بریکنگ نیوز

ڈاکٹر سعید کون ھیں

IMG_20180605_001614.jpg

چیف جسٹس ثاقب نثار کے ہاتھوں بے عزت ہونے والے ڈاکٹر سعید کہاں سے آئے؟؟؟
ڈاکٹر سعید آخر کون ھے؟؟؟
ان کی کیا کوالیفیکیشن ہے ؟؟؟

پاکستان کے پہلے کڈنی سینٹر کے روح روا ڈاکٹر سعید اختر کی کیا کوالیفیکیشن ہے ڈاکٹر صاحب کتنی تنخوا لیتےہیں؟ یہ سوال آج ہر پاکستانی کی زبان پر ہے

ہم نے تحقیق کی تو ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ڈاکٹر صاحب پچھلے 30 سال سے امریکہ میں مقیم رہے وہیں پر تعلیم حاصل کی اور ساتھ ہی وہیں پر پریکٹس

ڈاکٹر سعید اختر ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز سیکٹر (ٹیکساس امریکہ) کے سربراہ رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف مینیسوٹا امریکہ کے ٹرانسپلانٹ سرجری ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر رہے ہیں۔

شفا انٹرنیشنل پاکستان میں یورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈین رہے ہیں۔

اپنے شعبے میں اعلی عالمی یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہونے کے علاوہ YALE نیویارک سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کر رکھا ہے جس سے انہیں عوامی صحت کے منصوبے بنانے اور چلانے کی آگہی ہے۔

دنیا بھر سے پچاس کے قریب ایوارڈ وصول کر چکے ہیں۔

چالیس کے قریب ریسرچ آرٹیکلز لکھ چکے ہیں۔

امریکہ میں ڈاکٹر سعید اختر کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اُن کی خدمات کو سراہاجاتاہے

ڈاکٹر سعید اختر دنیاگھومنے کے انتہائی شوق رکھتےتھے انہوں نے اپنےدوپرائیویٹ جہاز امریکہ میں ذاتی استعمال کے لئے رکھے ہوئے تھے وہ سال کے تین ماہ صرف دنیا کے مختلف ملکوں میں گھومنے پھرنے جایا کرتےتھے۔

ڈاکٹر سعید پاکستان آئےتو ان کے دل میں پاکستانیت زندہ ہوگئی موصوف نے فیصلہ کیا کہ اب عمر کے آخری حصہ میں ہو کیوں نہ اب پاکستان کو کچھ لوٹایا جائے اور یہاں غریبوں کے لئے کچھ کیا جائے

ڈاکٹر سعید آج سے کچھ کچھ ۸ سال پہلے پاکستان آئے اور یہاں الشفاء انٹرنیشل کو جوائن کیا اور ساتھ ہی الشفاء انٹرنیشل ہسپتال سےدرخواست کی کےانہیں ۵ بیڈ کرائے پر دیئے جائےتاکہ وہ غریبوں کا مفت علاج کرسکیں الشفاء انٹرنیشنل کی انتظامیہ نے اُن کی درخواست قبول کرلی

ڈاکٹر سعید نے الشفاء انٹرنیشنل میں غریب لوگوں کا مفت علاج شروع کردیااور یہ علاج بھی بلکل فری شروع کیا روم سے لیکر دواؤں تک تمام کے تمام اخراجات ڈاکٹر صاحب نے خود اُٹھانا شروع کردیئے تقریباً ۵ غریب لوگوں کی خدمت کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب کے زہن میں ایک خیال آیا کے کیوں نہ ہم اپنا ہسپتال بنائے اور اس کے لئے ڈاکٹر سعید صاحب امریکہ گئے وہاں اپنے دوستوں سے اپنے خیالات کو شیئر کیا تو تمام لوگوں نے اُن کو مدد دینے کی حامی بھرلی ڈاکٹر سعید پاکستان آئے تو انہوں نے دیکھا کے پنجاب حکومت میڈیکل سٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے ڈاکٹر سعید نے فیصلہ کیا کے پنجاب کے درد دل رکھنے والے وزیراعلٰی تک اپروچ کی جائے انہوں نے بڑی مشکل سے تگ ودو کرکےشہباز شریف تک اپروچ کی پہلے تو ان کے دل میں یہی تھا کے سیاسی لوگ بات تو سنتے ہے لیکن دلاسہ دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے اُن کی جیسے ہی شہباز شریف سے ملاقات ہوئی تو شہباز شریف نے اُن کی بات سن کر کہا آپ مجھے اپنے منصوبے کی مکمل پریزنٹیشن دیں اور ایک ہفتہ کے اندر اندر دیں میں پنجاب حکومت آپ کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتی ہے ڈاکٹر سعید نے کہا یہ ہسپتال سرکاری حیثیت میں ہم نہیں چلانا چاہتے بلکہ ہم اِسے عوام سے فنڈنگ لیکر چلائے گے آپ ہمیں صرف زمین دیں شہباز شریف نے کہا ڈاکٹر سعید صاحب آپ کو منصوبہ پیش کررہے ہے اس کے لئے آپ کو کم از کم ۱۵ سے ۲۰ سال لگ جائے گے ہم چاہتے ہے یہ کام دو سال کے اندر اندر ہو کیوں کے سالانہ ۳۰۰ افراد پاکستان سے انڈیا علاج کرنے کے لئے جاتے ہے جو اربوں روپے سالانہ بنتے ہے اور یہ علاج پاکستان کی غریب عوام برداشت نہیں کرسکتی ڈاکٹر سعید یہ بات سُن کر حیران ہوگئے کے میں تو صرف اپنے خیالات اور اپنا خواب شیئر کرنے گیا تھا یہاں تو مجھے خواب کی تعبیر نظر آگئی

ڈاکٹر سعید اختر شہباز شریف سےملاقات کے بعد جیسے ہی واپس آئے تو ان کو پریزنٹیشن کی فکر لگ گئی کے ایک ہفتہ کے اندر کیسے اس تمام کام کو انجام دیا جائے ڈاکٹر سعید نے اپنی بیگم جو خود بھی ڈاکٹر ہے اور اپنے دوستوں سے مدد لیکر اس پریزنٹیشن کے کام کو ایک ہفتہ میں مکمل کردیا

شہباز شریف سے ملاقات پہلے سے طے تھی جیسے ہی ڈاکٹر سعید نے پریزنٹیشن دی شہباز شریف نے پوچھا کے اس منصوبے پر کل اخراجات کتنے آئے گے تو ڈاکٹر سعید نے کہا کہ تقریباً ۲۰ ارب ہم پہلے مرحلے کے لئے ہمیں پانچ سے سات ارب کی ضرورت ہوگی شہباز شریف نے کہا کام شروع ہونے کے کتنے عرصہ بعد آپ پہلے یونٹ میں کام شروع کردیں گے تو ڈاکٹر سعید نے کہا کہ تقریباً تین سال شہباز شریف نے کہا ایک سال کے اندر کیوں نہیں ڈاکٹر سعید یہ بات سن کر پریشان ہوگئے کہ ایک سال میں کس طرح ممکن ہے شہباز شریف کے ساتھ بیٹھے سیکرٹری ہیلتھ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا شہباز اسپیڈ سے تمام معاملات بے ہونے کے بعد ڈاکٹر سعید نے شرائط رکھی کے ہسپتال میں حکومت کی کوئی مداخلت نہیں ہوگی پنجاب حکومت ہمیں اسٹرکچر تعمیر کرکے دیں گی ساتھ آپ پہلے تین سال کے اخراجات اُٹھائے گی تمام 36 اضلاع میں سینٹربنائےجائیں گے کالج اور یونیورسٹی میں بھی پنجاب حکومت کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی آئندہ تین سال کے بعد ہسپتال اپنے اخراجات خود اُٹھائے گی یہ تمام باتیں سننے کے بعد شہباز شریف نے کہا کے مجھے ایک گارنٹی چاہئے ہسپتال میں کوئی بھی مریض بغیر علاج کے پیسوں کی وجہ سے واپس نہیں کیا جائے گا ان تمام باتوں پر آمین ہونے کے بعد پنجاب حکومت نے اپنے تمام ٹیموں کو ایکٹیو کیا اور جو کام ۳ سالوں میں ہونا تھا وہ ایک سال کے اندر مکمل ہوگیا اور اس طرح پاکستان کے اندر پہلے کڈنی اور جگر کی پیوند کاری کا پہلا ادارہ وجود میں آگیا اور اِک خواب خیال حقیقت کا روپ دھار گیا

آخر میں ذکر مافیاکا

پاکستان کڈنی اینڈ لیور سینٹر کے بننے کے پاکستان میں ایک مافیا سرگرم ہوگیا لازمی بات ہے جب آپ کسی کو مالی نقصان پہنچائیں گے تو مافیا کیوں کر خاموش بیٹھے گا اس سینٹر کے خلاف کئی ماہ سے ایک مافیا سرگرم ہوچکا ہے جو کسی صورت اس سینٹر کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتا کیوں کہ یہ مافیا ۱۰ سے بارہ لاکھ روپے صرف اس علاج کے لئے انڈیا بھیجنے والے مریضوں سے کمیشن کی صورت میں وصول کرتے تھے اور فی مریض اخراجات تقریناً ۵۰ سے ۷۰ لاکھ روپے تک تھے تو پھر آپ خود ہی سوچیئےمافیا کیوں کر خاموش رہے اس ہسپتال میں تنخوائیں دوسرے ہسپتالوں سے ۲سے ۳ گنا زیادہ ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ کے کوئی بھی ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرسکتا ڈاکٹری شعبہ کی معلومات رکھنے والے افراد خوب جانتے ہے کے ڈیڑھ سے دو لاکھ سرکاری تنخواں لینے والے ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس میں اس سے کئی گنا زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر سعید سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سوال کیا کے آپ کس باغ کی مولی ہے جو 12 لاکھ تنخواہ لیتےہو معروف صحافی عمر چیمہ نے کیا خوب کہا کاش کے ڈاکٹر سعید صاحب چیف جسٹس سے پوچھتے کے چیف صاحب آپ بی اے ایل ایل بی کرنے کے بعد آج اس کرسی پر بیٹھ کتنی تنخواہ اور مراعات وصول کرتے ہے تو بات یہی ختم ہوجاتی لیکن افسوس کوئی بھی شریف آدمی عدالت میں کھڑے ہوکر یہ سوال نہیں کرسکتا کہی توہین عدالت نہ ہوجائے۔

‏شفا انٹرنیشنل میں بیٹھے اسی شعبہ کے ڈاکٹر 40 سے 45 لاکھ ماہانہ کما رہے ہیں لیکن غریبوں کیلیئے قائم کئے گئے ہسپتال میں 12 لاکھ کی تنخواہ پر رکھا ہوا عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر کی تضحیک کرنے پر سرخ سلام

‏⁦‪#RESPECT_DR_SAEEED‬⁩

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ