بریکنگ نیوز

اگلے انتخابات کے خلاف سازش

7412B84F-7102-4F26-AC01-62E344049C08.jpeg

عدنان رندھاوا

اگلے انتخابات کے خلاف سازش

ایک طرف بہت سے باخبر صحافی اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے تو دوسری طرف پاکستانی سیاست کو لگے ستر سالہ روگ کی علامات کو سمجھنے والے حضرات دبے لفظوں میں کبھی کھلے بندوں اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ اگلے انتخابات کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اپنی الوداعی پریس کانفرنس میں دو اہم باتیں کی ہیں جنکا تعلق براہ راست اگلے انتخابات سے ہے۔ ایک انہوں نے کہا کہ جمہوریت سینٹ جیسے انتخابات کی متحمل نہیں ہو سکتی اور دوسرا انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سنسر شپ نہیں چل سکتی۔ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ ان دو خرابیوں کا ذکر کر چکے ہیں۔ یہ دونوں خرابیاں تو ظاہر سے تعلق رکھتی ہیں، جی ہاں اس منصوبے کا ظاہر جسکا اصل مقصد جمہوریت کو کمزور کرنا، کنٹرول کرنا یا پھر سرے سے ہی جمہوریت کا بستر گول کرنا ہے۔ یہ منصوبہ کوئی آج نہیں بنا نہ ہی اس پر آج عمل درآمد شروع ہوا ہے۔ اس قبیح منصوبے کی جڑیں ستر سالہ تاریخ میں جا بجا پھیلی ہوئی ہیں۔

جنرل ایوب پاکستان کا پہلا مقامی کمانڈر انچیف بنا۔ اس سے پہلے دو انگریز جنرل میسروی اور جنرل گریسی پاکستان کے کمانڈر انچیف تھے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھے کہ پہلی مقامی کمانڈر انچیف کی حیثیت سے جنرل ایوب ووٹ کی طاقت کے ساتھ وجود میں آنے والے پاکستان کی سیاسی قیادت کے آگے سر تسلیم خم کرتا اور سیاسی قیادت کو اہم ملکی معاملات سیاسی افہام و تفہیم سے حل کرنے میں مدد کرتا لیکن اسکے طالع آزمائی کے عزائم نے ملکی کی سیاست اور اسکے جمہوری خدوخال کو پردے کے پیچھے سے کھوکلا کرنا شروع کر دیا۔ اس وقت سےایک ایسی غیر رسمی پالیسی کی بنیاد پڑی جو بدقسمتی سے ابھی تک پاکستانی سیاست کو کھوکھلا کر رہی ہے، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ اب ادارہ جاتی تحت الشعور کا حصہ بن چکی ہے۔ وہ پالسی یہ ہے کہ ظاہری طور پر آئین، قانون، جمہوریت، ملک کی سلامتی کا بھرم بھرو لیکن عملی طور پر ایسے تمام اقدامات اٹھائو جوطالع آزمائی کے مقاصد میں ممدو معاون ہوں خواہ وہ جمہوریت، اپنے حلف، آئین، قانون، سیاسی استحکام اور نتیجتا ملکی سلامتی کیلئے کتنے ہی تباہ کن کیوں نہ ہوں۔ سو اسی غیر رسمی پالیسی نے پاکستانی سیاست میں ایک سازش کے کلچر کی بنیاد رکھی اور ہر آنے والے مارشل لا اور مارشل لا کے بعد پردے کے پیچھے سازشوں کی پالیسی کے ساتھ ساتھ یہ کلچر مزید پروان چڑھتا گیا۔

خوش قسمتی یہ ہوئی کہ پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک، قوم پرست پارٹیوں، ادیبوں اور شاعروں، اہلِ صحافت اور اہل سیاست کی مشترکہ خونی مزاحمت کے نتیجے میں ہم عراق اور لیبیا جیسے مستقل آمریت کے انجام سے محفوظ رہے لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ سازش کا کلچر بحرحال برقرار رہا۔ جنرل ایوب کی طالع آزمائی کی وجہ سے پاکستان کے سیاسی استحکام کو دو نقصان پہنچے۔ ایک تو ادارے میں غلط سوچ اور کلچر پروان چڑھا اور دوسرا ایوب خان کے کسی قسم کی سزا سے بچ جانے کی وجہ سے حلف، آئین اور قانون توڑنے پر سزا کا خوف جاتا رہا۔ سو بلی چوہے کا ایک کھیل ستر سال سے جاری ہے۔ جب تباہ کن پالیسیوں کے تباہ کن نتائج کی وجہ سے عوامی غیظ و غضب اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ کنٹرول سے باہر ہو جائے تو پردہ گر جاتا ہے۔ وہی سازشیں جو ڈنڈے کے زور پر کھلے عام کی جاتی ہیں، پھر پردے کے پیچھے سے شروع ہو جاتی ہے حتی کہ سیاسی عدم استحکام اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ پھر جمہوریت کو ایک دفعہ پھر بے توقیر کرنے کا بہانہ مل جاتا ہے۔ پراکسی سیاستدان، پراکسی صحافی، دھاندلی اورسنسر شپ اس سازش کے اہم ہتھیار ہوتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے الوداعی پریس کانفرنس میں صرف دو ہتھیاروں کا ذکر کیا ہے۔

پچھلے دس سالوں میں دو جمہوری حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی ہے۔ نواز شریف نے چند روز پہلے بیان دیا کہ جسطرح انہوں نے جمہوری حکومت کی مدت پوری کی کسی اور کو نہ کرنی پڑے۔ دھرنے، لاک ڈائون، ٹی وی چینلوں کی بندش، اخباروں پر پابندی، کالم نگاروں پر پابندی جیسے حربے پچھلی جمہوریت حکومت کیلئے دردِ سر بنے رہے۔ ن لیگ کی حکومت کو رسوا کرنے کیلئے جو مقدمے بنائے گئے، ان میں جس طرح سے فیصلے ہوئے اور جس طریقےسے مقدمات کی کارروائی چلائی گئی، ملک کے اندر تو کیا بین الاقوامی سطح پر بھی ہمارے نظام عدل پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ لیکن سازشیں کرنے والے ان سارے حربوں کے باوجود بھی اگلے انتخابات کے نتائج کے بارے میں خوف کا شکار ہیں۔ ان سارے حربوں کے ذریعے نواز شریف کو تا حیات نااہل کر کے جگ ہنسائی کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے لیکن جب وہی تا حیات نااہلی کی تلوار مہروں کے سر پر لٹکنے لگی، تو اس کا خاتمہ ضروری ہو گیا۔ خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کے خاتمے کی آڑ میں اب تمام مہروں کو بچا لیا جائے گا۔

جس طرح سینیٹ کے انتخابات میں دھاندلی کرنے کیلئے پہلے بلوچستان اسمبلی میں شرمناک کھیل کھیلا گیا، اسی طرح بلوچستان اسمبلی میں انہی کرداروں کے ذریعے انتخابات کے التوا کی قرارد سے اگلے انتخابات کیخلاف کی جانے والی سازش کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کمال حسنِ اتفاق سے تحریک انصاف جو پچھلی حکومت کے خلاف سازش کا مستقل حصہ رہی، کی جانب سےعبوری وزراعلی کے ناموں پر اتفاق کے بعد یو ٹرن اور پھر پرویز خٹک کی طرف سے فاٹا کے ساتھ انتخابات کرانے کے بہانے انتخابات کے التوا کا مطالبہ سامنے آنے سے اب یہ بات تقریبا واضح ہو چکی ہے کہ جمہوریت کے خلاف ستر سالوں سے سازش کرنے والی سوچ اگلے انتخابات کے خلاف متحرک ہو چکی ہے۔ سارے مہرے حرکت میں آ چکے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے اگلے انتخابات میں جیتنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ اسی لئے مسلم لیگ ن انتخابات میں التوا کے بارے میں بہت سخت موقف اپنا چکی ہے۔ مسلم لیگ ن کا وہ دھڑا جو نواز شریف اور مریم نواز کی سوچ سے متفق ہے، سازش کرنے والوں کو کھلا چیلنج دے رہا ہے۔ جب سے نواز شریف کو ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا اور جس طرح پچھلے کئی مہینے سے انکے اور مریم نواز کے خلاف کینگرو مقدموں کی طرز کامقدمہ چلایا جا رہا ہے، اسکی وجہ سے سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال مسلسل جاری ہے جسکی وجہ سے معیشت کا بھرکس نکل چکا ہے، پانی کی قلت کا مسئلہ زندگی موت کا مسئلہ بن چکا ہے، ملکی صورتحال مسلسل روبہ زوال ہونے کی وجہ سے قومی سلامتی اور ملکی دفاع خطرے میں ہے۔ لیکن ان سارے خطرات کے باوجود اگلے انتخابات کے خلاف سازش جاری وساری ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ