بریکنگ نیوز

نواز شریف، منظور پشین ، جاوید ہاشمی اور اصغر خان

IMG_20180518_135929.jpg

تحریر : عدنان رندھاوا
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں

کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی مری دے گا ساغر
سب تمھارے ہی طرف دار نظر آتے ہیں

آگاہی کا کرب اورحالات کی ستم ظریفی جب شعر کا روپ ڈھالتی ہے تو ساغر صدیقی کے قلم سے یہ عظیم غزل تخلیق ہوتی ہے، جسے نصرت فتح علی خان اور انکے ہمنوائوں نے انتہائی خوبصورت قوالی کی صورت امر کردیا۔ آجکل ملک و قوم کو جوکچھ جھیلنا پڑ رہا ہے، اس غزل کے ہر ایک شعر میں اسکی وضاحت موجود ہے۔ جتنا غور کریں گے اتنا ہی لگے گا کہ جیسے ساغر صدیقی 2018 کے انتخابات کے موضوع پر جمائے گئے کسی مشاعرے میں اپنا تازہ کلام سنا رہے ہیں۔ خیر شعرو شاعری کی دنیا سے باہر آتے ہیں تاکہ کچھ سیدھی سادی باتیں ہو جائیں۔

نواز شریف کی حکومت ختم ہونے میں چند روز باقی ہیں، سو انکی زبان پر لگے تالے کے کھلنے میں بھی چند روز باقی رہ گئے ہیں۔ پچھلے کالم میں عرض کیا تھا پھر دہرا دیتا ہوں کہ ان حالات میں منتخب جمہوری حکومت کی مدت پوری کرنا ہی طالع آزمائی کی سوچ کی سب سے بڑی شکست ہے۔ پچھلی حکومت میں زرداری کے ساتھ کیا کیا کچھ نہیں کیا گیا لیکن انہوں نے جرات اور مصلحت کے ساتھ حکومت کی مدت پوری کی، اسی جرات اورمصلحت کا مظاہرہ نواز شریف نے کیا ہے۔ لیکن ایک تو حکومت ختم ہونے کو ہے اور دوسرے نواز شریف کو جس بُری طرح دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے، انکا مصلحت کا وقت اب ختم ہونے کو ہے۔ اب سوال جواب ہونگے۔ وہ مشکل سوال اب پوچھنے ہونگے جنکا جواب دئیے بغیر ہم بحثیت قوم ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔

نواز شریف نے چند روز پہلے ایک بنیادی سوال اٹھایا ہے جسکے تانے بانے ہماری خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی سے ملتے ہیں۔ پراپیگنڈہ کا ایک طوفان برپا کردیا گیا۔ اور طالبعلم جیسے خوش فہم جو عرصے سے دہائی دے رہے ہیں کہ سیکورٹی اور خارجہ پالیسی ہمیں نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے اس کشمکش میں تھے کہ

آج کی رات پھر نہیں ہوگی
یہ ملاقات پھر نہیں ہوگی
ایسے بادل تو پھر بھی آئیں گے
ایسی برسات پھر نہیں ہوگی
اک نظر مڑ کے دیکھنے والے
کیا یہ خیرات پھر نہیں ہوگی

ایک طرف الیکٹرانک میڈیا میں “غداری برگیڈ” متحریک ہوئی تو دوسری طرف گھر میں “یہ کیا کردیا برگیڈ” نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ یوں لگا کہ اس ملک میں کوئی دیوانہ نہیں، ایسے میں امید کا ایک جگنو نیلے رنگ کی خوبصورت چڑیا بن کر روشن ہوا۔ دو چار دیوانے اُٹھے اور نواز شریف کو پیغام دیا کہ بہت ہو گیا، اس دفعہ پیچھے نہیں ہٹنا۔ اس دفعہ جم کر رہنا ہے۔ اگلے روز ہم نے ایک میٹنگ بلائی اس میں ایک دوسرے پر رعب جمایا اور ایک بیان داغ کر ہم اپنے تئیں اس زعم میں مبتلا ہو گئے کہ ساری دنیا کو ہم نے دھوکا دے دیا، دنیا مگر ہمارے دھوکے میں آنے والی نہیں۔ ہم صرف اپنے آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ خوشی اس بات کی ہوئی کہ اس دفعہ نواز شریف نے خود کو اور قوم کو دھوکہ دینے سے انکار کر دیا۔ اگلے روز انہوں نے بنانگِ دہل کہا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کہا، اور وہ حق بات کریں گے چاہئے نتائج جو بھی ہوں۔

ادھر کراچی میں 13 مئی کو ایک بہت بڑا واقعہ ہو گیا لیکن ہم نے خود کو دھوکہ دینے کا فیصلہ کیا، ہم نے آنکھیں بند کرلیں، کان بند کر لئے، زبانیں باہر نکال کر انکو چٹکی بھر لی۔ ہم نے کچھ نہیں دیکھا، کچھ نہیں سنا اور کچھ بھی نہیں دیکھا۔

اگلی باری ملتان کی تھی۔ جاوید ہاشمی کو کچھ عرصہ میں ایک بہادر آدمی سمجتھا رہا، پھر تحریک انصاف کے آخری دنوں میں اسے دوسروں جیسا مفاد پرست سیاستدان سمجھتا رہا۔ پھر جب اس نے تن تنہا جمہوریت کا چہرہ نوچنے والوں کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر انہیں جھٹک دیا تو میں ششدر رہ گیا۔ پھر اس نے چار سال جسطرح مالی مشکلات، تضحیک، ٹھٹہ، سیاسی بے حیثیتی کا مقابلہ کیا، میں اسکا دوبارہ معترف ہو گیا۔ لیکن جب اس نے نواز شریف کا اس وقت ہاتھ تھاما جب ہر سمجھدار سیاستدان اس سے جی چرانے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے تو میں اسے بھی ایک دیوانہ کہنے پر مجبور ہوں۔

اصغرخان اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن پاکستان کی سیاست سے ملاوٹ دور کرنے کی انکی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے حکومتیں بنانے اور گرانے کے اقدامات کا پول کھل چکا ہے، سپریم کورٹ انکو گناہ گار قرار دے چکی ہے۔ ایف آئی اے کی تفتیش سے پہلے جنرل اسلم بیگ نے ایک انگریزی اخبار کو دئیے گئے بیان میں آشکار کیا ہے کہ 1988 بعد سے سیاسی حکومتوں کے ساتھ کون کون کیا کیا کرتا رہا اور مشرف نے کس اصول کی خلاف ورزی کی جسکی وجہ سے وہ آج اس ذلت کا سامنا کر رہا ہے، یہ سب کچھ لکھنے کی عاجز میں تو ہمت نہیں کہ بحوالہ سلیم صافی ایک روپیہ نہیں ہے۔

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ