بریکنگ نیوز

بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

akaas-2.jpg

تحریر :عامر شہزاد
پنجاب کے ایک پسماندہ علاقے میں دو انتہائی غریب عیسائی لڑکوں کی محلے کے مسلمان لڑکوں سے مذہبی بحث کے دوران تکرار ہوئی جو بعد میں لڑائی اورپھر توہین رسالتﷺ پر ختم ہوئی ۔ بات علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی، حسب دستور توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤکے ساتھ پرتشدد واقعات سے آہستہ آہستہ پورا صوبہ سراپہ احتجاج بن گیا ۔اہل علاقہ نے ان لڑکوں کو پکڑا ،ہر کوئی دونوں لڑکوں کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ لڑکے توہین رسالتﷺ کے مرتکب تھے یا نہیں مگریہ خبر جب انٹرنیشنل میڈیا پر پہنچی تو دنیا کے آدھے سے زیادہ مسیحی ممالک ان کی وکالت اور تحفظ کے لئے سرگرم ہوگئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے پورے خاندان سمیت ایک یورپی ملک میں ’’باحفاظت‘‘پہنچا دئے گئے ۔ اسی طرح ایک کمسن لڑکی ریمشا مسیحی کا کیس زیادہ پرانا نہیں ۔ریمشا پر بھی توہین مذہب کا الزام تھا،اسے بھی دو کرسچن لڑکوں کی طرح بیرون ملک بھیج دیا گیا۔ صرف مذہب کے نام پردنیاکے ترقی یافتہ ممالک پاکستان میں کمتر حیثیت والے اقلیتی افراد کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں توصدیوں دنیا پر راج کرنے والے ہم مسلمانوں کو جانور سے کمتر درجہ دینے والے ترقی یافتہ ممالک کے آگے امت مسلمہ کے حکمران آج اس لئے چپ ہیں کیونکہ وہ اپنے رہبر اعظم محمد مصطفیﷺ کو چھوڑ کر پاونڈ ،ڈالر اور ین کی خاطر یورپ امریکا اور چین کو اپنا رہبر مان چکے ہیں۔ جب تک حرم کی پاسبانی کی نیت لے کر مسلمان نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر تک متحد نہیں ہوتے ، اس وقت تک اغیار کی غلامی ہماری آزادی کو منہ چڑھاتی رہے گی۔
نبی برحق ﷺ کی ایک حدیث کا خلاصہ ہے کہ’’ مجھے اپنی امت کے بارے میں اس بات کی ہر گز فکر نہیں کہ وہ کسی ستارے،بت یا انسان کی پرستش کرے گی بلکہ اس بات کی فکر ہے کہ وہ مال و دولت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کو قتل کرے گی، فساد برپا کرے گی‘‘۔ دولت کی لالچ میں کیا آج ہم اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی لاشوں کا سودہ نہیں کر رہے؟۔یہ خبر سن کر میری حالت غیر ہوگئی تھی کہ افغان فضائیہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے ضلع دشت آرچی میں دینی مدرسے کو نشانہ بنایا۔ فضائی حملہ اس وقت کیا گیا جب مدرسے میں حفظ اور ناظرہ مکمل کرنے والے طلبہ کے اعزاز میں دستار بندی کی تقریب جاری تھی ۔ اس وقت مدرسہ میں 500سے زائد طلبہ موجود تھے۔مسجد پر بمباری سے 150سے زائد شہادتیں ہوئیں جن میں علما،طلبہ اور دیگر شہری شامل تھے۔
سفید لباس حافظ بچوں کا کفن بن گیا۔وہ تو خوشی خوشی اپنی اسناد لینے مدرسے اپنے باپ بھائی اور اساتذہ کے ساتھ اکٹھے ہوئے تھے جنہیں بھیڑ بکریوں کی طرح مار دیا گیا ۔ویسے تو ایک انسان کی شہادت پورے معاشرے کی موت کے برابر ہے،لیکن قرآن پاک جیسی مقدس آسمانی کتاب کو سینے میں محفوظ کرنے والا ایک حافظ انمول ہوتا ہے جس کی معاشرے میں قدر و منزلت کا اندازہ اللہ تعالی اور اس کا رسول ﷺ ہی لگا سکتے ہیں۔درجنوں حفاظ کی شہادت کے دن کسی ایک چینل کے ٹاک شو میں اس عظیم سانحہ کو زیر بحث نہ لایا گیا۔کیونکہ انہیں تو اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے حکومت اور عدلیہ یااسٹیبلشمنٹ میں محاذ آرائی یا کمسن بچیوں کے ریپ ، عمران ، زرداری اور نواز شریف کی کرپشن کہانیوں پر لمبی لمبی ٹرانسمیشن کے لئے ’’جید‘‘تجزیہ نگاروں کی آپس میں لڑائی دیکھانی ہوتی ہے۔
حیرت ہے ان مسلمانوں پر جو زمین پر پڑے قرآن کے اوراق کو سینے سے لگا کر توہین قرآن کرنے والے کی تلاش میں اپنے محلے،اپنے شہر ،اپنے صوبے اور اپنے ملک کے ساتھ خود کو بھی شمع اسلام کے پروانوں کی طرح جلانے نکل پڑتے ہیں ، مگر افسوس عشق مذہب میں اندھوں کو افغانستان کے صوبہ قندوزپر دن دھاڑے معصوم بچوں کے دلوں میں روشن قرآن پر حملہ کر کے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے دشمن نظر نہیں آتے۔ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ہمیں امریکی صدر ٹرمپ کی مسلمانوں کے خلاف نئی متنازعہ حکمت عملی کے اعلان کی زوردار آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔حالانکہ2017میں اقوام متحدہ نے خود اپنی سالانہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے افغانستان میں فضائی حملوں میں اضافہ ہو ا ہے۔اس رپورٹ میں فضائی حملوں سے631ہلاکتوں اورسینکڑوں زخمیوں کی تصدیق کی گئی تھی ۔ اسلام دشمن قوتیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسے مدرسوں پر حملے کرتے آ رہے ہیں جہاں قرآن سینوں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔بحثیت مسلمان ہمیں سمجھداری ، ہوش عقل کے ساتھ ایسے دشمن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے میڈیا کا ساتھ دینا وقت کا تقاضہ بھی ہے ہماری مشترکہ مذہبی ذمہ داری بھی ہے ۔
بیت اللہ میں پڑے 360 بت تو محسن انسانیت محمد رسول اللہ ﷺ نے بہت پہلے توڑ دئے تھے ۔ ہمیں صرف اپنے اندر کے ایک بٹ کو توڑنا ہے کیونکہ جب تک اندر کی دنیا میں انقلاب نہیں آتا باہر کی دنیا میں کبھی تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی۔ مگرافسوس کہ پاکستان میں جو طاقتور ہوتا ہے اس کی انا کا بت ہمالیہ سے بھی اونچا ہو جاتا ہے۔ جو کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتا۔ حصول اقتدار کی خاطر ایکدوسرے کو نوچ کھانے والے ان ’’طاقتوروں ‘‘کو تحریک پاکستان کی تاریخ کے چند اوراق بھی پڑھنے چاہیے ،تاکہ انہیں احساس ہو کہ ہمارے بزرگوں نے کس طرح اپنے خون کی ایک ایک بوند کے بدلے ایک ایک تنکا اکٹھا کر کے پاکستان بنایا۔ مفاد پرست ٹولہ آج حکومت کی خاطر پاکستان کا سودہ کرنے سے بھی نہیں کتراتے ۔
کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ