بریکنگ نیوز

درد آگہی

IMG_20180527_231241.jpg

درد آگہی
تحریر عبدالرحمن
درد آگہی کم بخت اتنی تکلیف دہ ہے کہ جس کسی نے بھی، پتا نہیں کیوں، کب اورکس لیے؟ یہ کہا “کم علمی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے”۔ دل چاہتا ہے اس کی بیعت کر لوں۔ لیکن ہزار کوشش کے باوجود ابھی تک اس سعادت سے محروم ہوں۔
گذشتہ دو دہائیوں میں ہر ملک نے بہت تیزی سے ترقی کی. لیکن اس سے بے خبر حکمران ہمیں اب بھی انکم سپورٹ، سستی روٹی اور اکیسویں صدی میں صاف پینے کے پانی کی خیرات کے لارے لگا کر ماموں بنا رہے ہیں۔ لگتا ہے انہیں وہ پیر مل گیا ہے جس کی مجھے تلاش ہے اور وہ کم علمی کی برکات سے پوری طرح فیضیاب ہو رہے ہیں۔ ورنہ تو ذرائع ابلاغ نے دنیا کے بارے میں آگاہی کا جیسا انقلاب برپا کیا ہے کوئی چاہے بھی تو بے خبری ممکن نہیں۔
ان سالوں میں جس بھی ملک کے سفر کا اتفاق ہوا۔ دیکھا سب نے ہی منزل کا تعین کر لیا ہے اور اپنی اپنی رفتار اورانداز سے اس کی طرف گامزن ہیں۔ سوائے اپنے درویشوں کے جو دنیا کو یہ بتا کر اکڑتے ہوئے تھکتے نہیں کہ ہم نے تخریب کاری کے خلاف ہزاروں جانیں قربان کی ہیں، اربوں ڈالرز کا نقصان کیا ہےاور آگے بھی اسی جذبے سے جنگ کا ایندھن بنیں گے۔ جو ملک بھی دیکھا چاہے ترقی پزیر ہو یا اس کا تعلق تیسری دنیا سے، جہاں بھی گیا اک آہ سی نکلی؛ یارو ہم تو بہت ہی پیچھے رہ گئے، نہیں شاید ہم سمت ہی غلط پے چل نکلے۔
لیکن دو ملکوں کو دیکھ کر دلی خوشی ہوئی؛ پہلے ترکی اور اب مراکش۔ شاید اس لیے کہ مسلمان ممالک کے بارے میں جو تاثر بنا دیا گیا ہے اس سے ہٹ کے اگر کچھ دیکھو تو بہت اچھا لگتا ہے۔ساتھ ہی انہیں دیکھ کر اعتماد بڑھا کہ مسلمان ممالک بھی خوش حال، مہذب اور پر امن ہوسکتے ہیں جہاں عوام اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ دونوں کے ہاں پاکستان ہی کی طرح شہروں اور دیہاتوں میں بہ کثرت گدھے نظر آتے ہیں، آزاد، آوارہ اور رہڑوں میں جتے ہوئے بھی۔ ترکی کے بارے میں تو بھلا ہو اردگان صاحب اور میرا سلطان کا، پاکستانی قوم اس کے بارے کافی باخبر ہے۔ لاہور اور راولپنڈی والے ترکی کو کیسے بھول سکتے ہیں اگر وہ نہ سکھاتے تو اپنا گند کیسے آٹھاتے۔ اتنا بڑا احسان بھلایا تو نہیں جا سکتا۔ لیکن اندازہ ہوا کہ شاہ حسن کے علاوہ مراکش کے بارے میں پاکستانی کچھ نہیں جانتے۔ آباد مسجدیں، گھٹنوں سے پھٹی جینز والی دوشیزاوں کے شانہ بشانہ پر اعتماد برقع پوش خواتین اورجیسی مغرب چاہتا ہے ویسی جمہوریت نہ ہوتے ہوئے بھی ہنستا کھیلتا معاشرہ، عربی بولتے اور یورپ کی پسلی سے لگے ہونے کے باوجود بہت مہذب قوم؟ بڑی ہی خوشگوار حیرت ہوئی۔
ہر دفعہ کسی ایسے تجربے کے بعد پچپن سے سنتے آئے ڈاکٹر محبوب الحق صاحب سے منسلک وہ طلسماتی قصہ یاد آنے پے نئے سرے سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ شمالی کوریا نے کیسے ان کے بنائے پلان کی نقل مار کر دنیا کوحیران کردیا اور ہم اصل ہونے کے باوجود بھی صرف اپنے آپ کو حیران کرنے پے تلے ہوئے ہیں کہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی غربت کو درویشی کا نام دے کر کتنے مست ہیں ۔ چند دن پہلے جناب اکرام سہگل کی زبانی ویسا ہی ایک اور ہوش ربا افسانہ سنا۔ ایک ایسی تقریب جو ڈیووس اکنامکس فورم میں کچھ نہ کرنے کا جشن منانے کے لیے منعقد ہوئی۔ وہ بتا رہے تھے کہ من موہن سنگھ جس کو یار لوگ بہت سادہ سمجھتے رہے۔ وہ جناب سرتاج عزیز صاحب جو معاشیات پڑھتے پڑھتے خارجہ امور کا پرچہ بھی پاس کر گئے۔ ناشتے کی صرف ایک نشت میں وہ ہمارے سر کے تاج کو ماموں بنا کر وہ پلان لے اڑے۔ جس کی نقل اب کی بار ہندوستان نے ماری اور ترقی کے پھل سمیٹ نہیں پا رہا۔ جس سے آئی دولت کا نشہ ایسا سر چڑھ کے بول رہا ہے کہ مودی نے ترشول کو خلائی جہاز سے تشبیہ دی اور یہ دعوی داغ کر خلائی سائنسدانوں کے چودہ طبقے روشن کر دیے کہ کئی ہزار سال پہلے ان کے باپ دادا اس چاند کو لتاڑ آئے جس پر امریکہ کئی صدیوں بعد جا کر پھولا نہیں سما رہا۔
پہلی الجھن ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک نیا سیاپہ آن پڑا۔ پھر سے اس پیر کو ڈھونڈنے کی ترغیب ہوئی جس نے کم علمی کو نعمت کا درجہ دیا۔ دوران تلاش پتا چلا کہ حضرت مریدی میں صرف حکمران طبقے کو لیتے ہیں۔ جس نے مرشد کے ارشاد مبارک کو سچ ثابت کرنے کی قسم کھائی ہے۔ ان شخصیات میں جناب محبوب الحق اور عالی مقام سرتاج عزیز صاحب جیسی شخصیات جنہیں شروع دن سےغلام گردشوں سے بھی اندر والی گلی تک رسائی حاصل رہی ہے۔ سمجھ سے بالا تر ہے کیسے ان کے نسخوں سے کوریا اور ہندوستان نے تو شفاء پائی لیکن اپنے مریض کو ذرا افاقہ نہیں ہوا۔ مجھے تو اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آئی۔ ہمارے ایک بڑے قابل احترام بزرگ جوانی میں دوڑ لگانے کے بڑے دلدادہ تھے۔ ایک سال انہوں نے بڑی خوراکیں کھائیں اور دوڑ کے مقابلے کی خوب تیاری کی۔ مقابلے سے واپس پے دیکھا دوڑ کے بجائے گولہ پھینکنے کی ٹرافی کے ساتھ بھنگڑا ڈالتے نظر آئےتو پتا چلا کہ کوچ نے ان کی جسامت دیکھ کر چپکے سے گولے کے لیے مفید مشقوں اور خوراک پے لگا دیا۔ سمجھ نہیں آتی کیوں ان نامی گرامی حضرات کو اپنے ہاں کوئی ملک موہن شاہ یا چوہدری کم شم نہیں ملا جو ان کے پلان اگر کوئی تھے تو ان پر تھوڑا غور کرتا۔ کوریا پے تو کوئی زیادہ اعتراض نہیں، بہت دور، نظروں سے اوجھل ایک بے ضرر سا ملک جس کی ترقی سے نفع نہیں تو نقصان بھی کوئی خاص نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے سالوں میں یہ حضرات اپنے ہمسائے کو بھی سمجھ نہیں سکے، کہ بنیا ترقی کر کے اور کچھ کرے نا کرے ہماری چھاتی پے مونگ ضرور دلے گا۔ کیونکہ پاکستان کو نیچا دکھانا ہی اس کی ترقی کی اصل معراج ہے۔ سر تاج صاحب سے بندہ پوچھے من موہن سنگھ کو پلان دیتے ہوئے اس میں کوئی تعویذ ہی رکھ دیتے جس سے بھارت کی ملوں اور کارخانوں کو دیمک لگ جاتی یا کیڑے پڑ جاتے اور آج ہمیں اپنی غربت سے زیادہ اس کی ترقی کا دکھ تو نہ سہنا پڑتا۔
بات مراکش سے چلی اور کہاں پہنچ گئی۔ اللہ نظر بد سے بچائے بہت خوب صورت ملک ہے۔ صفائی، تہذیب اور معاشرے میں برداشت کے علاوہ بھی بہت سی باتوں نے متاثر کیا۔ لیکن میں یہاں ایک بالکل ہی فرق بات کا ذکر اس خدشے کے باوجود کررہا ہوں کہ میرے اپنے بچے بھی نہ صرف یقین نہیں کریں گے بلکہ احتجاج بھی متوقع ہے کہ یہ کہانی ان کے خلاف سازش ہے۔ ٹرین میں سفر کے دوران دو جوان لڑکیاں ہمارے والے کیبن میں آ بیٹھیں۔ کم و بیش چار گھنٹوں کے سفر میں ان دونوں نے میرے اور میری بیوی کے ہر فضول سوال کا جواب بڑی خندہ پیشانی سے دیا۔ جس میں شادی کی رسومات سے لیکر کھانوں کی ترکیب جیسے مضمون شامل تھے جن سے بظاہر ان دونوں کو کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ اس دوران بار بار بجنے کے باوجود ایک دفعہ بھی فون نہ اٹھایا۔ یہ اتفاق بھی ہو سکتا تھا لیکن واپسی پے میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک خوب صورت لڑکی کے بیٹھتے ہی بیگم صاحبہ نے پیش گوئی کرنے میں ذرا دیر نہ کی کہ ” تمہارا سفر اچھا گزرے گا”۔ غائب سے مدد آئی اور جیسے ہی ایک مائی نے آکر اس کی ساتھ والی سیٹ سنبھالی تو میں نے بھی احتیاط” کہہ ڈالا کہ جناب کی بوریت کا سامان بھی ہوگیا ہے۔ لڑکی فرانس کی پڑھی ہوئی، اچھی نوکری اور اوپر سے کنواری بھی (بیگم کے ساتھ ہوتے ہوئے میں اور ایسا سوال؟ یہ خبر اس نے خود سے ہی دی)۔ آپ اتفاق کریں گے کہ کسی بھی معیار سے نخرے کے سب لوازمات موجود تھے۔ لیکن اس نے بھی ہمارے ساتھ خوب باتیں کیں۔ بیگم کی محافظ نظروں کے سامنے میں گفتگو میں کافی محتاط تھا اور گاہے بگاہے اس کے ساتھ بیٹھی خاتون سے بھی ایک آدھ قصہ چھیڑا ۔ لیکن کمال ہے میرے ساتھ بیٹھی لڑکی نے آئی فون ہونے کے باوجود، نہ تو واٹس اپ کھولا، نہ ہی سٹیٹس آپ ڈیٹ کیا۔ ہاں اگرچہ سیلفی نہ لیکر تھوڑا دکھی سا کر گئی۔ پاکستانی نوجوان یا نوجوانی نہ تو اس پر یقین کریں گے اور نہ ہی اسے قابل تقلید صفت مانیں گے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ