بریکنگ نیوز

آقائی ذہنیت

akaas-2.jpg

تحریر :عامر شہزاد
نواز شریف کے بیانئے نے ملک میں ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس پر لب کشائی سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا تھا،بڑوں بڑوں کے پر جلتے تھے ۔نادیدہ طاقتوں سے بات فرشتوں تک پہنچی اور اب بات نواز شریف کے’’ مبینہ متنازعہ بیان‘‘کے بعد نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کا انعقاد تک پہنچ چکی ہے ۔کون غدار ہے اور کون محب وطن اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔مگر قیام پاکستان سے سول ملٹری بالادستی کی دوڑ کے بارے میں جاننے کے لئے ہمیں اس ایشو پربانی پاکستان کے فلسفے کو دیکھنا ہو گا ۔ برٹش انڈیا لائبریری لندن کے ریکارڈ کے مطابق ، برصغیر کی آزادی کے بعد برطانوی حکومت نے ان تمام سول اور فوجی ملازمین کو ریٹائر کر دیا جو ہندوستان میں فرائض انجام دیتے رہے تھے۔جب ریٹائر آفیسروں نے احتجاج کیا تو انہیں بتایا گیا کہ برطانیہ میں ’’آقائی ذہنیت‘‘ کو سروسزمیں شامل نہیں کیا جاسکتا۔قائد اعظم انگریز کی ذہنیت سے بخوبی آگاہ تھے،وہ جانتے تھے کہ ا نگریزوں نے برصغیر میں سول و فوجی افسران کی تربیت خادم نہیں بلکہ حاکم کی طرح کی ہے۔ اس لئے آپ قیام پاکستان کے بعد متعدد بار سول و ملٹری ملازمین کو باور کراتے رہے کہ آزادی کے بعد ایک نیا ملک پاکستان قائم ہو چکا ہے لہذا اب وہ عوام کے آقا نہیں بلکہ ان کے خادم ہیں۔قائد اعظم جمہوریت پسند اور سول و ملٹری سرکاری ملازمین کو پیشہ واروانہ سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے حامی تھے۔انہیں خدشہ تھا اگر پاکستان میں انگریزوں کا دیا ہوا فوجی و سول نظام رائج رہا تو پاکستان کبھی ترقی کی منازل طے نہیں کر پائے گا۔
قائد کے بعد ان کے خدشات درست ثابت ہوئے۔ پاکستان کی مختلف مراحل میں لاکھوں قربانیوں کے باوجودآقائی ذہن حکمرانوں کی بدمستیوں ، سرکشیوں اور اخلاقی بد عنوانیوں کی شرمندہ تاریخ آج تک رقم ہو رہی ہے۔ ہر دور کے آمر نے ایبڈو(EBDO)،B 58/2جیسے کالے قانون کی تلوار سے نامور سیاستدانوں کا سیاسی کیرئر ختم کیا،اور بزدل سیاستدانوں کے کندھے پر چڑ کر اپنے دور اقتدار کودوام بخشنے کی کوشش کی۔ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان ریاستی کنٹرول کے لئے پنجہ آزمائی ابتداء سے ہی جاری ہیں ۔پاکستان کے سیاسی سیٹ اپ کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ تقریبا تمام حکمران سیاسی جماعتوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ملٹری کی نرسریوں کی پیداوار ہیں اور ان کی قیادت کوہمیشہ اسی طعنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لہذا ملک میں جمہوری حکومت ہوتے ہوئے بھی در پردہ اختیارات عسکری قیادت کے پاس ہی ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب ملک میں کوئی سویلین حکومت نرسری کے پودے سے زرا قد کاٹ نکالتے ہوئے اپنے اختیارات کا تقاضا کرتی ہے مقتدر حلقے سویلین بالادستی کی ایسی کوشش کو ریاستی یکجہتی اور سلامتی پر حملہ تصور کرتے ہوئے اسے غداری کے ملبے تلے دبانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔نواز شریف کے ممبئی حملے کے بیان کا سہارا لئے کر اسے توڑ موڑ کر میڈیا پر ایساماحول پیدا کیاگیا کہ عوام الناس ہی نہیں بلکہ ان کی پارٹی کے اپنے رہنما جہاز سے پرندہ ٹکرانے کا بہانہ بنا کر پارٹی کو خیر باد کہتے نظر آئے۔
پاکستان کے آئین کو توڑنے والے فوجی آمروں میں سے آج تک کسی ایک کو بھی سزاوار نہیں ٹھہرایا گیا ،جبکہ لیاقت علی خان،ذوالفقار علی بھٹو،محمد خان جونیجو،بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف جیسے جمہوری رہنماؤں نے زندگی اور اقتدار کی قربانیاں دے کر عوامی حکومت کو قائم کرنے کی جدوجہد جاری رکھی۔سب جانتے ہیں، بے نظیر حکومت کے خلاف 1989میں عدم اعتماد کی تحریک کس نے چلائی ۔ یوسف رضا گیلانی نے اپنی تصنیف’’چاہ یوسف سے صدا‘‘میں ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں بے نظیر حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کر چکی تھیں۔’’1990میں وزیر اعظم بے نظیر نے اپنی رہائش گاہ سندھ ہاوس میں کورکمانڈروں کے اعزاز میں عشایہ دیا۔ مجھے وزیر اعظم کی طرف سے ایک چٹ موصول ہوئی کہ میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل سے اپنی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں دریافت کروں۔ میں نے جنرل حمید گل سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہاآپ کو مسلم لیگ نہیں چھوڑنی چاہیے تھی کیونکہ ہم آپ کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کا سوچ رہے تھے مگر آپ نے جلدبازی کی اور پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ کی حکومت پر بدعنوانی کے کئی الزامات ہیں آپ کے برے دن آنے والے ہیں‘‘۔چوہدری شجاعت حسین اپنی کتاب ’’سچ تو یہ ہے‘‘میں لکھتے ہیں 2008کے الیکشن فکس تھے۔گنتی شروع ہونے سے قبل جنرل مشرف نے انہیں فون کیا اور کہا کہ آپ کو 35یا40نشستیں مل جائیں تو الیکشن نتائج تسلیم کر لیجئے گا، اعتراض نہ کرنا۔ چوہدری صاحب نے کہا ابھی تو گنتی بھی نہیں ہوئی اور آپ نے فیصلہ سنا دیا‘‘ ۔
کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے ۔افسوس ستر سال سے ہماری شاہ رگ پر بھارت کا قبضہ ہے اور صد افسوس اپنا ایک بازو تڑوانے کے باوجود سول اور ملٹر ی ادارے اقتدارکے لئے دست و گریباں ہیں۔پاکستان جمہوری ملک ہے مگر یہاں سویلین بالادستی پر سوالیہ نشان ہے ۔خدارا اداروں کو بدنامی سے بچاؤ۔نواز شریف کا بیانیہ جاننے کے لئے پہلے فوجی آمر اور محب وطن فوج میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔اس کے لئے جنرل ایوب ، جنرل یحییٰ ،جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کو پاکستان کا آئین شکن ماننا ہو گا، اس کایہ ہر گز مطلب نہیں کہ کوئی خدانخواستہ فوج کی حب الوطنی پر انگلی اٹھا رہا ہے۔سسٹم کی بہتری کے لئے کسی نے تو قدم اٹھاناتھا ۔ پاکستان میں سویلین بالادستی کے لئے اگر ووٹ کو عزت دینے کی آواز نواز شریف نے بلند کی ہے تو دوسری جماعتوں کو سیاسی تنگ نظری کے بجائے ماضی کی طرح مشترکہ کوششوں کے ساتھ جس طرح 58/2b ختم کی اورمیثاق جمہوریت پر دستخط کئے ایسے ہی ایک بار پھر مل کر جمہوری اور عسکری قوتوں کو اپنے آئینی اختیارات کے تعین کے گرد محبت سے لائین کھینچ کر ماضی کی نفرتیں بھولانا ہوں گی ۔ اس موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو ہمارے دشمن ہماری پاک فوج اور ہمارے جمہوری و سویلین اداروں کو دنیا میں اسی طرح بدنام کرتے رہیں گے اور بدنامی کے داغ کے ساتھ ترقی کی ہر کوشش کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ