بریکنگ نیوز

فضائی میزبان اور ھمارے سیاستدان

184401_7225658_updates.jpg

فضائی میزبان اور ہمارے سیاستدان
تحریر عبدالرحمن
جمہوری معاشروں میں عوامی نمائندوں کی زندگی پر بحث، تجزیے اور تنقید سے کسی کو اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ یہ ان چند پیشوں میں سے ہے جو اپنی مرضی سے اپنائے اور چھوڑے جا سکتے ہیں. اگر سمجھیں تو ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں سے ہم نے جمہوریت ادھار لی ان کے ہاں عوامی عہدوں پر فائز نمائندے عوام کو جوابدہ بھی ہوتے ہیں. مملکت خداداد اپنے پیارے پاکستان کی مختصر لیکن بڑی رنگین تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ کچھ نے تو زور خطابت میں اسں پیشے کو عبادت تک کا نام دے دیا ہاں البتہ ادائیگی کے وقت کچھ ضروری کام یاد آ گئے جن کی نوعیت سے قوم آگاہ ہو چکی ہے۔
ذرا دیکھیں تو قائد تحریک لندن میں بیٹھے ہفتے کے سات دنوں میں زیادہ نہیں تو صبح شام کے حساب سے چودہ دفعہ سیاست چھوڑنے کا اعلان کئی دہائیوں سے اس تواتر سے کرتے آ رہے ہیں کہ بعض دفعہ حلقہ یاراں کو تو کیا حضور کو خود بھی یاد نہیں ہوتا کہ وہ ان ہیں یا آوٹ؟ لیکن اپنے پیارے دیس میں جہاں انوکھے رواجوں کا بھی رواج چلا آ رہا ہے! اس کے مطابق کچھ شرفاء جو ووٹ ڈالنے کو تو گالی سمجھتے ہیں لیکن جمہوری نمائندوں کے پوسٹ مارٹم کے حق سے دستبردار ہونے کو قطعا تیار نہیں۔ اسی حق کا استعمال کرتے ہوئے میں ایک معصومانہ سا موازنہ کرنے کی جرات کررہا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے اس موازنے سے دونوں فریقین ہی خوش ہوں گے۔
جب کبھی جہاز میں سفر کرتا ہوں تو میں ائیرہوسٹسز کو بہت غور سے دیکھتا ہوں۔ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ثواب میں اکیلا ہی نہیں کماتا۔ لیکن جب اس کی وجہ بیان کروں گا تو آپ ہی فیصلہ دے دیجیئے گا کہ وہ گھورنے کے جرم سے تو یقینا ذرا مختلف اور مہذب حرکت ہے؛ عرض یہ کہ میں فضائی میزبانوں میں اپنے سیاسی راہنماوں کی ہو بہو جھلک دیکھتا ہوں۔ اگر آپ کا جہازوالیوں کو غور سے دیکھنے پر اعتراض اور شک ختم نہیں ہوا تو مزید صفائی پیش کرتا چلوں۔ مجھے دونوں میں مماثلت شکلوں سے زیادہ عادتوں میں دیکھائی دیتی ہے۔ ویسے بھی سیاستدان سے بھلا شکلوں میں مقابلے کا کوئی کیسے سوچ سکتا ہے؟ یقینا قومی ائیرلائن کی پہچان اور مان، ایسا سوچنے کا خطرہ بھولے سے بھی مول نہیں لیں گی۔
پہلے پہل میرا خیال تھا کہ دونوں کی عادتیں کچھ کچھ ملتی ہیں لیکن جیسے جیسے جمہوریوں سے ملاقاتوں کا شرف ہوا اور جوں جوں جہازی سفر کے مواقع بڑھتے گئے میں قائل ہوتا گیا کہ یہ تو ہو بہو ایک دوسرے کا پر تو ہیں۔ لیکن یاد رہے بات عادتوں تک ہی رہے تو بہتر ہے!
دونوں کا ضرورت کے وقت کا دوستانہ۔
گھڑی میں ماشہ گھڑی میں تولہ۔
وقتی سا ساتھ اور اچانک بچھڑ جانا۔
ایسے حضرات سے معذرت جو ابھی تک فضائی میزبانوں کی مہمانداری سے لطف اندوز نہیں ہوئے اور وہ جن کا خوش قسمتی سے عوامی نمائندوں سے واسطہ نہیں پڑا۔ اس محرومی سے خوشی یا مایوسی ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ لیکن یہ یقینی ہے کہ اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ موازنہ پیش خدمت ہے! جہاز کےدروازے پے کھڑی حسینہ کا زندگی بھر یاد رہ جانے والا استقبال، کیا ایسے ہی نہیں جیسے علاقے کا الیکشندان کچھ وقت کے لیے عام دنوں میں جنہیں ایرے غیرے یا ایسی ہی کوئی چیز سمجھتا ہے ان کے آگے بچھ بچھ جاتا ہے۔
اس سے ذرا سا ہی آگے کھڑی کا مسکراتے ہوئے راستہ دکھانا بالکل ویسے ہی نہیں جیسے الیکشن سے پہلے سیاستدان اسی کی طرح سوائے اپنے، باقی ہر ایک کو تمام سیدھے راستے دکھا کر خود بادلنخواستہ جو الٹے ہوتے ہیں انہیں اپنے لیے رکھ لیتا ہے۔
ایک نازک حسینہ کا، ناراض نہ ہوں جسامت اور ڈیل ڈول جیسی بھی ہو خواتین نازک ہی ہوتی ہیں۔ اس کا ایک آدھ مسافر کا سامان درست کر کے رکھوانا تو اتنا ہی حیران کن ہے جیسے اونچے شملے والے ننگ ڈھرنگ ووٹر کو اٹھا کر گلے لگا لیتے ہیں اور اماں چاچا کہہ کہہ کر بلائیں لیتے ہیں۔
جہاز اڑنے سے پہلے حفاظتی تدابیر بتاتے ہوئے خطرے کے وقت بھاگنے کے راستے دکھاتے ہوئے اپنی باری کے بارے بات نہیں کرتیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے سیاستدان الیکشن کے دنوں میں ہر خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تلقین کرتے تھکتے نہیں۔ لیکن نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی پتلی گلی سے غائب ہو کر اگلے پانچ سال نظر نہیں آتے۔
پھر چائے پانی سے خدمت کرنا، بٹن دبانے پے دوڑے چلے آنا بالکل ویسا تو نہیں لیکن پھر بھی ایسے لگتا ہے جیسے پانچ سالوں میں گنتی کے چند دن قیمے والے نان اور چکن بریانیاں لیے بڑے بڑے قائدین عوام کے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں۔
سب سے بڑھ کر ان دونوں کی دل توڑنے کی عادت میں تھوڑی سی نہیں بلکہ مکمل مماثلت ہے! دونوں کے وقتی عشق کا انجام ہو بہو ایک جیسا ہوتا ہے۔ سفر کے اختتام پے ان کا باجماعت خدا حافظ کہنا اور لاونج میں جاتی ہوئی حسیناوں کا بے رخی سے ایسے منہ موڑ کے گزر جانا جیسے کبھی ملے ہی نہ ہوں۔ بالکل ویسے ہی ہے جیسے منتخب نمائندوں کے ڈیروں پے اور اسلام آباد مارگلہ روڈ کی کوٹھی کے باہر الیکشن کے بعد آئے ووٹر کی صدا پے غراتے ہوئے پہرہ داروں سے دھکے اور ٹھڈے کھا کے اٹھنے سے پہلے اچانک گاڑیوں کے کارواں میں صاحب کا بغیر دیکھے نکل جانا۔
اپنے محبوب قائد کا یوں بے رخی سے اخبار میں منہ چھپا کے گزر جانے کا انداز دیکھ کر فضائی میزبانوں کی منہ موڑنے کی ادا زیادہ بری نہیں لگتی۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ