بریکنگ نیوز

میں گلگت بلتستان کا شہری ھوں

197FB533-2D7D-46B7-B113-604CE9FED8CD.jpeg

میں گلگت بلتستان کا شہری ہوں۔
تحریر:عمران اللہ مشعل۔

میں گلگت بلتستان کا شہری ہوں مجھے اپنوں نے ہمیشہ میری تاریخ سے نابلد رکھا ہے کبھی ہمیں یکم نومبر کی آزادی والی داستان سنایا جارہا ہے جس میں کیسے ہمارے اسلاف نے اپنے سے کئے گنا زیادہ طاقتور ڈوگرا رجیم سے بے سروسامانی کی حالت میں مقابلہ کیا اور علاقے کو آذاد کرایا یوں یکم نومبر 1947 کا دن یوم آذادی گلگت بلتستان سے منسوب ہوگیا۔

جبکہ اس آذادی کے بعد دوسرا طبقہ ہمیں اسلام کے نام پر الحاق پاکستان کی داستان سنارہا ہیں جس کے تحت جو ہماری ڈوگروں سے حاصل شدہ آذادی تھی وہ پاکستان سے الحاق کی صورت میں ختم ہوگئ
اسی الحاق کا صلہ یہ ملا کہ نام نہاد معاہدہ کراچی اور بعد میں اقوام متحدہ کے کشمیر پر قراردادوں میں گلگت بلتستان کو بڑی چالاکی سے مسلہ کشمیر کا حصہ بنا کر اس جنت نظیر خطے کو ہمیشہ کے لیے متنازعہ بنایا گیا۔اس الحاق کے بعد ہم بھی چودہ اگست کو ہر سال یوم آذادی مناتے ہے اور یکم نومبر کو بھی یوم آذادی یوں سال میں دو مرتبہ آذادی کا جشن لیکن حقیقی معنوں میں آذادی آج تک نہیں ملی ہے۔

چونکہ گلگت بلتستان پاکستان کی شمال میں واقع ہے اسلیے مکمل طور پر پاکستان کی کنٹرول میں ہے مسلہ کشمیر کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد انڈیا بھی کشمیر کی طرح گلگت بلتستان کو اپنا اٹونگ انک سمجھتی ہے لیکن انڈیا کی پہنچ سے بہت دور ہے اور نہ ہی انڈیا اس طرف آنے کی جرات کر سکتی ہے کیونکہ کارگل محاذ کی لڑائ میں گلگت بلتستان کی شہریوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان آرمی کے ساتھ انڈیا کے خلاف جنگ لڑی اور انڈیا کو وہاں سے بھگانے میں اہم کردار ادا کیا اور بارڈر بھی پر ہمیشہ فوج کے ساتھ رہی ہے۔

لیکن بدقسمتی سے جغرافیائ لحاظ سے اتنی اہمیت کا حامل یہ خطہ جو چائنہ کے لیے واحد زمینی راستہ کے کے ایچ کا زریعہ ہے اور دنیا کی بڑی طاقتوں چائنہ روس اور انڈیا کے ساتھ باڑدرز بھی ملتے ہیں پاکستان نے ہمیشہ نظر انداز کیا ہے پاکستانی حکمرانوں نے اسکی اہمیت کو اپنی ضرورت کی نظر سے دیکھا ہے۔

جس سے یہ ہوا کہ آج ستر سال بعد بھی گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باجود سب سے زیادہ پسماندہ خطہ اور بے شمار محرومیوں کا شکار ہے۔

آئینی طور پر پاکستان شروع سے لیکر آج تک اپنا حصہ نہیں بنا سکی ماسوائے کشمیر کاز کے ساتھ منسلک کرنے کے آج بطور گلگت بلتستان کا شہری مجھے اپنا مستقبل کا معلوم نہیں ہے میں پاکستان کی قومی اور صوبائ اسمبلی کے لیے ووٹ نہیں دے سکتا ہوں میرا کوئ نمائندہ وہاں موجود نہیں ہے
نہ ہی ہماری اسمبلی کی قراداد اور قانون سازی کی کوئ اہمیت ہےآج تک گورننس آرڈر کے تحت چلایا گیا ہیں۔

ہمیشہ نام نہاد صوبے کا ڈھونگ رچا کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئ وہاں سے منتخب سیاسی جماعت کی اول شرط یہی ہوگی وہ وفاق میں حکمران جماعت کی گلگت بلتستان سے زیادہ وفادار ہوگی اور وفاق کا ہر حکم بغیر کسی رکاوٹ کے قبول ہوگا۔

جس کی تازہ مثال گورننس آرڈر اور 2018 کی ہے 2009 میں بھی صوبے کی نام پر گورننس آرڈدر کے زریعے تمام اختیارات وفاق نے اپنے پاس رکھی اور گلگت بلتستان کو صرف وزیر اعلئ گورنر اور وزرا کے نمائشی نام کا لولی پاپ دیا گیا جس سے سادھ لوہ عوام حقیقی صوبہ سمجھنے لگی حالانکہ حقیت یہی یہ تھی کہ وزیر اعلئ کی اختیارات چیف سیکٹری سے بھی کم تھے وزرا اپنے ماتحت سیکٹریز کو کوئ آرڈر نہیں دے سکتے تھے۔

اب 2018کا گوررنس آرڈر آیا ہے جسے 2018ریفارمز آرڈیننس کا نام دیا جارہا ہے جس کے مطابق وزیر اعظم پاکستان جو بھی ہوگا وہ گلگت بلتستان کا بالواسطہ یا بلاواسطہ بادشاہ ہوگا جس کا ہر حکم قانون براہ راست قانون بن کا درجہ رکھے گا
اور وزیر اعظم کی طبیعت کے برخلاف گلگت بلتستان کی اسمبلی کوئ قانون نہیں بنا سکے گی۔

گلگت بلتستان اپیلٹ کورٹ کا نام تبدیل کر کے گلگت بلتستان ہائ کورٹ رکھا گیا لیکن گلگت بلتستان کا کوئ بھی شہری وہاں جج تعینات نہیں ہو سکتا ہےکیونکہ آرڈیننس کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان سے ریٹائرد ججز وہاں تعنیات ہوسکتا ہےاور وزیر اعظم پاکستان کے کسی بھی فرمان کو وہاں کسی عدالت میں چیلنچ نہیں کیا جاسکے گا
تمام مرکزی بیورو کریسی کی تعنیاتیاں وزیر اعظم پاکستان کرے گا۔

بنیادی انسانی حقوق کا اس آرڈیننس میں کوئ تحفظ نہیں ہے بہت سارے ایسے قوانین کا نفاذ کیا گیا جو کہ ابھی تک عملی طور پاکستان میں وجود نہیں رکھتے ہے یا وہ قوانین فعال نہیں ہے اور اظہار رائے کی آذادی پر بھی قدغن لگایا گیا ہے۔

المختصر یہ آردیننس صرف سی پیک کے لیے اپنی ضرورت کی پیش نظر حکومت پاکستان نے اپنے لیےیہ آرڈیننس جاری کیا ہے اس میں گلگت بلتستان اور عوام کے لیے ایک ٹکے کا بھی فائدہ نہیں ہےاور ظلم کی بات ہماری صوبائ حکومت اس آردیننس کی آڑ میں عوام کو سبز باغ دکھا کے بے وقوف بنا رہی ہے اور غلط بیانی کرکے عوام کو ایک بار پھر آئینی حقوق کا جانسہ دے رہی ہے۔
آخر میں وہ سوال ہے مجھے میرا مستقبل کب ملے گا؟۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ