بریکنگ نیوز

سائنس موسکااور ھماری سیاسی اشرافیہ

images-7.jpg

تحریر عبدالرحمن
پاکستانی معاشرے میں اشرافیہ پر تنقید کرنے کا فیشن دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے، قصور کس کا ہے اس کا فیصلہ مشکل ہے۔ لیکن تنقید کے فن کے ماہر خاص طور پر ان کی مبینہ کم علمی اور جہالت کو مسلسل نشانہ بناتے ہیں اور مختلف مکتب فکر کے نقاد اپنی اپنی سمجھ اور نقطہ نظر کے مطابق دلائل پیش کرتے ہیں۔ ہاں سب، دنیا سے ان کی مطلق بے خبری پر متفق ہیں۔ میں پیشہ ور نقاد نہیں ہوں اس لیے تھوڑا سا اختلاف رکھتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں عام آدمی جس سے غم روزگار نے سوچنے کا وقت تو چھین لیا ہے لیکن خواہشات پر پہرہ نہیں بٹھا سکا۔ وہ چاہتا ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ قانون کی حکمرانی کو تسلیم کرے مثالی فلاح اور عدل پر مبنی نظام کو سمجھیں اور اپنائیں تاکہ عوام کا بھلا ہو۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پسماندہ معاشروں کے تمام طبقے صرف اپنے اپنے مفاد کے لیے تگ و دو کرتے ہیں دوسروں کے لیے نہیں۔ تنقید کرنے والے بھی ذرا کسی دن اپنے مفاد کو قربان کر کے دیکھیں ضرور مشکل پائیں گے، آزمائش شرط ہے۔
ایک دوست سے اس معاملے پر لا حاصل گفتگو ہو رہی تھی کہ اٹلی کا رہنے والا موسکا جو بیسویں صدی میں سیاسیات کا ماہر تو تھا ہی لیکن عملی سیاست میں بھی اتنا ہی سرگرم تھا، وہ زیر بحث آگیا۔ اس نے ایک نظریہ پیش کیا جسے ایلیٹ ازم بھی کہتے ہیں۔ جس کے مطابق کسی بھی معاشرے کے دو حصے ہوتے ہیں؛ ایک ایلیٹ یعنی حکومتی گروہ اور ایک عوام جس پر حکومت کی جاتی ہے۔ یہ دونوں گروہ اپنے اپنے محور کے گرد گھومتے ہیں، خصوصا ایلیٹ نہ تو خود محور سے دور ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کو اس میں داخل ہونے دیتے ہیں ۔ ایلیٹ گروہ ہمیشہ حکومت کرتا ہے اور عوام لاکھ کوشش کے باوجود ان کی حکومت کو برداشت کرتی ہے۔ موسکا کے مطابق ایلیٹ کی سب سے بڑی خوبی اور طاقت ان کی اعلی تنظیمی قابلیت ہوتی ہے جو انہیں ہمیشہ دوسروں پر افضل رکھتی ہے۔ غور کریں تو کیا ہمارے ہاں یہ قانون اپنے تمام لوازمات کے ساتھ لاگو نہیں ہے؟ ہم سمجھتے رہے کہ ہماری اشرافیہ دنیا سے بے خبر ہے جبکہ انہوں نے نہ صرف موسکا تک کے نظریات کو پڑھ رکھا ہے بلکہ اس پر من و عن عمل بھی کر رہے ہیں۔
بحث کے دوران ہم نے کچھ اعدادو شمار پر نظر دوڑائی تاکہ تھوڑا سائنسی بنیادوں پر اس نظریے کو پرکھیں۔ جس سے نتیجہ اخذ ہوا کہ ہماری ایلیٹ نہ صرف معاشرتی سائنس سے بہت اچھی طرح واقف ہے بلکہ وہ تو مادی سائنس کے قوانین کو بھی خوب جانتی ہے۔ ہم نے آسانی کے لیے صرف اکیسویں صدی کے اعدادو شمار کو سامنے رکھا کیونکہ اس صدی کی سائنسی ایجادات نے بہت تیزی سے انسانی رویے بدلے ہیں۔ ملاحظہ کریں۔ پروفیسر طاہر ملک کی تحقیق کے مطابق 2003 کے الیکشن میں صرف 140 سیاستدانوں نے PMLN کو چھوڑ کر PMLQ میں قدم جمائے اور صرف چند سالوں بعد ہی ان میں سے 89 نے PMLQ کو خیرباد کہا اور سیدھا زرداری صاحب کی جھولی میں آ گرے۔ پانچ سال بعد اگلے چناو میں 121 ارکان واپس نواز شریف صاحب کے چرنوں میں بیٹھے نظر آئے۔ 2018 کے الیکشن میں کچھ مہینے باقی ہیں اور ابھی سے وہ سب کی سب ایلیٹ شخصیات تبدیلی کے حمام میں غسل کر کے PTI کے دائرے میں آ گھسے ہیں۔ اس دفعہ بھی انہوں نے یقین کیا ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگاتی پارٹی میں بھی ایلیٹ ہی راج کرے اور دیگر عوامی طبقات؛ مزدور، کسان اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے سیاست میں داخلے پر پہرے بٹھا دیے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کا ابوبکر بھی پکا مجاہد نکلا جو شاید ایلیٹ ازم سے واقف نہیں اور شعور کے بجائے خواہشات کی دنیا میں گم ہے۔ اس کا امیدوار بھی ان متحرک لوگوں میں سے ہے جو بہت تیزی سے حقائق کو سمجھ جاتے ہیں اور شکل اور ہیت کے ساتھ ساتھ سوچ تک بدل لیتے ہیں۔ وہ موسکا کے نظریے کو تو سچ ثابت کرتے ہی ہیں لیکن میرے خیال میں یہ اتنی بڑی اکثریت اپنے رویے کی وجہ سے یہ بھی منوا رہی ہے کہ وہ سائنس کے اصولوں کو بھی بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
سنا ہے بہت سے سائنسدان ابھی تک متفق ہیں کہ کائنات میں موجود تمام اجزاء شکلیں اور ہیت تو بدل لیتے ہیں لیکن ہر صورت میں کسی نہ کسی صورت میں موجود رہتے ہیں۔ اس سے زیادہ سائنس کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔ خود دیکھ لیں کم وبیش اکیسویں صدی میں تمام متحرک سیاستدان ایلیٹس کے لیے مخصوص دائرے میں نہ صرف خود موجود ہیں بلکہ بہت آسانی سے کسی اور کو اس میں داخل بھی نہیں ہونے دیا۔ ہم جنہیں سیاستدان ماننے میں بھی کم از کم سو کیڑے تو نکال ہی لیتے ہیں وہ تو خالص سائنسدان نکلے۔ بے خبر کون ہے فیصلہ کرنا اتنا مشکل بھی نہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ