بریکنگ نیوز

مبینہ متنازعہ کتاب

akaas-2.jpg

تحریر:عامر شہزاد
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر)اسد درانی اور’را‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دْلت کی انڈین مصنف ادتیا سنہا کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب ’’سپائی کرانی کلز:را، آئی ایس آئی اینڈ الوژن آف پیس‘‘ نے سرحد کے دونوں جانب بحث مباحثے کے نئے در کھول دیے ہیں۔ جنرل (ر)اسد درانی مطابق کتاب جلد پاکستان میں دستیاب ہو گی ۔ کتاب میں آزاد کشمیر میں بھارت کی نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک، کارگل،کل بھوشن یادیو کی گرفتاری، نواز شریف، حافظ محمد سعید، مظفر وانی ،اسامہ بن لادن اور دیگر موضوعات پر بات کی گئی ہے۔یہ غالباً اپنی نوعیت پہلی کتاب ہے جو دو متحارب خفیہ ایجنسیوں کیسابق سربراہوں نے مشترکہ طور پر لکھی ہے۔
فوج میں خفیہ اداروں کا مقام ریڑھ کی ہڈی کے مساوی ہوتا ہے ۔ایک دوسرے کے ازلی دشمن ممالک کے خفیہ کے سربراہان اگر باہمی مشاورت کے ساتھ امن کا ماحول پیدا کرنے کے لئے اپنے تلخ تجربات کو کتاب کی صورت دئیں گے تو سب کے لئے باعث حیرت ہو گا۔دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات میں کشیدگی شروع دن سے ہے۔اس کشیدگی کی تپش زندگی کے ہر پہلو میں شدت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ پاکستان اور بھارتی کھلاڑیوں کے درمیان کرکٹ ، ہاکی ، کبڈی غرض کھیل کا کوئی بھی مقابلہ ہو ، دونوں طرف کی عوام کا جذبہ اتنے عروج پر ہوتا ہے کہ وہ میچ کم اور میدان جنگ زیادہ محسوس ہوتا ہے ۔ ہمارے فنکار بھارتی فلمی صنعت کی مجبوری ہیں ۔ نصرت فتح علی مرحوم کے بعد راحت فتح علی ،اداکارہ مائرہ خان ، گلوکار عاطف اسلم سمیت بہت سے نامورپاکستانی فنکار ہیں جو بھارتی فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں ۔ ملکی سطح پر اپنے دشمن ملک سے اس لیول پر حساس اداروں کے بڑوں کا اس طرح ’’مبینہ متنازعہ کتاب‘‘ لکھنا صحیح ہے یا غلط اس کا فیصلہ عوام اور وقت کو کرنے دیا جائے تو بہتر ہے ۔مگر، اتنے حساس معاملے میں فنکاروں، کھلاڑیوں اور وطن کے رکھوالوں میں فرق ہونا چاہیے ۔
کتاب کا متنازعہ ترین حصہ وہ ہے جب لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے اپنے بیٹے عثمان کے کاروباری سفر کے دوران ممبئی میں سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں پکڑے جانے پردلت کہتے ہیں ’’ را کے چیف راجیندر کھنّہ سمیت کئی لوگوں سے رابطہ کیا جس کے ایک دن بعد عثمان درانی کو واپس جرمنی جانے دیا گیا۔ جب میں نے را چیف راجیندر کھنّہ سے رابطہ کرکے ان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے درانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو ہمارا فرض تھا کیونکہ آخر کار جنرل درانی بھی ہمارے ساتھی ہی ہیں‘‘۔ پیشہ وارانہ اعتبار سے اسے اعلیٰ درجے کی اخلاقیات ہی کہا جاسکتا ہے،لیکن اس کے باوجود خفیہ اداروں کے دونوں سابق سربراہان کو آڑے ہاتھوں لیا جائے گا۔سابق سینیٹ چےئرمین رضا ربانی نے کتاب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ کتاب کسی عام شہری یا پاکستانی سیاستدان نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر لکھی ہوتی تو آسمان سر پر اْٹھا لیا جاتا۔اْنھوں نے کہا کہ کتاب لکھنے والے سیاستدان پر نہ صرف غداری کے فتوے لگ رہے ہوتے بلکہ اس کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کا نہ رکنے والا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا۔
تنقید کے باوجودامید ہے اس کتاب کے ذریعے پاکستان کی عوام کواپنی سول و عسکری رہنماؤں کی ر وشن سوچ کو سمجھنے کا نادر موقع ملے گا ۔کتاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے کشیدہ تعلقات کی بحالی کیلئے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے کہا ہے کہ د ونوں ملکوں کے درمیان جمود توڑنے کے لیے امن کی راہ پر چلنا چاہیے، وقت بہت بدل چکا ہے۔ ہمیں بھی بڑا سوچنا چاہیے۔ ریڈ کارپٹ بچھائیے۔ جنرل باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دیجیے۔ پھر دیکھے کیا ہوتا ہے۔
آئی ایس آئی اور را کی مشترکہ کتاب ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں تین بار وزیراعظم منتخب ہونے والے میاں نواز شریف کو غدار ی جیسے الزام کا سامنا ہے ۔نواز شریف مودی کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھائے تو نعرہ لگتا ہے مودی کا جو یار ہے غدار ہے۔ جنر ل مشرف اچانک واجپائی سے ہاتھ ملائیں ،جنرل دورانی اپنے ہم منصب بھارتی کے ساتھ مل کر کتاب لکھ دیں تو نوازشریف کی طرف انگلیاں اٹھانے والے اور گلا پھاڑ پھاڑ کر آرٹیکل 6کے تحت ان پر مقدمہ چلانے کاپر زور مطالبہ کرنے والوں کی انگلیوں سمیت گردنوں میں بھی سانس نہیں رہتا ۔ان منافقین کا تو دل چا رہا ہوگا کہ بھاگ کر جائیں اور جنرل اسد درانی کے گلے میں ہار پہنا کر تالیاں بجائیں اور انہیں کہیں کہ قدم بڑھاؤ درانی صاحب ہم آپ کے ساتھ ہیں،مگر وہ یہ سب اس لئے نہیں کرتے کیونکہ اگروہ جنرل (ر) اسد درانی کے اقدام کو سراہیں گے تو ان کے نواز شریف کے خلاف غدار، غدار کے نعروں میں جان نہیں رہے گی۔اللہ تعالی نے ان منافقین کوالیکشن سے پہلے ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے کہ اگر وہ اس ’’مبینہ متنازعہ کتاب‘‘کی مخالفت کرتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کی دشمنی مول لیتے ہیں اور اگر اس کی حمایت میں قصیدے پڑھتے ہیں تو وہ تما م قصیدہ گوئی میاں نواز شریف کے حق میں جاتی ہے ۔
عام انتخابات قریب ہیں۔نواز شریف اپنی مصالحتی پالیسی کے تحت بھارت کے ساتھ بات چیت سے باہمی مسائل کا حل چاہتے ہیں اس کے لئے انہیں مودی کے یار کا طعنہ بھی سننے کو ملتا ہے ۔ نواز شریف کی یہی سوچ اگر دونوں ممالک کے خفیہ اداروں کے سابق سربراہوں کی بھی سوچ ہے تو اس کا مطلب ہے نواز شریف کی انڈیا پالیسی بالکل درست سمت جا رہی تھی۔ اگر مسلم لیگ نون کے رہنما اور خاص کر میڈیا ہینڈلرز کو ’’مبینہ متنازعہ کتاب‘‘کی اس اہمیت کا اندازہ ہو جائے کہ یہ کتاب دراصل سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیانئے کو ہی تقویت دیتی ہے ۔ اگرنون لیگ اس پیغام کو عوام کے سامنے مثبت اور صحیح انداز سے پہنچانے میں کامیاب ہو گئی تو پھر نواز شریف جیل میں ہی کیوں نہ ہوں،2018کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ