی مفادات کو اہمیت دیتی آئی ہیں۔ لہذا وہی قومیں جنہوں نے حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلے کیے وہ تاریخ میں امر ہو گئیں۔ اس لحاظہ اگر بغض سے مبرا جائزہ لیں اور ہندوستان اگر ہمارا دشمن نہ ہو تو اکیسویں صدی میں جس طرح اس نے خارجہ پالیسی ترتیب دی اور پھر جس خوش اسلوبی سے اس پر عمل کیا اس کی داد نہ دینا صریحا زیادتی ہو گی۔
دیکھتے ہیں کیسے؟
پاکستان کے ساتھ معاملات میں جس تسلسل اور مہارت سے گذشتہ صدی کی آخری دہائی کی پالیسی کو اکیسویں صدی میں بھی جاری رکھا آج کل پاکستان کا ماحول اس کی کامیابی کا گواہ ہے۔ جس طرح ریاستی ادارے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کو حب الوطنی کی معراج سمجھنے لگے ہیں اور اس دلدل سے نکلنے کی اکا دکا کوشش میں مزید دھنستے جا رہے ہیں۔ قومی اور صوبائی قیادت پر را سے تعلقات کے الزامات سچے ہوں یا چھوٹے عوام میں بے اعتمادی کا بیج بونے سے شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ اس کے پیچھے کون ہے، اس کے کیا مقاصد ہیں اور کون جیت رہا ہے؟ اور وہ تمام قومی ادارے جو عوام کے جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں انہیں ایسا نشانہ بنایا ہے کہ آج وہ انہیں اپنی سلامتی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔
اب ذرا دنیا پے نظر ڈالیں
ا۔ کس قدر آسانی سے تمام مسلمان ممالک کو کرائے کے سپاہیوں سے باندھ رکھا ہے۔ جب کہ چھوٹے عرب ممالک توکیا سعودی عرب اور ایران بھی اس سے دوستی کے لیے مرے جا رہے ہیں۔
ب۔ امریکہ کی چین مخالف جذبات کو ایسا استعمال کیا کہ اس سے منہ مانگی مراعات حاصل کر رہا ہے۔
پ۔ کتنی آسانی سے ریاستی انتہا پسندی کو تخریب کاری کے خلاف عالمی جنگ میں شراکت داری بنا کر پیش کرنے میں کامیاب ہے۔
ت۔ اللہ بہتر جانتا ہے ہندو انتہا پسندی کا انجام کیا ہوگا؟ لیکن بی جے پی نے قوم کو مذہبی انتہا پسندی اور مہا بھارت کے جنون میں مبتلا کر کے ایسا اندھا کیا ہے کہ وہ انسانیت ہی بھلا بیٹھی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک میرا خیال تھا کہ ہندوستانی معاشرہ جوں جوں ارتقاء کے عمل سے گزرے گا وہ تاریخ کے بوجھ سے چھٹکارہ پا لے گا لیکن اپنی کم عقلی کا اندازہ تب ہوا جب بھارت میں ریاستی سر پرستی میں انتہا پسندی کے خلاف مہذب ملکوں میں بسنے والے لا تعداد انڈین جو دنیا کو امن کی تبلیغ اور گاندھی گیری کا سبق دیتے ہوئے تھکتے نہیں۔ لیکن اپنے ملک میں مذہبی انتہا پسندوں کے خوف میں ان کے خلاف لب ہلانے کی جرات نہیں کر سکے۔ یقینا یا تو وہ یورپی ملکوں کو ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہتے دیکھ کر بھی کچھ نہیں سیکھ پائے یا ایک دفعہ ہندو ہمیشہ تنگ نظر ہندو ہی رہتا ہے ماحول اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
[ ] نہ صرف ہندو انتہا پسند قیادت پاکستان اور مسلمان دشمنی کے جھنڈے تلے ریاستی غنڈاگردی کو فروغ دے رہی ہے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں سے نفرت اور صدیوں کی غلامی کا بدلہ لینے کی جو حکمت عملی ترتیب دی ہے اس سے اگر آگاہی چاہیے تو آزاد بین الاقوامی ذرائع سے ایسے مستند شواہد ملتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان ملکوں میں تخریب کاری میں ہندوستان کس حد تک ملوث ہے۔ کیا کمال کی چال چل کر پاکستان اور افغانستان کو بے اعتمادی کےایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب دوستی تو بہت دور کی بات ہے، تعلقات کا معمول پر آجانا بھی ایک خواب سا لگتا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں ایسا اثرورسوخ بنا لیا ہے کہ ان کی دم جیسے چاہیں، جب چاہیں مروڑتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہی افغانی ہیں جن کے آباو اجداد نے کئی سو سال ہندوستان پر حکومت کی اور آج ان کے شہہ پر پاکستان سے دشمنی پے خوش ہیں۔ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان ہو یا افغانستان جس کا بھی نقصان ہو جیت تو بھارت کی ہی ہوگی۔
اب ذرا ایران کا حال دیکھیں، بھارت کس آسانی سے پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کو ہوا دے کر اور معاشی اور تجارتی تعلقات کی دھوکے میں پاکستان میں تخریب کاری کی کاروائیوں کو ایران سے بیٹھ کے چلا رہا ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ میں اشتراک کے دھوکے میں بحیرہ عرب میں بحریہ کے لیے ایسا اڈا بنا رہا ہے جو وقت آنے پر عرب ممالک کے علاوہ اور کس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے؟ اب ذرا عرب ممالک کو دیکھیں انڈین اثرورسوخ اسقدر بڑھ چکا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ہندووں کی تعداد مقامی آبادی سے تجاوز کر جائے گی۔ آج بھی ان کا اثرورسوخ اسقدر بڑھ چکا ہے کہ معاشی اور کاروباری اداروں میں ہندوستانی تارکین وطن ایک سوچی سمجھے منصوبے کے تحت ایسے اہم عہدوں پر فائز کروائے جا چکےہیں جو وقت آنے پر ان کو مفلوج کر دیں گے۔ یو اے ای میں پہلے ہندو مندر کا افتتاح اس پالیسی کی ابتدا ہے۔
ترکی، مصر، شام اور غرضیکہ تمام ممالک میں ہونے والی تخریب کاری اور افراتفری کے تانے بانے ہندوستان کے ساتھ ملتے ہیں۔ خاص طور پر جب سے اس کا اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ہوا ہے ایسے شواہد کی کمی نہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا اثرورسوخ بہت دور تک پھیل رہا ہے ۔ شام اور عراق سمیت تمام مسلمان ممالک میں تخریب کاروں کے را سے رابطے ہیں۔
مغرب اور امریکہ کے معاشی مفادات کو اتنی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے وہ ہندوستان کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ چاہے وہ ہمسایہ ممالک میں دخل اندازی اور کشمیر میں بد ترین ریاستی دہشت گردی ہو یا مسلمان کیا عیسائی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی ہو۔ دنیا میں اگر کسی اور ملک میں اتنے لوگ پیلٹ گن سے اندھے ہوئے ہوتے تو ابھی تک اس پر زمیں تنگ کی جا چکی ہوتی۔ عیسائیوں تک کے ساتھ ہندو جنونی جیسا سلوک کر رہے ہیں اس سے متعلق خبریں مغربی ذرائع ابلاغ میں آنے ہی نہیں دی جاتیں۔۔ ہندوستان بے شک بہت بڑا ملک، مغرب کے لیے بہت بڑی معاشی منڈی، جمہوریت کا علمبردار اور چین کے خلاف بہت اہم اتحادی سہی۔ لیکن ان تمام مواقعوں سے فائدہ اٹھانے میں اس کے پالیسی سازوں نے جو کمال کیا ہے اس کی شاباش نہ دینا زیادتی ہے۔ ایسے مواقع تو بہت قوموں کو ملے لیکن ہندوستان نے جس طرح اس سے فائدہ اٹھایا اس پر چانکیا کا بغلیں بجانا تو بنتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ