بریکنگ نیوز

صاف آب و ہوا کیوں ضروری ھے

download-4.jpg

صاف ہوا کی کانفرنس
تحریر شکیل ملک
ملک سے باہر جانا سبھی کو اچھا لگتا ہے۔ کچھ لوگ ملک سے باہر ہی رہنا چاہتے ہیں۔ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو کبھی کبھی باہر جانا چاہتے ہیں اور وہ بھی چند دنوں کے لئے۔ ذیادہ دن ہو جائیں تو اپنے وطن کی یاد بہت ذیادہ ستانے لگتی ہے۔
اس بار ہم بنکاک گئے جہاں صاف ہوا کی ایک کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ ہمیں تو آلودہ پانی، آلودہ دودھ، آلودہ سبزیاں اور آلودہ کھانے ملتے ہیں۔ دنیا اپنی ہوا کو بھی صاف کر رہی ہے۔ ہم بھی ویسے بہت صفائی پسند ہیں لیکن اس سلسلے میں ہمارا رجوع قومی خزانے پہ ہی ہوتا ہے باقی ہر شے کو ہم آلودہ رکھتے ہیں۔ دنیا میں لوگ اتنے صفائ پسند ہیں کہ انکے گاڑیوں کے مستری اور چھوٹے بھی صاف ستھرے کپڑوں میں دکھائ دیتے ہیں جبکہ ہمارے ایسے لوگ ایک بار آلودہ کپڑے پہن لیں تو پھر کبھی انہیں تبدیل ہی نہیں کرتے۔
تھائ ائر کا جہاز جب اسلام آباد سے محو پرواز ہوا تو جہاز میں موجود اکثر مسافر تھائی موڈ میں چلے گئے۔ سمارٹ فضائ میزبانوں نے کثیف مشروبات پیش کرنے شروع کئے تو مفت کا مال سمجھ کر اکثر نے جام پکڑنے شروع کر دئے۔ ہمارے ساتھ بیٹھے مسافر نے جب پہلی چسکی لیکر لمبا اطمینان کا سانس لیا تو ہم نے انکی جانب استعجابیہ نظروں سے دیکھا۔ انہوں نے فوراً جواب دیا، “ سر آپ شغل نہیں فرما رہے۔ دراصل جہاز کے سفر میں مجھے بہت گھبراہٹ ہوتی ہے۔ اس سے بچنے کے لئے پیتا ہوں جس سے قوی مضمحل ہو جاتے ہیں اور گھبراہٹ ختم ہو جاتی ہیں۔ “ کچھ دیر بعد ہم نے دیکھا کہ وہ بلاوجہ مسکرائے جارہے ہیں جیسے انہیں کوئ بڑی خوشخبری مل گئ ہو۔
سوا چار گھنٹے کا سفر تھا۔ ہمیں نہ جہاز میں نیند آتی ہے اور نہ کچھ پڑھ سکتے ہیں۔ بس دل ہی دل میں کچھ پڑھتے رہتے ہیں۔ ساتھ والا مسافر میزبان سے بار بار پیگ بنوا رہا تھا۔ جب میزبان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ انکار کیا کہ اب بہت ہوگیا ہے تو وہ کچھ برہم ہوئے۔ پھر ہمیں مخاطب ہوکر مسلسل بولنا شروع ہوئے جیسے ہم نے فضائ میزبان کو منع کیا ہو۔ وہ بول تو پنجابی رہے تھے لیکن ہمیں کوئ اور ہی زبان لگ رہی تھی جسکی ہمیں قطعی طور پر سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ہم ہاں ہوں کرتے رہے۔ جب وہ تھک گئے تو خود ہی خاموش ہوگئے۔جہاز کے ہچکولوں میں انکی باد شکم نے ایسے عفونت آمیز بھبھکا چھوڑا کہ ہم نے بے دھیانے میں جہاز کی کھڑکی کھولنے کی کوشش کی۔ پھر انکے اونچے خراٹے گونجنے لگے۔ ہم نے سوچا اگر سارے سفر میں وہ باتیں کرتے رہتے تو ذیادہ اچھا تھا۔ اس میں ہم آرام میں تھے۔ خراٹوں سے سخت بے چینی ہورہی تھی۔ ہم نے پیپسی منگوائی اور کھول کر چپکے سے انکی گود میں رکھ دی۔ انہیں نیند میں اپنی شلوار گیلی لگی تو ہڑبھڑا کر اٹھے۔ بوتل نیچے گر گئ جس کی انہیں سمجھ نہیں آئی۔ ہاتھ سے سیٹ ٹٹولی تو وہ بھی ساری گیلی تھی۔ بہت شرمندہ دکھائی دئے۔ ائرہوسٹس قریب آئی تو اس سے پوچھا کہ کیا میں کسی اور سیٹ پہ بیٹھ جاؤں؟ ہم جہاز کی دم پہ بیٹھے تھے اور پیچھے صرف ایک سیٹ خالی تھی۔ اس نے وجہ پوچھی تو انہوں نے شرمندہ ہوکر اپنی شلوار کی طرف اشارہ کیا۔ ائرہوسٹس سر نیچے کر کے مسکرائی۔ وہ بھی وہی سمجھی تھی جو یہ حضرت سمجھے تھے۔ اس نے پیچھے جانے کی اجازت دی۔ اٹھ کر پہلے ٹوائلٹ گئے۔ شلوار کے متاثرہ حصے کو دھویا اور اپنی دانست میں پاک ہوکر پچھلی سیٹ پہ براجمان ہوگئے۔ ہم نے بھی اطمینان کا سانس لیا۔
سوا چار گھنٹے بعد جہاز بنکاک ائرپورٹ پہ اتنے اطمینان سے اترا کہ ہمیں محسوس ہی نہ ہوا کہ جہاز اب فضا میں نہیں۔ ہوٹل پہنچے تو سب سے پہلے ریسیپشن پہ تھائی لڑکیوں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر استقبال کیا۔ وطن عزیز میں کوئی آپ کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑے تو اس کا مطلب ہوتا ہے معافی دو یا یہ ہوتا ہے کہ جان چھوڑو یار۔ لیکن تھائ لینڈ میں یہ خوش آمدید اور سلام کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس ہوٹل میں ہم کچھ عرصہ قبل بھی ٹھہر چکے تھے۔ اگلی صبح اٹھے اور تیار ہوکر ریسٹورینٹ پہنچے۔ ریسیپشن پہ موجود لڑکی نے ہمارے کمرے کا نمبر سنا تو بہت لجاجت سے کہنے لگی “ سر آپ ناشتہ فری میں نہیں کر سکتے۔ “ ہم بھی حیران سے ہوئے کہ کیا ہمارے چہرے پہ لکھا ہے کہ ناشتہ فری نہیں کر سکتے۔ ہم نے اسے کہا کہ کرائے میں ناشتہ شامل ہے۔ اس نے فون پہ کسی سے چیک کیا اور ہمیں مسکرا کر اندر جانے دیا۔ ناشتے میں بے شمار اشیا تھیں لیکن نوے فی صد یا تو اسلامی طور پر منع تھیں یا حکیم شہباز خان اعوان قلندر نے ہم پہ پابندی لگا رکھی تھی۔ ہم نے دس فی صد والی حلال اور جائز اشیا سے ناشتہ کیا۔ ہم نے ناشتہ ایسے کیا کہ دن کو کھانا نہیں ملے گا۔ اس دوران ہوٹل سے یواین سینٹر تک جانے والی شٹل سروس چلی گئ۔ ہم پہنچے تو ہوٹل کے ایک اہلکار نے ہمیں بتایا کہ اب ٹیکسی کرنی پڑے گی۔ ہم نے کہا ٹیکسی منگواؤ۔ ٹیکسی جیسے آئ ہمارے ساتھ ایک خوبرو روسی حسینہ آکر کھڑی ہوئ کہ اس نے بھی یواین سینٹر جانا ہے۔ راستے میں تعارف ہوا۔ اس نے سنا کہ ہم پاکستانی ہیں تو اس نے بہت گرمجوشی کا اظہار کیا۔ اس سے اچھی گپ رہی۔ یواین سینٹر پہنچے تو اس نے ڈرائیور کو دینے کے لئے پیسے نکالے۔ ہم نے فوراً اسے منع کیا اور ڈرائیور کو پیسے دے دئے۔ اس نے شکریہ ادا کیا تو ہم نے کہا کوئ بات نہیں روس نے ہمیں سٹیل مل لگا کر دی تھی۔ اس پہ وہ ایسے مسکرائ جیسے کہہ رہی ہو پھر تو سٹیل مل کا بدلہ اتار دیا آپ نے۔
کانفرنس کے باقاعدہ آغاز سے ایک دن پہلے ایک ورکشاپ ہوئ جس میں مختلف ملکوں نے اپنے ملک میں صاف ہوا کی صورت حال پہ روشنی ڈالی۔ انڈیا نے بتایا کہ ان کے ایک ملین سے زائد آبادی والے ساٹھ فی صد شہر دو ہزار سات میں پی ایم ٹین سے متاثر تھے لیکن دو ہزار سولہ میں یہ تعداد اٹھاسی فی صد ہوگئ۔ انڈیا کے چھوٹے قصبے بڑے شہروں سے ذیادہ آلودہ ہیں کیونکہ ان میں ریگولیش پہ عملدرآمد کی کمی ہے۔ دو ہزار بارہ میں دہلی میں بچوں کے ٹیسٹ کئے گئے جس سے پتہ چلا کہ ہر تیسرے بچے کے پھیپھڑے آلودگی سے متاثر ہو چکے ہیں۔ انڈیا کی سپریم کورٹ کے نوٹس لینے پہ گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان بنایا گیا۔ جنوری دو ہزار اٹھارہ میں سپریم کورٹ نے پھر حکم دیا کہ ایک نیشنل ایکشن پلان بنایا جائے۔ وزارت ماحولیات نے مارچ میں ایکشن پلان بنا لیا اور منصوبہ بنایا کہ سو شہروں میں آلودگی پینتیس فی صد کم کی جائے گی۔ انہوں نے فوراً منصوبہ بھی بنا لیا اور شائد کر بھی لیں گے لیکن ہم ابھی اس جانب توجہ نہیں دے رہے کیونکہ ہمیں وہ یکسوئی حاصل نہیں۔
انڈیا نے بتایا کہ دو ہزار سولہ کے مقابلے میں دو ہزار سترہ میں سردیوں کے موسم میں آلودگی کم ہوئ۔ انہوں نے انیس سو اکیاون سے دو ہزار پندرہ تک کا ڈیٹا پیش کیا جس کے مطابق سو ملین گاڑیوں کی تعداد ساٹھ سالوں میں ہوئی۔ انیس سو اکیاون میں ایک ملین کے قریب گاڑیاں تھیں جو دو ہزار سات اور آٹھ میں سو ملین ہوئ۔ لیکن دو ہزار نو سے پندرہ یعنی محض چھ سالوں میں دو سو دس ملین پہ جا پہنچی۔ فضائ آلودگی میں گاڑیوں کا حصہ بیس فی صد ہے۔ اڑتیس فی صد حصہ روڈ پہ موجود گردوغبار کا ہے۔ بارہ فیصد گھریلو آلودگی اور گیارہ فی صد صنعتی آلودگی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمیں یاد آیا کہ دو ہزار پندرہ میں پاکستان میں گاڑیوں کی کل تعداد 17,317,600 تھی۔ یہاں ہر سال گیارہ فی صد اضافہ ہورہا ہے۔
انڈیا میں ایک جائزے کے مطابق بڑے شہروں میں آلودگی کا بڑا ذریعہ گاڑیاں ہیں جیسے چنائ میں آلودگی( پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو) پینتالیس فی صد گاڑیوں کی بدولت ہے اور بیس فی صد صنعتوں کی وجہ سے ہے۔ لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ چونکہ ذیادہ لوگ بڑی سڑکوں کے ارد گرد رہتے ہیں اس لئے ذیادہ لوگ گاڑیوں کی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ جیسے چنائ میں روڈ کے اردگرد گنجان آبادیوں کے لوگ تریسٹھ فی صد آلودگی گاڑیوں کی ہی اپنے پھیپھڑوں میں سماتے ہیں۔ یوں جو لوگ انڈیا میں روڈ سے تین سو سے سے پانچ سو میٹر کے اندر رہتے ہیں وہ سب سے ذیادہ گاڑیوں کی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ یوں دہلی میں پچپن فی صد آبادی اسی کیٹیگری میں شامل ہے۔ غور کیا جائے تو پاکستان میں بھی ذیادہ آبادی بڑی شاہراہوں کے اردگرد ہے۔ راولپنڈی سارا مری روڈ اور پشاور روڈ کے اردگرد ہے۔بادلوں سے دیکھیں تو پورا پنڈی ایک ایل پہ دکھائ دیتا ہے۔
اندریں حالات سی این جی اور ہائبرڈ گاڑیاں ایک نعمت ہیں۔ اس بجٹ میں حکومت نے ہائبرڈ گاڑیوں پہ کسٹمز کی شرح پچاس سے پچیس فی صد کر دی ہے۔ اسی طرح الیکٹریک گاڑیوں پہ زیرو کسٹمز ہو گیا ہے۔ اس سے صاف ہوا میسر آنے کی راہ ہموار ہوگی۔
انڈیا میں پاپولر کار ماڈلز میں ستر سے پچھتر فی صد کاریں ڈیزل پہ ہیں۔ چونکہ ہر سال گاڑیوں میں بیس فی صد اضافہ ہورہا ہے اس لئے بیس سو بیس تک ڈیزل کاریں ڈبل ہو جائیں گی۔ ڈیزل کاروں کے پاس فضا کو آلودہ کرنے کا لائسنس ہے۔ صرف ایک صورت میں ڈیزل سے آلودگی پٹرول کے برابر ہو سکتی ہے جب ڈیزل یورو چھ لیول پر ہو۔ کانپور پہ کی گئ ایک سٹڈی کے مطابق وہاں ڈیزل کاروں کی تعداد پچیس فی صد ہے لیکن ان سے آلودگی اٹھہتر فی صد ہو رہی ہے۔ ڈیزل کا بلیک کاربن سی او ٹو کے مقابلے میں کہیں ذیادہ آلودگی کا باعث ہے۔ اس سے دنیا کا درجہ حرارت بھی بڑھتا ہے۔ دسمبر دو ہزار پندرہ میں سپریم کورٹ نے دہلی میں ڈیزل گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا۔ اگست دو ہزار سولہ میں عدالت نے ڈیزل گاڑیوں پہ آلودگی چارج بھی لگا دیا۔ اسی طرح نیشنل گرین ٹریبیونل نے دس سال پرانی ڈیزل گاڑیوں پہ پابندی لگا دی۔ انڈیا نے دو ہزار سولہ میں ہی ڈیزل کو یورو فائیو لیول سے یورو چھ لیول میں تبدیل کر دیا۔ ڈیزل کی گاڑیاں حقیقت میں پٹرول گاڑیوں سے تین سے چھ گنا ذیادہ آلودگی پیدا کرتی ہیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے ڈیزل کاریں پٹرول کاروں کے مقابلے میں تئیس فی صد رہ گئ ہیں۔
چائنہ نے یورو سٹینڈرڈ کے مقابلے میں اپنے سٹینڈرڈ بنا رکھے ہیں جو چائنہ ون سے چائنہ فائیو سکس تک ہیں۔ چائنہ نے 2020 تک سکس اے سٹینڈرڈ حاصل کرنا ہے ( جوکہ یورو سکس کے متبادل ہے ) اور 2023 تک یورو سکس بی کا حصول ہوگا۔ بنگلہ دیش دو ہزار اٹھارہ میں یورو ٹو لیول مکمل کر لے گا اور دو ہزار بیس تک یورو تھری اور فور لیول حاصل کرے گا۔ انڈونیشیا میں دو ہزار ایک تک کاروں کی تعداد بیس ہزار تھی جو دو ہزار سترہ میں گیارہ کروڑ کے قریب پہنچ گئ۔ اسی طرح دو ہزار سترہ میں موٹر سائیکلوں کی تعداد چودہ کروڑ ہوگئ۔ دو ہزار سولہ کے جکارتہ کے ایک جائزے کے مطابق وہاں کی اٹھاون اعشاریہ تین فی صد آبادی (ایک کروڑ ) فضائ آلودگی کی وجہ سے بیمار تھی جنہوں نے اس سال تین اعشاریہ نو بلین ڈالر بیماری پہ خرچ کئے۔ انڈونیشیا دو ہزار اکیس تک یورو فور لیول پہ پہنچ جائے گا جس کی وجہ سے انیس سو ستر ٹریلین انڈونیشیا کی کرنسی کی بچت ہوگی۔
کانفرنس میں ایشیا پیسیفک کے تیس ملکوں نے شرکت کی۔ ان ملکوں میں صاف ہوا کا نہ ہونا صحت عامہ کے لئے نہائت خطرناک ہے۔ اس ریجن میں بانوے فی صد افراد ایسی ہوا میں سانس لیتے ہیں جو ورلڈ ہیلتھ آرگنائشیشن کے سٹینڈرڈ کے تحت بہت نقصان دہ ہے۔ ان ملکوں کی شہری آبادی میں فضائ آلودگی ڈبلیو ایچ او کے سٹینڈرڈ کے اعتبار سے پانچ سے دس گنا زائد ہے۔
افتتاح کے بعد کانفرنس میں پہلا سیشن صاف ہوا کے لئے حل کا ہوا۔ اس میں بتایا گیا کہ یواین انوائرمنٹ اسمبلی کی ریزولوشن کے بعد ایشیا میں فضائ آلودگی کے سائنسی حل کے لئے ایک رپورٹ مرتب کی گئ جس میں تین طرح کے حل پیش کئے گئے۔
کانفرنس میں نشاندہی کی گئ کہ فضا کو آلودہ کرنے والے عارضی اجزا جیسے بلیک کاربن، میتھین اور ایچ ایف سی کے سلسلے میں ہر ملک کو اپنی انرجی، صحت، ٹرانسپورٹ، انڈسٹری اور انوائرنمنٹ کی وزارتوں کی اکٹھی کاوشوں کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں اس بات کی ضرورت ہے کہ گھریلو استعمال کی توانائی سے پیدا ہونے والی آلودگی کو بھی ختم کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ڈریعے چاول کی فصل کی باقیات سے انرجی حاصل کی جائے اور کسانوں میں آگاہی پیدا کی جائے کہ ایسی باقیات جلانے کی نقصانات ہیں۔ انڈسٹری اور ٹرانسپورٹ میں اخراج کی مقررہ حد پہ عملدرآمد کروایا جائے۔ بنگلہ دیش کے بھٹوں کے دو ہزار تیرہ کے قانون کے ذریعے تمام بھٹے شہروں سے باہر نکال دئیے ہیں جس سے آلودگی میں کمی ہوئ۔ کوڑا کرکٹ کھلے عام جلانے کے بجائے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بائیوگیس اور توانائ میں تبدیل کیا جائے۔
کانفرنس کے اگلے سیشن میں فضائ آلودگی کے سلسلے میں پالیسی آپشنز پہ بات ہوئی۔ ابھی ان ملکوں میں آلودگی ختم کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کے شعبے پہ سارا زور ہے جبکہ ٹرانس باؤنڈری فضائی آلودگی پہ بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ وزارتوں میں ٹیکنیکل افسران اور ماہرین ذیادہ ہونے چاہئیں تاکہ پالیسیوں پہ عملدرآمد بہتر انداز میں کروایا جائے۔ پرائیوٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائ کی جائے کہ ایسی نئ ٹیکنالوجی پہ انوسٹمنٹ کریں۔ اگلے سیشن میں بتایا گیا کہ بڑے شہروں میں فضائ آلودگی کنٹرول کرنے کے لئے سپورٹ مہیا کی جائے۔ اگلے سیشن میں فناسنگ، ٹیکنالوجی اور ریگولیٹری اقدامات پہ بات چیت ہوئ۔ سفارش کی گئ کہ پرائیویٹ سیکٹر کی اس شعبے میں انوسٹمنٹ کے لئے بنک اور بین الاقوامی ادارے حوصلہ افزائ کریں اور مالی ذرائع کا آسان قرضوں کی صورت میں بندوبست کریں۔ چھٹا سیشن اس عنوان سے ہوا کہ شہریوں کو ایکشن کے لئے تیار کیا جائے۔ اس سلسلے میں بریتھ لائف کیمپین میں شمولیت اختیار کی جائے۔ جیسے منگولیا میں اس مہم کا یہ فائدہ ہوا کہ ائر کوالٹی کے لئے نئ پالیسیوں کا آغاز ہوا۔ اس سیشن میں انڈیا کی اداکارہ دیا مرزا نے گفتگو کی۔ اس نے سٹیج پہ مختلف افراد کو انٹرویو کیا۔ ان میں پاکستان کا حسام الدین بھی تھا جو بیس ملکوں میں مقابلے پہ کاربن لائف سٹائل چیلنج میں ونر کے طور پہ آیا تھا۔ اس نے ٹرانسپورٹ کا ایک ایسا حل پیش کیا جس کی وجہ سے ہم کاروں کو روڈ سے دور رکھ سکتے ہیں۔ ایسے ہونہار نوجوان وطن عزیز کا سرمایہ ہیں اور انکی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
کانفرنس میں فضائی آلودگی کے جو سائنسی حل پیش کئے گئے وہ درج ذیل ہیں۔
الف: آلودگی کنٹرول کرنے کے لئے روائتی حل
– آلودگی پیدا کرنے والی گیسوں کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لئے پاور سٹیشنز اور انڈسٹری میں سٹیٹ آف دی آرٹ اینڈ آف پائپس استعمال کئے جائیں۔
– آئرن اور سٹیل، سیمنٹ ، گلاس اور کیمیکل کی صنعتوں کے لئے ایڈوانسڈ اخراجی قواعد مرتب کئے جائیں۔
– ٹرانسپورٹ میں اخراج کے سٹینڈرڈ کو مزید تقویت دی جائے۔
ب : ائر کوالٹی کے اقدامات
– شہروں میں گھروں میں کھانے پکانے کے لئے صاف ایندھن کے طور پر بجلی ، نیچرل گیس اور ایل پی جی کو فروغ دیا جائے۔ اسی طرح دیہاتوں میں بائیوگیس کے سلنڈر اور چولہے فراہم کئے جائیں۔
– زرعی فضلہ کھلے عام جلانے پہ پابندی لگائ جائے اور اس سے توانائ بنائ جائے
– جنگلات کو آگ لگنے سے بچایا جائے
– لائیو سٹاک کے فضلے کو کورڈ سٹوریج میں رکھا جائے اور اس سے توانائ حاصل کی جائے
– نائٹروجن کھادوں کا استعمال صحیح طریقے سے کیا جائے
– سمال انڈسٹری کے اخراج کے الگ سٹینڈرڈ بنائے جائیں
– ریفائنریز کے سالونٹ کا استعمال بہتر بنایا جائے۔
– گاڑیوں کے چیک اور مرمت کی انسپکشن کو سختی سے لاگو کیا جائے۔
– سڑکوں کے ارد گرد فٹ ہاتھ بنائے جائیں تاکہ گرد نہ اڑے
ت: ایس ڈی جیز کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات
– انڈسٹری ، گھریلو استعمال، لائٹنگ، ہیٹنگ کولنگ اور روف ٹاپ سولر انرجی کی کارکردگی کے بہتر سٹینڈرڈ مرتب کئے جائیں۔
– پاور جنریشن کے لئے ونڈ انرجی، سولر اور ہائیڈرو پاور کی حوصلہ افزائ کی جائے
– پلانٹس کو گیس یا رینیوایبل انرجی سے چلایا جائے
– پبلک ٹرانسپورٹ کو عام کیا جائے
– الیکٹریک کاروں کے استعمال کی حوصلہ افزائ کی جائے
– کوڑا کرکٹ کو ایک جگہ یکجا کر کے ترتیب سے علہدہ کیا جائے اور اسکی ٹریٹمنٹ کی جائے۔ اسے کھلے عام جلانے پہ پابندی لگائ جائے
– دھان کو کھلے عام جلانے پہ پابندی لگائ جائے
– ویسٹ سے بائیوگیس حاصل کی جائے
– نیچرل گیس کی دریافت کی جگہوں پہ اسے غیر ضروری نہ جلایا جائے
– ایچ ایف سی پہ کگالی ترمیم پہ مکمل عمل درآمد کیا جائے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ