بریکنگ نیوز

خود ساختہ قیادت

185015_8588550_updates.jpg

خود ساختہ قیادت
تحریر عبدالرحمن
جرمنی دیکھنے سے پہلے مغربی تہذیب سے واقفیت صرف فلموں میں دیکھے حالات و واقعات کی حد تک تھی۔ جس کے انتہائی محدود ہونے کا احساس فرینکفرٹ ائیرپورٹ پر اترتے ہی ہو گیا؛ ہم جو پورا سال جرمن زبان ایسے ماہر اساتذہ سے سیکھ کر گئے, جو نکاح نامے سے لیکر آبدوزوں کی تکنیکی ہدایات تک کا ترجمہ کرنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ ہمارے استاد جنہوں نے جرمنوں سے اور کچھ سیکھا یا نہیں اپنی سمجھ کے مطابق انہیں ڈسپلن کے سب سبق زبانی یاد تھے اور نمل یونیورسٹی کے آزاد ماحول میں بھی جرمن کلاس کو جیل بنائے رکھنا اس کا بہترین ثبوت تھا۔ وہ تو بھلا ہو فرانسیسی کلاس کا جس کا دروازہ ہمارے بلاک کے سامنے تھا اور گاہے بگاہے فرنچ خوشبووں سے لدے ہوا کے جھونکے ہمارے پھس پھسے ماحول کو بھی معطر کر جاتے۔ جس میں گنتی کی تین، وہ بھی شادی شدہ خواتین جو ویزے کی شرائط پوری کرنے کے لیے زبان سیکھنے کی مشقت کاٹ رہی تھیں ۔ ورنہ ہم قسمت کے دھنی نمل کی آزاد فضاوں میں بھی سال کی قید با مشقت کاٹ کر فارغ التحصیل ہوتے۔ ائیرپورٹ پر چھوٹا بڑا، مرد عورت، جسے دیکھا ایک ہی لفظ؛ کک مال، کک مال بولتا نظر آیا۔ ایسا لفظ جس کا ہماری کلاس میں ان صاحب نے بھی کبھی ذکر نہ کیا جو جرمنی میں ریڈیو پر کئی سال اردو پروگرام کرنے کا تجربہ روزانہ یاد دلاتے۔ اجنبی ملک کے ماحول میں پہلے دن کک مال کو میں کک مار سمجھ کے ہر کسی سے بدکتا رہا۔
پاکستان سے سوٹ کیسوں کے ساتھ چوری کا ڈر بھی ساتھ چلا گیا اس لیے کچھ دیر خواہ مخواہ ان کی حفاظت کرتے کرتے تھک گئے تو ائیرپورٹ گھومنے نکل پڑے۔ اللہ جانتا ہے ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن پہلے موڑ پر ہی لا علمی میں ایک ایسی دوکان میں جا گھسے جو سامان دیکھ کے یقین ہوگیا انتہائی غیر شرعی اور واہیات تھی۔ باہر سے اس کا اندازہ نہ ہوسکا کیونکہ کاونٹر پر بیٹھی خاتون شکل سے بڑی مہذب دکھائی دی رہی تھی۔ تجسس اندر کھینچ لے گیا لباس اور شکل وصورت سے امیر اور ایک آدھ پروفیسر نما گاہک کو کچھ عجیب و غریب ایجادات، جو دیکھنے میں ہی انتہائی غیر شریفانہ تھیں ان کی چھان بین کرتے دیکھ کر مجھ سے اپنی بد تہذیبی چھپائی نہ جاسکی اور بے اختیار ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ کر فرش پر بیٹھ گیا۔ لیکن آفرین جرمن اقدار پر، کسی نے مجھے نہ تو وہاں سے بھاگ جانے کو کہا، نہ ہی اتا پتا اور ذات برادری پوچھی۔ ان کے بجائے میرا دوست شرمندگی میں مجھے باہر کھینچ لایا اور کافی دیر تک سمجھتا رہا کہ ایسی جگہوں پر یوں نہیں ہنستے یہ تہذیبی اقدار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ دل تو چاہا کہ اسے کہوں کہ اندر جو کچھ تھا کیا اسے ہی تہذیب کہتے ہیں لیکن مجبورا چپ رہا۔ میں اس کی مغربی دنیا کے بارے میں جان پہچان سے پہلے ہی بہت متاثر تھا۔ اس نصیحت کے بعد تو پکا فیصلہ کرلیا کہ جرمنی میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس سے پوچھ لوں گا۔ لیکن میرا تاثر بہت جلد غلط ثابت ہوا اور سمجھ گیا کہ اس کا علم بھی فلموں تک ہی محدود تھا۔
جرمن ٹیکنالوجی سے تو پہلے ہی بہت متاثر تھے۔ لیکن 1996 میں جب ابھی بجلی کی کار کا سنا بھی نہیں تھا ائیرپورٹ پر اسے چلاتے ہوئے ایک سنہری بالوں والی لڑکی میرے گھورنے پے یہ سمجھ کے اخلاقا مسکرائی کہ شاید میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ میں نے سادگی میں جلدی سے اسے اشارہ کیا کہ میں اسے نہیں اس کی کار کو دیکھ رہا ہوں۔ پتا نہیں اب کی بار دوست نے کوئی نصیحت مناسب کیوں نہ سمجھی؟ میرے رویے میں ایسی کوئی انہونی بھی نہیں تھی بھلا جب کوئی لاہور کے اس ائیرپورٹ سے جہاز میں سوار ہو جو ایک خستہ حال شیڈ جس میں لائٹوں سے زیادہ کبوتروں کے گھونسلے لٹک رہے تھے، سیدھا فرینکفرٹ جا اترے تو اتنی بدحواسی تو جائز بنتی ہی ہے۔ اگرچہ ہم پے جرمنی کے قیام کے دوران زیادہ وقت بد حواسی ہی طاری رہی لیکن حد اس وقت ہوئی جب پہلی دفعہ سامان کی وہ ٹرالی دھکیلنا پڑی جس کا ہینڈل چھوڑنے پے خود بخود بریک لگ جاتی۔ اس ٹرالی نے میرے شہری دوست کے ساتھ جو کیا اگر ایسا میرے ساتھ ہوتا تو وہ بقیہ زندگی مجھے پینڈو ہونے کے طعنے دیتا رہتا۔ صاحب نے ٹرالی پے سامان رکھا اور آگے لگ گئے۔ حضرت ویسے بھی ہمیشہ اعتماد کی پڑیا جیب میں لیے پھرتے تھے اور ٹرالی کی بریک کو سمجھے بغیر قیادت سنبھال لی۔ قسمت خراب سامنے کئی سو میٹر لمبا برقی زینہ آیا جس پر بیک وقت بہت سے لوگ چڑھ سکتے تھے۔ جناب آگے اور ہم پیچھے۔ ادھر ادھر دیکھنے کو بہت کچھ تھا اس لیے نظاروں میں ایسے گم ہوے کہ اچانک زور کا دھکا لگا تو زیادہ برا نہ لگا۔ ایسے ہوش ربا نظاروں کے لیے ایسے کئی دھکے قبول۔ اصل ماجرا تب سمجھے جب جرمن اور پتا نہیں کس کس زبان میں بھین دی سری جیسی قصیدے سنے۔ اندازہ ہوا کہ دھماکا ہمارے قائد جس نے قومی قائدین کی طرح یہ جاننا مناسب ہی نہ سمجھا کہ بریک کب لگانی اور کب چھوڑنی ہے۔ جب آخری سیڑھی پے پہنچا تو ٹرالی کے ہینڈل کے بجائے نظاروں میں گم ایک ہاتھ جیب میں اور دوسرا کہیں اور دبائے رکھا اور بریک لگی رہ جانے سے آخری سیڑھی پے ٹرالی پھنس گئی۔ چیخ و پکار سن کے سامنے سے کسی نے ٹرالی پکڑ کر اسے دور پھینکا اور ہم اس عذاب سے گھٹنوں سے نیچے کئی زخم سجا کے نکل آئے۔ میرا تو وہ اکیلا دوست تھا لیکن باقیوں نے سات آٹھ مہینے سوائے کسی جگہ پیسے دینے کے موقع کے، اسے دوبارہ کہیں آگے نہ لگنے دیا۔ اس کے باوجود کہ ہماری تو قومی پہچان ہے کہ جو جتنے زیادہ دھکے کھلوائے قیادت بار بار اسے ہی سونپتے ہیں۔
کچھ عرصہ جرمنی میں گزارنے کے بعد جب معلوم ہوا کی برقی زینوں پے ایسے ہی لیڈروں کے کرتوتوں سے بچنے کے لیے ہنگامی بریکیں لگی ہوتی ہیں۔ تو اس حادثے سے معصوم سا اطمینان بھی ہوا کہ میرا دوست اور ہم تو چلو پاکستانی تھے لیکن اس زینے پے سوارکئی سو گوروں میں سے بھی کسی نے بریک کیوں نہ لگائی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ انہیں بھی سمجھ نہیں تھی ہضم نہ ہوا۔ مجھے رہ رہ کے خیال آتا کہ زخمی تو صرف ہم ہوئے کسی جرمن نے تو شکایت بھی نہ کی۔ اس لیے غالب امکان ہے انہوں نے اپنا بندوبست کر کے ہمیں سبق سکھانے کے لیے بریک نہ لگائی۔ میرے خیال میں یقینا انہیں علم تھا کہ ہم کسی سے سبق سیکھنے کو بے عزتی کے برابر تولتے ہیں اس لیے جب تک خود سٹ نہیں گھائیں گے کچھ سمجھیں گے نہیں۔
خواتین و حضرات ذرا دھیان سے، اپنے دیس میں تو ہنگامی بریکیں بھی نہیں ہیں۔ اس لیے بہتر ہوگا قیادت سوچ سمجھ کر اور خود ٹھوک بجا کر چنیں۔ سنی سنائی پے یقین کیا تو نظارے تو ہوں نہ ہوں دھکے ضرور ہمارا مقدر بن رہیں گے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ