بریکنگ نیوز

رومیسہ،۱۰لاکھ میں

Capture.jpg

تحریر:ذیشان یعقوب
رومیسہ نارووال کے نواحی گاؤں کی ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی تھی۔جس کی عمر 19 برس کے لگ بھگ تھی۔ گاؤں کے آدھے لڑکے رومیسہ کے یکطرفہ پیار میں مبتلا تھے۔ مگر رومیسہ کسی کو بھی آنکھ بھرکر نہ دیکھتی۔انہیں لڑکوں میں ایک رومان بھی تھا جو اپنی منگنی تڑوا کر رومیسہ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔اس سلسلے میں اس نے لاکھوں پاپڑ بیلے مگر کو ئی طریقہ بھی کارآمد ثابت نہ ہوا۔ہر بار اس کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ جب جب اسے پتا چلتا کے کوئی اور بھی رومیسہ کے پیار میں مبتلا ہے تب تب وہ اپنے جسم پر تیز دھار آلے کی مدد سے زخم دیتا اور سی تک نہ کرتا۔وہ اپنی محبت کو حاصل کر بھی لیتا مگر اس کی ایک خوبی اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ رومان بہت ہی سادہ لوح انسان تھا اس میں وہ گٹس ہی نہیں تھے جس کے بلبوتے پر کسی لڑکی کو اپنے پیار میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ خواتین کا بھی ازل سے مألہ رہا ہے کہ وہ خالص نہیں مصنوعی چیزوں کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں ۔بناؤ سنگھار، ظاہری حسن ،چرپ زبانی احمقوں کی جنت سے آیا ہوا شہزادہ ہی ان کو پسند آتا ہے ۔خدا نے ان کی چھٹی حس بہت تیز رکھی ہے۔ خواتین کو ایک نظر میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ مرد ان کو کس نظر سے اور کس جگہ دیکھ رہا ہے مگر اکثر و بیشتر ان کی یہ صلاحیت کسی کام نہیں آتی۔اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ۔رومان کی خالص محبت کو نظر انداز کر کے رومیسہ نے اس کے دوست حاطب سے مراسم بڑھالیے جو کہ رومان کی نسبت خوبصورتی اور قد میں بڑا تھا۔رومان کو جب اس کے بارے میں علم ہوا تو وہ ذراپیچھے ہو گیا۔ ایک طرف دوست اور دوسری طرف محبت ۔شاید ایسا کرنا ہی اسے مناسب لگا۔اب رومان رومیسہ اور حاطب کے درمیان معاون کا کردار نبھانے لگا۔شاید یہ ہی ایک طریقہ تھا جس کی بدولت وہ رومیسہ کا حال احوال جان سکتا تھا۔
رومیسہ اور حاطب کی قربتیں بڑھتی گئیں اور بات اکیلے میں ایک دوسرے کے گھر جا کر ملنے ملانے تک پہنچ گئی۔ایک دن لائٹ بند تھی۔ رومیسہ اور اس کی چھوٹی بہن گھر پر اکیلی تھیں ۔اندھیرے کو غنیمت جان کر حاطب رومیسہ سے ملنے چلا گیا۔ رومیسہ دور سے ہی حاطب کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی جبکہ حاطب ان کے پالتو کتے سے جان چھڑانے میں لگا ہوا تھا۔تھک ہار کر اس نے اینٹ کتے کے سر پر ماری ۔کتا بلکتا ہوا رومیسہ کی چھوٹی بہن کے قدموں میں جا بیٹھا۔رومیسہ اب بھی کھڑی مسکرا رہی تھی اور حاطب غصے سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔اتنے میں رومیسہ کی چھوٹی بہن نے اس کو زور سے دھکا دیا جس کی بدولت وہ ایک دم سے حاطب کی بانہوں میں جا پہنچی۔اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور مضبوطی سے حاطب کو اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔ حاطب کی بانہوں کے گھیرے کی مضبوطی نے رومیسہ کو تمام تر خدشات سے آزاد کر دیا۔رومیسہ خود کو حاطب کی بانہوں میں اس شخص کی طرح محسوس کر رہی تھی جو ایک لمبے سفر کے بعد گھر آیا ہو جس میں مال و جان کے زیاں کا خدشہ ہو اس کی ماں اس کو گلے سے لگا کر ٹھنڈی آہیں بھرتی ہو۔رومیسہ کے دل کا عالم بھی کچھ ایسا ہی تھا۔رومیسہ ابھی اس لذت میں ڈوبی ہوئی تھی کہ حاطب کی آواز نے اس کے تخیلات کے سلسلے کو توڑ دیا۔رومیسہ، گھر والوں نے میری منگنی کر دی ہے۔ یہ سننا تھا کے رومیسہ نے جوش میں آ کر حاطب کو زور دار دھکادیا جس کی شدت سے وہ رومیسہ سے دور ہو گیا۔حاطب کچھ دیر رومیسہ کی آنکھوں میںُ ابلتے ہوئے لاوے کوکھڑا دیکھتا رہاپھر دروازے کی طرف چل پڑا اور اندھیرے میں گم ہو گیا۔یہ وہ آخری ملاقات تھی جورومیسہ اور حاطب کے درمیان محبت کے رشتے کے پیشِ نظر ہوئی ۔اس کے بعد چند ایک ملاقات میں دونوں کے اندر چھپے حیوان مدِ مقابل آئے۔اس تمام تر واقعے کا جب رومان کو پتہ چلا تو اس نے بڑی تحمل مزاجی سے حاطب سے تمام تر واقعے کو سناتمام تر واقعہ سننے کے بعد رومان نے انتہائی سنجیدہ لہجے میں کہا تم اس سے شادی کیوں نہیں کر لیتے؟یہ بات سننا تھی کہ حاطب جذباتی ہو گیا۔شادی وہ بھی اُس سے جانتے ہو نا اس کے خاندان کے بارے میں، اس کے گھر والوں کے بارے میں کس قسم کے لوگ ہیں، شرم و حیا ان کے پاس سے بھی نہیں گزری۔ میں ان کے پورے خاندان کو جانتا ہوں۔ تو کیا تم رومیسہ سے محبت نہیں کرتے ؟رومان نے پلٹتے ہوئے سوال کیا۔یار میرے کرنے یا نہ کرنے سے اب کیا ہو گا ؟اب میری منگنی ہو چکی ہے اور تم تو جانتے ہو جدھر میری منگنی ہوئی ہے وہ کس قدر شریف لوگ ہیں اور ابو کے کتنے قریبی ہیں۔تم فضول باتیں کر رہے ہو ،تم سب کچھ کر سکتے ہو تم نے اپنے گھر بات ہی نہیں کی اس بارے میں رومان ذرا غصے میں بولا جس پر حاطب دھیمے لہجے میں کہا، یار ابا کے مطابق وہ نسلی لوگ نہیں ہیں۔
اس واقعے سے چنددنوں بعد ہی حاطب کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی۔ دوسری طرف رومیسہ کا بھی رشتہ آ گیا جو اس کی پھوپھو اپنے بیٹے کے لیے لے کرآئی تھی۔ جو اس کے خاوند کی پہلی بیوی سے تھا،طلاق شدہ تھااور تیں بچوں کا باپ بھی تھا۔
یہ رشتہ پہلے بھی آ چکا تھا مگر رومیسہ کے انکار کی وجہ سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔رومیسہ کی والدہ بھی اس رشتے سے خوش نہیں تھی۔اب چونکہ رومیسہ کے پاس انکار کی کوئی وجہ نہیں تھی تو یہ رشتہ طے ہو گیا۔سننے میں یہ بھی آیا تھا کہ رومیسہ نے اپنی والدہ سے لڑ جھگڑ کر یہ رشتہ کروایا تھا۔خاندان میں یہ بات مشہور تھی کی رومیسہ کی پھو پھو کا چال چلن مناسب نہیں ہے ۔اس کی بہو نے طلاق دیتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ اس کا خاوند اور اس کی ساس آپس میں بد فعلی کرتے ہیں لہذا ب میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
رومیسہ شادی کے بعد بغیر کسی مشقت کے تین بچوں کی ماں بننے والی تھی (اس کا بڑا بیٹا حاطب کی عمر کا تھا،خوبصورتی اور قد کا ٹھ میں اس سے بھی آگے)مگر یہ بات اس کو ذرا بھی پریشان نہیں کررہی تھی بلکہ وہ بڑے چاؤ سے شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔
حاطب کی شادی سے تین دن پہلے رومیسہ کی شادی ہو گئی۔حاطب غم و غصے کی حالت میں گاؤں میں پھر رہا تھا اور دل کو تسلی دینے کے لیے سب کو بتاتا پھر رہا تھا کہ شکر ہے جان چھوٹی ایسی عورت سے بڑے وعدے کرتی پھرتی تھی کے تم نہ ملے تو مر جاؤں گی،زہر پی لوں گی مگر تمہارے علاوہ روح اور جسم کا مالک کسی کو بننے نہیں دوں گی۔ آج بڑے چاؤ سے شادی کروا رہی ہے ۔کم سے کم کو ئی اچھا سا لڑکا تو دیکھ لیتی۔ اس چاچو جان سے کیا سکھ ملنا ہے اس کو۔
حاطب کی شادی بھی دھوم دھام سے ہو گئی۔حاطب کے سسرال والے جتنے نیک تھے، ان کی بیٹی کوئی چار ہاتھ آگے ہی تھی مگر قسمت کے ہاتھوں مار کھا گئی جو حاطب جیسا شخص اس کی زندگی کا ساتھی بنا ۔ایک لمبا عرصہ انتظار کے بعد اسے خاوند ملا تو وہ بھی حاطب جیسا نا قدرہ،چندرہ،کلموھاجس میں کوئی جذبات نہیں بس دکھاوے کا ہنسنا اور بات کرنا، کمرے میں جاتے ہی ایک دم سکتہ طاری ہو جانا۔، ہاتھ لرزنا اور زبان میں لرزش آ جانی مانو پرائی عورت کے ساتھ چوری چھپے کمرے میں ہو۔
خدا بخشے حاطب کی بیوی کو اس نے کبھی کسی سے اس بارے میں بات نہیں کی۔ بس خدا کے آگے اپنا دامن پھیلائے بیٹھی رہی۔گاؤں کی عورتوں کے طعنوں پر بھی ایک دم اطمینان سے اپنے کاموں میں مصروف رہتی۔ادھر گاؤں کی عورتیں اس کی کردار کشی میں مصروف رہتیں کہ حاطب جیسا گدھ نما شخص اور شادی کو ہو ئے مہینہ بیت گیا مگر کوئی خوش خبری ہی نہیں!
ادھررومیسہ کی بھی حالت کچھ ایسی ہی تھی وہ بھی شادی کے بعد بھی کنواری تھی۔ اس کا خاوند پہلی رات بھی اس کے پاس نہ گیا۔رومیسہ اوراسکی پھوپھو میں اگرچہ ساس اور بہو کا رشتہ تھا مگر وہ کسی سوتنوں سے کم نہ تھی۔ تمام گھر والے رومیسہ سے لڑتے جھگڑتے ،مارتے پیٹتے سوائے اس کے بیٹے کے۔ اس گھر میں وہ اکیلا سہارا تھا جس کے کندھے پر وہ سر رکھ کے رو سکتی تھی۔
شادی کے تین ماہ بعد رومیسہ کی لاش گھر کے صحن میں پڑی تھی۔ پورے گاؤں میں کہرا م مچا تھا۔شنید تھی کہ رومیسہ نے خودسوزی کی ہے مگر رومیسہ کے گھر والے اس بات کو ماننے پر آمادہ ہی نہ تھے۔مرنے سے چند دن پہلے وہ اپنے گھر ملنے آئی تھی اور اپنی ماں کو کہنا چاہ رہی تھی کہ اب وہ اس گھر میں نہیں جائے گی کیوں کہ اس کی جان کو وہاں خطرہ ہے۔ اس کا خاوند اس پر شک کرتا ہے۔طرح طرح کے طعنے نے کستا ہے ،بد چلن کہتا ہے۔(چونکہ اسے رومیسہ اور حاطب کے معشوقے کا علم تھااس کے مطابق رومیسہ اب بھی حاطب سے رابطے میں تھی۔یہ بات رومیسہ کی والدہ بھی جانتی تھی ۔)اس نے رومیسہ کی کسی بھی بات کو خاطر میں نہ لیا اور یہ کہتے ہوئے واپس بھیج دیا کہ وہ تمہاری پھوپھو ہے کوئی جلادنہیں ایسی باتیں نہیں کرتے اب وہ تمہارا گھر ہے..۔میں بات کروں گی تمہاری پھوپھو سے۔
رومیسہ جب ہسپتال میں ادھ موئی پڑی تھی تب اس کے گھر والوں نے حاطب اور رومان پر رپٹ درج کروا دی جس کا متن کچھ یوں تھا:۔حاطب اور رومان رومیسہ کو ہراساں کرتے تھے جس سے تنگ آکر اس نے خودسوزی کی کوشش کی۔دوسری رپٹ میں رومیسہ کے خاوند، بیٹے اور اس کے سُسر کے نام درج کروائے گئے جس کا متن کچھ یوں تھا کہ:۔ اس کا خاوند،بیٹا اور سُسررومیسہ پر تشدد کرتے تھے ،جہیز کی مانگ کرتے تھے ۔جہاں تک ہو سکا ہم نے دیا جب منع کیا تو اس کو جلا دیا۔
رپٹ درج کروانے کے بعد پولیس حرکت میں آئی۔ رومیسہ کے خاوند ،سُسر اور بیٹے کو حراست میں لے لیامگر حاطب اور رومان پولیس کے ہتھے چڑنے سے بچ گئے۔
پولیس کی چھان بین سے ہر روز ایک نئی کہانی سامنے آتی۔ہر کہانی کہیں نہ کہیں ادھوری رہتی۔اس تمام تر واقعے کو صرف رومیسہ ہی جانتی تھی۔اب تک واحد وہ ہی تھی جو اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کو مکمل اور صحیح طریقے سے بتا سکتی تھی۔ اس سے قبل ہی اس کی موت ہو گئی وہ بھی اس وقت جب ڈاکٹر اسے خطرے سے باہر بتارہے تھے۔پولیس اس کابیان بھی نہ لے سکی کیوں کہ وہ بولنے کی طاقت سے محروم ہو چکی تھی۔رومیسہ کی اس پُر اسرار موت نے اس معاملے کو اور الجھا دیا۔
رومیسہ کی پھو پھو سے جو بن سکا اس نے کیا ۔پولیس کو پیسے دیے تاکہ اس کے بیٹے،خاوند اور پوتے پر زیادہ سختی نہ کی جائے۔ہسپتال سے عدالت تک کا سفراس نے تنِ تنہا کیا ۔جب اسے پتہ چل گیاکہ اس کے وارثان کو سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا ماسوئے ایک امر کے تو اس نے اس پر کام شروع کر دیا۔اور وہ تھا رومیسہ کے گھر والوں سے صلح۔
رومیسہ کی پھو پھو کی رسائی گاؤں کے ہر اونچے طبقے تک تھی۔اس نے ہر روز نئے شخص ،نئے طریقے، نئی آفر سے رومیسہ کے گھر بھیجنا شروع کر دیے۔مگر کوئی بھی طریقہ سود مند ثابت نہ ہوا ۔
جب اس کی ہر چال ناکام ہو گئی تو اس نے اپنا ترپ کا پتہ استعمال کیا ۔اس نے ایک ملاقات چند پولیس افسران اور بااثر افراد کے ساتھ اپنے بھائی اور بھابھی سے کی اور اپنے دکھوں کا پہاڑ اسنایا۔
جو ہوا بہت ہی برا ہوا مگر اب ہم اس کو بدل نہیں سکتے۔ اب ہم جو کر سکتے ہیں وہ بس یہ ہی ہے کہ مرحومہ کو عزت دیں۔جب سے اس کی موت ہوئی ہے تب سے لے کر اب تک لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔اس کی عزت اُچھال رہے ہیں۔اُسے تو مر کر بھی چین نہیں مل رہا۔میں آپ کا دُکھ سمجھتی ہوں وہ میری بھی کچھ لگتی تھی۔
یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ ایک شخص کو انصاف دلوانے کے لیے کسی اپنے کا گھر تباہ کر دیا جائے۔ میرا تو کوئی کمانے والا بھی نہیں۔اگر اِن تینوں کوکچھ ہو گیاتو میں کہاں جاؤں گی۔ کس کے سہارے اپنی زندگی گزاروں گی۔ نہ ماں نہ باپ ایک بھائی ہی تھا جو جان سے بڑھ کر پیار کرتا تھا ۔آج وہ بھی میری حرکتوں کی وجہ سے میرے خلاف ہو گیا ہے۔۔۔۔!
اُن تینوں کے بعدمیرا کیا ہو گا!بھائی میں نے آج تک �آپ سے جو بھی مانگا آپ نے کبھی انکار نہیں کیا۔آج بھی میں آپ سے کچھ مانگنے آئی ہوں۔یہ بس آخری چیز ہے اس کے بعد میں کبھی آپ سے کوئی تقاضا نہیں کروں گی۔میرے پاس آپ کو دینے کے لیے کچھ نہیں بس ایک گھر ہے جس کی مالیت ۱۰ لاکھ ہے۔میں اس جگہ کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلی جاؤں گی او ر آپ سے زندگی میں کبھی رابطہ نہیں کروں گی۔
اس کی یہ باتیں سن کر تمام لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔تمام لوگ جوجمع تھے رومیسہ کے والد کو سمجھانے لگ گئے کہ ایک شخص تو دنیا سے جا چکا ہے اس کو تو ہم واپس لا نہیں سکتے اب جو باقی بچا ہے اس کو بہتر بنانا ہمارے ہاتھ میں ہے۔اگر اس کے گھر والوں کو کچھ ہو گیا تو پھر بھی تم کو اس کی ذمہ داری لینی پڑے گی ،بھائی ہونے کی وجہ سے تو کیوں نہ اس سے ساری عمر کے لیے جان چھڑا لی جائے اور ۱۰ لاکھ سے تم اپنے باقی بچوں کی زندگی کو بہتر بناسکتے ہو۔یو ں سمجھ لو کہ تمہاری بیٹی نے باقی بچوں کے لیے قربانی دے دی۔
رومیسہ کا والد جو اب تک خاموش بیٹھا تھا،گرتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ بولا آ پ سب ٹھیک کہہ رہے ہیں میں آپ سب کی باتوں کو سمجھتا ہوں ۔ایک باپ ہونے کے ناطے بس مجھے اتنا بتا دیا جائے کہ میری بیٹی کی ایسی دردناک موت کس طرح ہوئی۔
اس جملے کے بعد کمرے میں خاموشی چھا گئی اور سب کی نظریں رومیسہ کی پھوپھو پر آ کر ٹھہر گئیں۔
رومیسہ کی پھوپھو نے بولنا شروع کیا۔
ایک دن میں اور رومیسہ کا خاوند کمرے میں اکیلے تھے اور رومیسہ نے دیکھ لیا۔ اس کو بہت سمجھایا کہ ایسا کچھ نہیں جو تم سوچ رہی ہو۔ مگر اُس نے ایک نہ مانی لہذا اس کو مار پیٹ کر جان سے مارنے کی دھمکی دے کر چپ کروادیا۔اُس دن تو وہ چپ ہو گئی مگر چند دنوں بعد جب اُس نے دوبارہ ہمیں پکڑ لیا تو شور مچانا شروع کر دیا۔بہت کوشش کی چپ کروانے کی مگر وہ خاموش نہ ہوئی تو مجبوراً اس کے منہ میں کپڑا ٹھونسنا پڑا مگر وہ پھر بھی خاموش نہ ہوئی اور گلی میں جانے کی کوشش کرنے لگی،اتنے میں اس کا بیٹا اور سُسرآ گئے ہم نے اُنہیں بتایا کے اس کو آج ہم نے بدچلنی کرتے ہوئے پکڑ لیا ہے۔ اس کا عشق تو بھاگ گیا ہے۔ اور یہ اُلٹا ہم پر الزام لگا رہی ہے۔ یہ سنتے ہی وہ دونوں بھی جوش میں آ گئے۔ ہم مل کر اس کو کمرے میں لے گئے ،چارپائی کے ساتھ باندھا اور پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ہمارا خیال تھا کہ جب وہ مر جائے گی توکھول دیں گے اور کہہ دیں گے کہ اس نے خود سوزی کی ہے ،مگر ہمسائے جو کافی دیر سے شور شرابا سن رہے تھے جلنے کی بُو محسوس کر کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے جلتا دیکھ کر آگ بجھائی اور ہسپتال لے گئے۔
اب ہمیں یہ ڈر تھا کہ یہ پولیس کو اپنا بیان نہ دے دے تو ہم نے ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر اس کی زبان حلق کے اندر سے کٹوا دی تاکہ وہ بول نہ سکے اور ہم پکڑے نہ جائیں۔جب اس نے تحریری طور پر اپنا بیان دیا تو ہم نے اس بیان کو بھی پولیس کے ساتھ مل کر ضائع کروادیا۔
یہ سب سننا تھا کہ رومیسہ کا والد چیخ اُٹھا اور گالیاں دیتے ہوئے اسے گھرسے نکا ل دیا۔
کچھ دنوں بعد رومیسہ کے والد نے صلح کچھ اس انداز میں کی کہ رومیسہ کے خاوند کو پانچ سال قید ہوئی اور باقی دونوں کو رہا ئی مل گئی۔حاطب اور رومان جو اس تمام تر واقعے سے بچتے بچاتے پھر رہے تھے اُن پر سے بھی مقدمہ اُٹھا لیا گیا۔
اس واقعے سے ۱۰ ماہ بعد حاطب کے گھر لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام اُس نے رومیسہ رکھا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ