بریکنگ نیوز

صدر ٹرمپ مودی اور ماموں نواز کے گھوڑے

184102_4731236_updates.jpg

صدر ٹرمپ، پردھان منتری مودی اور ماموں نواز کے گھوڑے
تحریر عبدالرحمن
زیادہ پرانی بات نہیں جب ملکی اور بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیات کے درشن قسمت والوں کو بھی کبھی کبھار ہی ہوتے تھے۔ جب کہ عوام کا ان کے بارے علم اتنا اور ویسا ہی ہوتا جتنا اورجیسا صاحب لوگ خود یا ان کے حاشیہ بردار چاہتے۔ ظاہر سی بات ہے ایسی صورت میں سب اچھا ہی ہوتا۔ لیکن نئے دور میں رابطوں کے ذرائع میں طوفانی رفتار کی ترقی سے جنم لینے والی روایات کے مطابق شہرت کے غلام بڑے لوگوں کا اب عام لوگوں سے 7 / 24 کا تعلق ان کی مجبوری بن گئی ہے۔ وہ کیا کھاتے ہیں، کیسا پہنتے ہیں اور کہاں اور کس کس کے پاس جاتے ہیں؟ یہاں تک کہ اندرون خانہ معاملات تک کو اب سنی سنائی کے بجائے روزانہ اپنی آنکھوں سے، اگر یہ کہا جائے کہ لائیو دیکھا جا سکتا ہے تو بھی غلط نہ ہوگا۔ ذرائع ابلاغ سے معلومات کے نہ رکنے والے سیلاب اور اس کی حکومتوں اور بادشاہوں تک پہنچ جیسے اثرورسوخ نے دونوں کے درمیان تعلق اور رابطے کے انداز، طور طریقے، اصول و ضوابط اور معیار بدل کے رکھ دیے ہیں۔ وہ اصول اب ماضی کا قصہ ہو گئے جب کسی کا اچھا یا برا، جیسا بھی تاثر ایک دفعہ بن جاتا، پھر اس میں تبدیلی اگر ناممکن نہیں تو یقینا مشکل تھی۔ لیکن ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں قومی اور بین الاقوامی شخصیات سے متعلق لوگوں کے تاثرات سیم سنگ اور آئی فون کے ماڈلوں سے بھی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔
نئے زمانے کی اس بہت بڑی آزمائش سے نمٹنے کے لیے اور ان داتوں کو دیوتا ثابت کرنے کے لیے ایک نیا پیشہ وجود میں آ گیا۔ بے حساب دولت کی ہوس نے بڑے باصلاحیت لوگوں کو اس فن کی طرف مائل کیا۔ جس کی وجہ سے ایسی شخصیات جو ان کی اجرت ادا کر سکتی ہیں ان کے عوام میں تاثر کو مثبت رکھنے کے لیے اس فن کے کرشمہ ساز کچھ بھی کر سکتے ہیں؛ ٹرمپ جیسی شخصیت کو امریکہ کا صدر بنوا کر اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ میلینیا ابھی تک اس کے الیکشن جیتنے کے اعلان کی بے یقینی میں چٹکیاں کاٹتی پھرتی ہے۔ جب کہ لوگ اتنی وضع دار عورت کو جس نے خاتون اول کی سیرت کا بہت اعلی معیار قائم کر کے نئی روایات کا آغاز کیا ہے نک چڑی کہہ کر اپنے دقیانوسی ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔
لیکن بے شک یہ جدید دور کی نئی حقیقت ہے جس سے انکار کرنامناسب نہیں لیکن صدیوں کے آزمائے ہوئے علم سے انکار بھی گمراہ کن نتائج کا موجب بن سکت ہے۔ جس کے مطابق چاہے کوئی کتنا ہی باصلاحیت فنکار ہو اور جتنے مرضی پیسے خرچ لے اصلیت چھپائے نہیں چھپتی۔ ذرا مودی صاحب کو دیکھیں ایسی فلمی دنیا کے ملک کا پرائم منسٹر ہے جس نے شاہ رخ خان جو پانچ فٹ ساڑھے پانچ انچ سے ذرا سا ہی اونچا ہے آج تک پتا نہیں چلنے دیا کہ وہ چھوٹے قد کا ہے۔ ان کے ماہرین نے مودی جی کے کیس میں ناکام ہو کر اپنی کتابیں گنگا برد کر دی ہیں۔ کیونکہ وہ بے چارہ عادت کا مارا جب کسی گوری عورت کو دیکھتا ہے۔ چاہے وہ پھوپھی انجیلا مارکل ہی کیوں نہ ہو چھٹ کلاوہ بھرنے کو دوڑتا ہے۔ بالکل ویسے ہی ٹرمپ بھی ہر بیرونی دورے پر میلینیا سے جہاز کی سیڑھی پر ہی دو تین کہنیاں کھا کر بھی سدھرنے سے انکاری ہے اور صدیوں پرانے علم کی سچائی ثابت کرنے پے تلا ہوا ہے کہ لاکھ ڈرامے بازی کر لو اصلیت چھپائے نہیں چھپتی۔ مجھے اس پر پہلے بھی شک نہیں تھا لیکن ان حضرات کو دیکھ کر یقین اور پختہ ہوا ہے۔ کیونکہ اس فن میں آئی جدت اور بین الاقوامی مقبولیت سے بہت پہلے ماموں نواز نے بڑا نام اور بڑی رقمیں بنائیں۔ قصہ یوں ہے کہ نواز صاحب کے گھوڑوں کے بارے میں مشہور تھا کہ سوار کا قد چاہےکتنا ہی ہو وہ اپنا سر اس سے اونچا رکھتے تھے اور ان کی رفتار، انداز اور نخروں کے بڑے چرچے تھے۔ شوقین دیکھتے اور منہ مانگی قیمت ادا کرتے کیونکہ جب وہ گھوڑے پرکھتے تو ظاہر ہے چند سو گز ہی سواری کرتے۔ گھوڑے سکھائے ہوئے انداز میں بڑے بڑے ماہر سواروں کو بھی گرویدہ کر لیتے۔ لیکن جب کہیں لمبی دوڑ میں جاتے تو اصلیت سامنے آ جاتی اور نامی گرامی سوار شناخت میں ناکام ہونے کی بدنامی سے بچنے کے لیے چپ سادھ کر یا کوئی بہانہ گھڑ کر عزت بچاتے۔ ماموں بھی اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھتے کیونکہ وہ بیچتے ہوئے صرف انداز اور رفتار کی گارنٹی دیتے، لمبی دوڑ میں کیا گل کھلائیں گے اس کا کبھی بھولے سے بھی ذکر نہ کرتے۔ یوں بہت کم عرصے میں عام نسل کے گھوڑوں پے تھوڑی سی محنت سے ماموں نے کئی نامی گرامی شہسواروں کو ماموں بنایا۔
ہم بھی ظاہری شان، قد کاٹھ اور چھوٹی سچی خاندانیت کے معیار پر قیادت کے گھوڑوں کا انتخاب کر کے جگ ہنسائی کا نشانہ بنتے چلے آ رہے ہیں۔ چلو اپنے تجربے سے سبق نہیں سیکھا تو اب ٹرمپ اور مودی کو دیکھ کر ہی عبرت حاصل کرلیں۔ انتخابات کے موسم کی ہلڑبازی میں خدشہ ہے کہیں ماموں نواز جیسے کرشمہ ساز اور شعبدہ باز پھر ہمیں ایسا گھوڑا نہ بیچ جائیں جو چند سو گز کے بعد دم پچھلی اور سر اگلی ٹانگوں میں دبا کر کہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہ چھوڑے۔ عرض یہ ہے کہ اتنے عرصے سے دھوکے کھاتے آ رہے ہیں اور پھر بھی ماموں کے فن کے سامنے بے بس ہیں تو کم ازکم جنہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ گھوڑے نہیں ٹٹو ہیں ان سے تو جان چھڑا لیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ