بریکنگ نیوز

ھم بھی وہیں موجود تھے

IMG_20180524_113822.jpg

“ہم بھی وہیں موجود تھے” ایک مہذب روح کی صدا
تحریر مجاہد حسین
صدیوں کی غلامی قوموں کی نفسیات میں ایسی پیچیدگی پیدا کر دیتی ہے کہ آزادی ملنے کے بعد بھی اس کے اثرات کئی نسلوں تک قائم رہتے ہیں ۔ برصغیر میں جاگیردار اور اس کے کارندوں کی بے کراں طاقت و اختیارات کی وجہ سے ایک عام آدمی کو اخلاقیات کی سطح پر بہت سے سمجھوتے کرنے پڑے جو وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف اجتماعی عادات کا حصہ بنتے گئے بلکہ فرد کے جینز سے بھی چمٹ کر رہ گئے ۔ اس طویل غلامی نے اخلاقی کجی کے جو کانٹے اجتماعی نفسیات میں پرو دیے ہیں انہیں ابھی تک نہیں نکالا جا سکا۔
یہ بھی انہی اثرات بد میں سے ایک ہے کہ اگر ہمارے سامنے کسی شخص کی اچھائی کا ذکر ہو تو ہم اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی اسے زیادہ دیر یاد رکھتے ہیں اور نہ ہی اسے آگے پھیلانے کی طرف جی مائل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کسی کے بارے میں منفی بات کا ذکر سنتے ہی ہماری پوری شخصیت اس طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔ ہم نہ صرف کرید کرید کر تفصیلات معلوم کرتے ہیں بلکہ اسے یاد بھی رکھتے ہیں ۔ دل ہی دل میں اس سے حظ اٹھاتے رہتے ہیں اور جب تک اس منفی خبر کو آگے نہ پھیلا دیں ہماری ذات کا آواگونی سفر مکمل نہیں ہوتا۔ برصغیر کا یہ اجتماعی المیہ ہے کہ ہم کردارکے بدن پر پھوڑے تلاش کرتے رہتے ہیں تاکہ اپنی مریضانہ انا کی مکھیوں کو رزق حرام مہیا کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ لوگ ہمارے ہیرو نہیں بن پاتے، انہیں اس وقت تک مرتبہ بلند نہیں مل پاتا جب تک وہ تاریخ کی موٹی گرد میں چھپ کر ہمارے ناخنوں کی کرید سے دور نہیں ہو جاتے۔
ایسے تجربات و مشاہدات کے پس منظر میں جب ہمارے بزرگ پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے مجھے اختر وقار عظیم صاحب کی کتاب “ہم بھی وہیں موجود تھے” پڑھنے کے لئے عنایت کی تو میرے جینز کے وہ حصے خوشی سے کھل اٹھے جو اوروں کے عیب جاننے کے شائق رہتے ہیں۔ اردو میں لکھی گئی زیادہ تر آپ بیتیوں میں مصنف اپنی خوبیوں اور دوسروں کی کمزوریوں پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ جن لوگوں سے اسے شکوے پیدا ہوئے، جن کے خلاف اس نے دل میں تلخی پالی یا جو اشخاص زندگی کے کسی مخصوص مرحلے پر اس سے آگے بڑھ گئے، ان تمام کو رگیدنے کے لئے قلم کی تمام تر سیاہی صرف کر دی جاتی ہے۔ اختر وقار عظیم صاحب کی کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنا شروع کیا تو ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ نہ ہی کسی کے عیب سامنے آئے اور نہ ہی غیبتوں کی لذت بھری نعمتوں سے دامن بھرا جا سکا۔ اس لئے جو قارئیں میری طرح اوروں کی عیب جوئیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، انہیں اس کتاب سے کوسوں دور رہنا چاہئے۔

اختر وقار عظیم بے شمار دلچسپ اور تاریخی واقعات کو اس کتاب میں اس طرح ٹانکتے جاتے ہیں کہ مجھ جیسا سست قاری بھی اسے ایک ہی نشست میں پڑھنے کو بےقرار ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اسی پر بھی بس نہیں کرتے بلکہ کسی پیچیدہ طریقے سے قاری کی روح کے کونے کھدروں میں جراثیم کش دوا کا چھڑکاؤ کر کے تہذیب نفس کا خاموش عمل شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری جینز کے منفی حصے سہم کر دب جاتے ہیں اور ان کی جگہ ایسے جذبوں کو مل جاتی ہے جو کسی بھی نفیس ذات کا جزو لاینفک ہوتے ہیں ۔ اس لئے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسی کتابوں سے مولوی صاحب کا وہ خطبہ کہیں زیادہ بہتر ہے جسے سننے میں ثواب بھی ملتا ہے اور لذت انگیز اخلاقی خرابیوں سے محرومی کا خدشہ بھی نہیں ہوتا۔
یہ آپ بیتی نما تصنیف اسقدر دلچسپ ہے کہ اسے دو نشستوں میں پڑھنا گناہ کبیرہ محسوس ہوا۔ اس کتاب میں درجنوں نامور لوگوں کی ذات کے وہ حیران کن پہلو سامنے آتے ہیں جو ان کی شخصیت کو پرکھنے کا رستہ فراہم کرتے ہیں۔ اختر وقار عظیم صاحب کو جن حکمرانوں سے واسطہ پڑا، جن شعرا اور ادیبوں سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور پی ٹی وی کو ایک مکمل ادارے کی شکل دینے والے نابغہ روزگار افراد سے تعارف حاصل ہوا، ان تمام کی زندگی کے مختلف پہلو سکرین پر چلتی سلائیڈز کی مانند سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہ تسلسل اسقدر دلچسپ ہے کہ ہل من مزید کا ورد کرتے ہوئے قاری اس میں کھو جاتا ہے۔
کتاب مکمل کرنے کے بعد پہلا خیال ٹیلی وژن کا آیا کہ دیوار پر استادہ اس روز و شب کے ساتھی کی جب وطن عزیز میں ولادت ہوئی تو کیسے کیسے عالی دماغ لوگوں نے اسے پالا پوسا اور جوان کیا۔ ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں تھام کر اس غلمان کو ہم ایک ادائے بے نیازی سے دنیا کے ایک ایک کونے میں بھگاتے رہتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ابتدائی ایام کیسے گزرے، کون سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، کہاں کہاں اس کے قدم لڑکھڑائے اور جبر و قدر کی پرپیچ گھاٹیوں میں اس نے کس طرح اپنا سفر جاری رکھا۔
جن لوگوں کا اختر وقار عظیم صاحب نے ذکر کیا ہے ان میں پروڈیوسرز، سیاست دان، ڈکٹیٹرز، شعرا، ادیب، کھلاڑی، کمنٹیٹرز اور بے شمار دیگر افراد شامل ہیں۔ تاہم اس کتاب کی اصل روح وہ دلچسپ واقعات ہیں جن کے ذریعے اب بڑے لوگوں کے اندر چھپا ایسا بچہ سامنے آجاتا ہے جو تعریف کا متمنی بھی ہے، ناراض ہو کر کھلونا توڑ دینے پر تیار بھی رہتا ہے، وزیراعظم ہونے کے باوجود ویگن کے اڈے سے بھٹے منگوا کر کھانا چاہتا ہے، اپنی غلطیوں کا مذاق بھی اڑاتا ہے مگر ساتھ ساتھ اوروں کی غلطیوں پر سخت محاسبہ بھی کرتا ہے۔ بھارت میں کرکٹ میچ کی کمنٹری کے انتظامات کے دوران مصنف کو جس قسم کے تجربات ہوئے انہیں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف بدگمانیاں بہت زیادہ ہیں اگرچہ عوام کی سطح پر اسقدر نفرت شاید نہیں ہے۔
ایم اے اردو کے دوران مصنف کے والد سید وقار عظیم صاحب کی چند کتب سلیبس کا حصہ تھیں اور انہیں پڑھتے ہوئے ایک ایسے باوقار شخص کا تصور ابھرتا تھا جو تحقیق و تنقید کی پر پیچ اور گدلی راہوں سے دامن آلودہ کیے بغیر گزر جاتا ہے۔ اختر وقار عظیم صاحب کی کتاب پڑھی تو طالب علمی کا وہی دور یاد آ گیا اور دل کو ناسٹلجیا نے جکڑ لیا کیونکہ وقار عظیم صاحب نے اپنی شائستگی اور مہذب پن مکمل دیانت داری سے اگلی نسل کو منتقل کر دیا ہے اور اس میراث کے مظاہر “ہم بھی وہیں موجود تھے” کی ایک ایک سطر سے جھانک رہے ہیں

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ