بریکنگ نیوز

اخوت

akaas-2.jpg

تحریر:عامر شہزاد
انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم چیز عمل کا جذبہ ہے۔جب انسان کی زندگی مشکلوں ،حادثوں اور رکاوٹوں سے دو چار ہوتی ہے تو اس کے اندر چھپی ہوئی قوتوں کو عمل کے جذبے سے جگانے کا وہی درست وقت ہوتاہے۔جذبہ تعمیر سے سرشار انسان ہر قسم کے امتحان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے ۔ایسی ہی مثال لاہور جنرل ہسپتال کے عقب میں واقع رسول پارک نامی کچی بستی کی رہائشی ایک باہمت بیوہ خاتون کی ہے ، جس کے ایک کندھے پر خاوند کی لاش اوردوسرے کندھے پرجوان بیٹیوں کا بوجھ لدا ہو اتھا۔ لیکن اس بلند حوصلہ عورت نے پہاڑ سر پر گرنے کے باوجود اپنے آپ کو ٹوٹنے سے بچایا ۔اس نے ایسے نازک لمحے کو رونے دھونے ،اللہ تعالی سے شکوے شکایتیں کرنے کے بجائے اپنے گھر کا سہارا بننے فیصلہ کیا۔اس با ہمت خاتون نے خاوندکا سہارا چھن جانے کے بعد اپنے علاقے کے معززین کا دروازہ کھٹکھٹایا ،ان کے سامنے دکھی دل اور بوجھل آنکھوں سے یہ کہہ کرمالی مدد مانگی کہ وہ اپنے بچوں کو مجرم بنتا ہوا نہیں دیکھ سکتی، میرا مرحوم خاوند کہتا تھا کہ آبرو کے ساتھ زندہ رہنا ، میں عزت اور وقار کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں مجھے بھیک نہیں چاہیے کیونکہ بھیک عزت نفس کھا جاتی ہے اور مجھے سود بھی گوارہ نہیں ،سود میری دینی اور اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔ معززین علاقہ نے مجبور خاتون کا دکھ جانتے ہوئے یکم محرم الحرام مارچ 2001 کو اس خاتون کی خواہش کے مطابق رقم دے دی گئی۔ قرض خواہ یہ سوچ کر اپنے پیسے بھول گئے کہ یہ بیچاری 10ہزار سے جوان بیٹیوں کی ضروریات پوری کرے گی یا ہمارا قرض اتارے گی ، مگر اس خاتون نے ان پیسوں کی دو سلائی مشینیں لیں ،مقامی سکول میں گئی اور سکول پرنسپل کو بچوں کے یونیفارم سینے کا کام لے لیا۔ خاتون نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ مل کے 6ماہ کے اندر اتنا کام لیا کہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی بھی باعزت طریقے سے کی۔
بہادر خاتون نے دن رات محنت کر کے اپنے گھرکو جنت بنایا۔وہ ایک بار پھر اپنے علاقے کے معززین کے پاس کھڑی تھی مگر اس بار وہ کچھ لینے نہیں بلکہ انہیں قرض لوٹانے آئی تھی۔ خاتون نے اپنے دوپٹے سے بندھے ہوئے 10ہزار روپے کھولے ، ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پیسے میز پر رکھے اور انہیں زندگی کا انمو ل سبق دیتے ہوئے کہا ’’ مجھے ان دس ہزار رپوں کی حرمت پے بہت یقین ہے ، میری خواہش ہے کہ آپ یہ پیسے مجھ جیسی کسی اور مستحق کو دے دیں، شاید اس کی بھی زندگی میں خوشی اور مسرت کے چراغ روشن ہو جائیں اور اس کا گھر اجڑنے سے بچ جائے‘‘۔با عزم اور بلند ہمت خاتون کے 10 ہزار روپوں سے کئی کروڑ گنا قیمتی الفاظ جس فرشتہ صفت شخص نے آج تک اپنے پلو سے باندھ رکھے ہیں ان کا نام ڈاکٹر امجد ثاقب ہے ۔
ڈاکٹر امجد ثاقب کے لئے یہ ایک ایسا تاریخی لمحہ تھا جس میں ایک نئی دنیا تشکیل پاتی ہے ، جب افق پر روشنی کے بہت سے دےئے جگمگاتے ہیں اور ہوا کا وہ خوشگوار جھونکا تھا جس کے بعد بہار کے آنے کی نوعید ملتی ہے۔ڈاکٹر امجد ثاقب کا شمار پاکستان کے ان نادرروزگارافراد میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے چند رفقاء کے ساتھ مل کر بلا سود قرضہ دینے کے ایک فلاحی ادارے ’’اخوت ‘‘کی بنیاد رکھی۔ مثالی خاتون کے دس ہزار روپوں میں دوست احباب کے چندے سے جمع کئے 10لاکھ سے اخوت فلاحی ادارے کا باقاعدہ آغاز کیا اور اپنی قریبی کچی بستی میں غرباء کے دروازوں پر دستک دے دے کر انہیں غربت سے نکالنے کا باعزت راستہ دیکھایا۔ بستی کے15مستحق افراد نے ان پیسوں سے کسی نے پھل کی ریڑھی لگائی، کسی نے سبزی کی دوکان ،کوئی پلمبر بنااور کسی نے گھر میں اپنا باعزت کاروبار شروع کیا۔سال کے اندر اندر قرض کی دی ہوئی رقم ان لوگوں نے واپس بھی کر دی۔ کچی بستی سے اپنے مقدس کام کو لے کر چلنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت فلاحی تنظیم آج مائیکرو فنانس کا مثلی ادارہ بن چکا ہے ،جس نے معاشی طور پرکمزور17 لاکھ افراد کو 33ارب کے بلا سود قرضے جاری کر کے عالمی مالیاتی اداروں کو حیرت زدہ کردیا۔مذید حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے قرضوں کی واپسی کی شرح99.88 فیصد ہے ۔پاکستان بھر کے 250 شہروں اور قصبوں میں اخوت کی 256 شاخیں قائم کی جا چکی ہیں۔ اخوت کی خدمات کا دائرہ چاروں صوبوں کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت ، بلتستان کے علاقوں تک پھیل چکا ہے۔
اخوت کا اصل حسن یہ ہے کہ یہ ایک غیر سیاسی ادارہ ہے۔جہاں رنگ ، نسل،مذہب ، فرقے اور سیاسی پارٹی کے جھنڈوں میں تقسیم کئے بغیر مستحقین کو بلا سود قرضے فراہم کئے جاتے ہیں۔ یہ ادارہ دراصل ایک عظیم اسلامی روایت کی پیروی کا نام ہے۔جس کی بنیاد چودہ سو سال قبل ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے رکھی جس کا آغا ز اس وقت ہوا جب مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آنا پڑ ا ۔ آپ ﷺ کے تصور مواخات کے تحت ایک کمزورگھرانے کا مدینہ کے بہتر گھرانے سے بھائی چارے کا رشتہ جوڑ دیا گیا،اور غربت کی لکیروں کو ختم کر دیا گیا آج کے دور میں بھی تجدید اخوت کی اشد ضرورت ہے۔نبی پاک ﷺ کا نظریہ مواخات اس لئے نہیں تھا کہ اس پر بڑی بڑی کتابیں لکھی جائیں اور انہیں الماریوں کی زینت بنا دیا جائے،بلکہ آج بھی اس سنہرے اصول پر عمل پیراء ہو کر دنیا سے غربت اور اسلامی دنیا کو سود جیسی لعنت سے چھٹکارا دلایا جا سکتا ہے۔نبی پاکﷺ کے ہر عمل میں رہتی دنیا تک خیر و برکت کے انعامات ہیں۔یہی وہ بنیادی تصور تھا جس کے تحت اخوت نے وسعت اختیار کی ، اہل درد کو پکارا ،مخیر حضرات کے دروازوں پر دستک دی ۔انہیں مواخات کا بھولا سبق یاد دلایا ،بتایا کہ اگر معاشرے سے غربت ختم کرنی ہے تو سرمایا دارانہ نظام کے توسط سے ختم نہیں کی جا سکتی اس کے لئے مواخات کے نظام پر عمل کرناہو گا ۔ بدمست ظالم اور نااہل مسلمان حکمرانوں کی بدانتظامیوں سے دنیا بھر میں مسلمانوں کی معاشی ابتری کا علاج آج بھی حضرت محمد مصطفی ﷺ کے نظام مواخات میں موجود ہے ۔مانگنے والی اقوام کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔ پاکستان کے اقتصادی حالات کی بہتری کے لیے پاکستانیوں کو ہی اٹھنا ہوگا۔پاکستان کو وجود میں آئے70 سال گزر گئے ، مگر ہم آج بھی ترقی کی راہوں کے متلاشی ہیں ۔ خوشحالی سے دوری کا سبب سیاستدان ہی نہیں بلکہ ہم سب بھی اس میں برابر کے مجرم ہیں ۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ