بریکنگ نیوز

وکٹری سپیچ سے ایک قدم آگے

akaas-2.jpg

تحریر: عامر شہزاد
شہر اقتدار سمیت پاکستان میں تحریکِ انصاف کے آئندہ اقتدار ملنے پر پہلے 100 دن کے پلان کا بڑا چرچہ ہے، جس میں نظامِ تعلیم میں بہتری، طبی سہولیات، زراعت کے شعبے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات، ٹیکس اصلاحات، جوڈیشل ریفارمز، لوٹی ہوئی دولت کی واپسی، غیر سیاسی پولیس اور ملکی سلامتی سمیت ایک کروڑ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا، ایک ارب درخت لگانا اور 50لاکھ گھروں کی تعمیر و دیگر مسائل شامل ہیں۔تحریک انصاف کے 100 دن کے ایجنڈے پر کافی کچھ کہا جا چکا ہے مثلاً،اگر ایسا ہو جائے تو پاکستان کے لئے بہتر ثابت ہو گا، کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ خلائی مخلوق کا لکھا ہو ا ایجنڈا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ2013کے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی نے 90دن میں تبدیلی کاایجنڈا دیاتھا۔ خیبر پختون خواہ میں نیب کا جو حال کیا اس کے بعد نیب کو طاقتور اور خود مختار ادارہ بنانے کا اعلان محض خواب اور انتخابی نعرہ ہی لگتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا کہ 100دن کی باتیں کرنے والے عوام کو سبز باغ دکھا رہے ہیں وہ تو تب کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ انہیں موقع دے گا۔عوام سبز باغ دکھانے والوں کا خود فیصلہ کریں گے۔اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نے عمران خان کے 100 روزہ پلان کے اعلان پر ردعمل میں کہا کہ 100 دن کا پروگرام ناقابل عمل ہے ، اگر 100 دنوں میں عمران خان نے عمل کر لیا توسیاست چھوڑدوں گا۔عمران خان کے پاس ایک صوبہ تھا، وہاں عمل کیوں نہیں کیاوہ ان چیزوں کو کے پی کے میں ثابت کرتے ، ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی،صوبے میں پانچ ہزار بھی نہیں دے سکے۔ الیکشن جیت کر 100 دن کا پروگرام دیا جاتا ہے پہلے نہیں، 100 دن کا پروگرام پری پول دھاندلی ہے یہ الیکشن جیت کربیٹھے ہیں اس لئے 100 روزہ پروگرام دے دیا، یہ جیتے تو اب کوئی الیکشن ماننے کو تیار نہیں ہو گا ۔ بقول احسن اقبال ، سیاست میں شعبدہ بازوں کی کمی نہیں، تحریک انصاف کے 100 روزہ پلان پر ہنسی آئی، نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے، عمران خان بتائیں 90 دن کے منشور پر کیا عملدرآمد کرایا۔ انہوں نے کہا مسئلہ اگلے 100دن نہیں، پچھلے ایک ہزار 825 دن کا ہے ،100دن کی بات کرنیوالوں نے کے پی کا بیڑہ غرق کردیا ۔
جس تقریب میں ایجنڈاپیش کیا گیاوہاں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے پی ٹی آئی نے الیکشن جیت لیا ہے ۔پارٹی رہنماؤں نے جس جوشیلے انداز سے تقاریرکیں اس سے اندازہ لگانا آسان تھا کہ یہاں پی ٹی آئی کی حکومت کے وفاقی وزراء کی حلف برداری ہو رہی ہے۔ان وزراء میں ارباب شہزاد وزیر اطلاعت و نشریات ، مخدوم شاہ محمود قریشی (خلاف توقع) وزیر داخلہ، ڈاکٹر شیری مزاری وزیر خارجہ، جہانگیر ترین نااہلی کے باوجود وزارت صنعت و تجارت کو دیکھیں گے،اور اسد عمر کو تو عمران خان نے پہلے ہی وزیر خزانہ بنانے کا اعلان کر چکے ہیں۔عمران خان کو اسد عمر نے تقریب میں چار مرتبہ وزیر اعظم کہہ کر مخاطب کیا۔ اس کا مطلب ہے اس تقریب میں وفاقی وزراء اور وزیر اعظم اپنی حکومت کے پہلے 100دن کے ایجنڈے کا اعلان آنے والے انتخابات سے تقریبا2ماہ پہلے ہی کر رہے تھے۔اس موقع پر مجھے 2013کے انتخابات کی وہ شب یاد آ گئی کہ جس میں میاں نواز شریف نے الیکشن کا پورا دن گزارنے کے بعد رات کواپنے حق میں پارٹی کی جیت کی خبریں تجزئے اور تبصرے میڈیا پر سننے کے بعد ’’وکٹری سپیچ‘‘ کی تھی ۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ ابھی انتخابی نتائج آ رہے ہیں لیکن اب تقریبا تصدیق ہو چکی ہے کہ مسلم لیگ نون اس انتخاب میں سب سے بڑی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے ۔دعا کریں کہ حتمی نتائج میں نون لیگ کی مطلق اکثریت ہو، تاکہ مسلم لیگ بیساکھیوں کے بغیر حکومت بنا سکے کیونکہ مانگے ہوئے ووٹ ایک مضبوط حکومت نہیں بنا سکتے ہیں‘‘۔
نواز شریف کی اس وکٹری سپیچ کے بعد عمران خان سمیت تمام دوسری پارٹیوں نے الزامات کی بوچھاڑ کر دی تھی ۔ایک الزام یہ تھا کہ میاں صاحب تو اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے ہیں جن کے کہنے پرالیکشن رزلٹ سے پہلے ہی میاں صاحب نے وکٹری اسپیچ کر ڈالی ۔ اب عمران خان بتائیں انہوں نے کس کے کہنے پر اپنی وفاقی کابینہ اور اپنی حکومت کے پہلے 100دن کا ترجیہی ایجنڈا دے دیا ہے۔ خان صاحب آپ تو میاں صاحب سے بھی ایک قدم آگے نکلے، وکٹری سپیچ بھی نہیں کی اور حکومت بنا کر پہلے 100 دن کے ایجنڈے کا اعلان بھی کر ڈالا،واہ،اس کا آپ کے پاس ہے کوئی جواب؟۔
عمران خان نے نون لیگ حکومت کے خلاف 127دن دھرنا دیا اور اپنی حکومت کے ملنے کے ’’اشارے‘‘ پر جلدی جلدی 100دن کا پلان دے ڈالا ،واہ خان صاحب واہ، کاش دھرنا دیتے وقت آپ نے سوچا ہوتا کہ ایک دن آپ کو بھی ’’حکومت دی جانی ہے‘‘۔اس دن کے لئے دوسری پارٹیوں سے بہتر تعلقات بنا کر رکھے ہوتے،پھر کہیں آپ اپنی ’’ملنے والی‘‘ حکومت کے 100دن گزارے کے خواب دیکھتے تو اچھا بھی لگتا۔وہ کہتے ہیں ناں، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔اگر مسلم لیگ نون نے آپ کو حکومت ’’ملنے‘‘ پر 127دن کا دھرنا دے دیا تو پھر آپ اپنے 100دن کے تصوراتی ایجنڈے کو کیسے انجام تک پہچائیں گے؟ آپ کے پاس ہے اس کا ہے کوئی جواب؟۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ