بریکنگ نیوز

کتاب اور انتخابات

akaas-2.jpg

تحریر:عامر شہزاد
25جولائی 2018پاکستان میں عام انتخابات کا دن تصور کیا جا رہا ہے ۔دنیاکے کسی بھی ملک میں الیکشن کے دن کی اہمیت سے قوم کوروشناس کرنے کے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکا مثبت استعمال کیا جاتا ہے ،تاکہ ووٹر کے سامنے سیاسی پارٹیوں کے منشور اور آنے والے دنوں میں سیاستدانوں کے عزائم سے عوام معاشرے کی تعمیر وترقی کی رفتارکا اندازہ لگا کر اپنا اپنا سیاسی رہنما چن سکے۔انتخابات کے قریب قریب جیسی کتاب کا آج کل حوالہ میڈیا پر عام ہے اسی طرح کی ایک کتاب کاذکرعوام کی بہتر رہنمائی کے لئے حاظر خدمت ہے،تاکہ 2018کے عام انتخابات میں ووٹرز اس سے استفادہ حاصل کر سکیں ۔ کتاب کا نام ہے’’سٹڈی ان سائیکلوجی آف دی سیکس‘‘۔یہ کتاب 1897میں انگلینڈ کے معروف سائنس دان اور محقق ہیولاک ایلس نے لکھی۔ ہیولاک نے اپنی زندگی کی اس یادگار علمی اور تحقیقی نسخے کی ساتھ جلدیں 1897سے 1928تک شائع کیں۔اب تک اس کے بیسیوں ایڈیشن دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔نفسیات جنس کے مطالعے میں ہیولاک محب�أکو بے حد اہم سمجھتا ہے ۔محبت کے فن اور شادی کی کامیابی، ناکامی اور ہم جنسیت کے موضوع پر تحقیقات اور اس کے علاوہ ہم جنسیت میں مبتلا لوگوں کا علاج بھی بتاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی کتاب میں جنسی انحراف و تجاوز اور جنسی محبت کی علامتوں ،جنسی نمائش پسندی کے حوالہ سے سماجی رویوں پر بھی بحث کرتا ہے۔
1897میں جب ہیولاک نے جنسی نفسیات کے ایشو پر کتاب لکھنے کابیڑا اٹھایا تو اسے ہر طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا،کیونکہ اس دور میں انگلستان کا معاشرہ ابھی اتنا فراخدل اور سائنٹیفک نہیں ہوا تھاجتنا آج کل ہے۔ویسے تو آجکل پاکستان بھی اتنا بے با ک اور آزاد خیال نہیں ہوا جہاں عمران خان کی سابقہ بیوی ریحام خان کی کتاب شائع ہوسکے ۔ پچھلے ایک ہفتے سے ریحام خان کی کتاب جو ابھی شائع نہیں ہوئی اس کے کچھ حصے میڈیاکے ذریعے عمران خان اور ریحام خان کے انتہائی نجی اور ازدواجی ’’معاملات ‘‘کے علاوہ دوسرے سنگین ترین الزامات عوام کے سامنے پیش کئے جارہے ہیں اور بقول پی ٹی آئی الیکشن سے پہلے اس کتاب کا آنا پری پول رگنگ میں آتا ہے۔سیاست اتنی ’’ڈرٹی‘‘ ہو گی کبھی سوچا نہ تھا۔
1897کے انگلستانیوں کی طرح پاکستانی عوام ریحام خان اور عمران خان کے ازدواجی جنسی تعلقات میں کمی بیشی پر مبنی تحقیقی و علمی کتاب کو متنازعہ بنا رہی ہے، حالانکہ یہ کتاب آنے والے انتخابات میں عوامی رائے کو درست سمت پر لانے کے لئے لکھی گئی ہے۔ ہیولاک کی شہرہ آفاق کتاب ’’سٹڈی ان سائیکلوجی آف دی سیکس‘‘ کی طرح ریحام خان نے (بقول میڈیا) بھی اپنی کتاب میں عمران خان پراس طرح الزامات کی بارش کی ہے جیسے وہ چیئرمین پی ٹی آئی رہنما نہیں بلکہ کوئی ٹین ایجر دیوانے ہیں۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں میڈیا پررمضان ٹرانسمیشن کے نام پر کسی قسم کی ہلڑ بازی سے پرہیز کا حکمؤاسلام آباد ہائی کورٹ سے صادر ہوا تھا۔ کیا ایسے نورانی دنوں میں میڈیا پر عمران خان کے خلاف ریحام خان کی نجی جنسی معاملات سے بھری کتاب کا تذکرہ جائز ہے ۔ عمران خان کو اپنا ہیرو کہنے والے حمزہ علی عباسی جیسے شوخ اور چنچل اداکار کو اس متنازعہ ترین ایشو پر بحث کے لئے ہر ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا پر ’’بیٹھا‘‘دیا گیا ہے ۔ جو ریحام خان کی کتاب میں سے نعیم الحق کے کارناموں، خاتون ٹی وی اینکرز کی کردار کشی،مراد سعید ،عون چوہدری کے بارے میں متنازعہ بیانات دہراکر در پر دہ کتاب کی تشہر کر تے نظر آتے ہیں۔کیا افطار و سحر اور رمضان کے مقدس لمحات میں کسی پر بھی اس طرح کے گھٹیاالزامات لگانا جائزہیں ؟۔اگر ریحام خان کی جنسی الزامات سے بھرپور کتاب پر کھلے عام بحث کی اجازت ہے تو خدارا میڈیا پر گیم شوز کی بھی اجازت دے دیں کم از کم ان گیم شوز میں کسی کی عزت اور کسی کی ازدواجی زندگی کے نجی لمحات تو زیر بحث نہیں لائے جاتے۔
ایک طرف اعلان کیا جا رہا ہے کہ 2018 تبدیلی کا سال ہے ۔موجودہ سیاسی حالات میں ’’سنجیدگی‘‘ دیکھ کر لگتا ہے اس سال کارکردگی کی بجائے کتابوں کے ذریعے تبدیلی لانے کا ارادہ ہے ۔ الیکشن کے قریب کتابوں کے شائع ہونے کے بعد میڈیا میں بیٹھے نوسٹرڈامس کی طرح پیش گوئیاں کرنے والے تجزیہ نگار عوامی رائے بنانے کا ٹھیکہ لے لیتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی ہمارے سیاستدان اپنے دامن میں غلیظ ترین الزامات کے سیاہ دھبوں کے ساتھ کیسے عوام میں جائیں گے۔ میاں نواز شریف بڑے جلال سے فرمایا کرتے تھے ’’یہ مجھ سے استعفی مانگتے ہیں ،یہ منہ اور مسور کی دال‘‘۔ آصف زرداری فوج کو للکارا کرتے تھے آج سب جانتے ہیں وہ کس کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔عمران خان دھرنے اور جلسوں کی کامیابی کے غرور میں جو سامنے آتا اس کی عزت تار تار کر دیتے تھے۔ آج ریحام خان کی کتاب خان صاحب کی عزت کا جنازہ نکالنے کے لئے کافی ہے۔مسلم لیگ ن پر کتاب چھپوانے کا الزام لگانے کے بجائے عمران خان ،نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت تمام سیاسی لیڈروں کو چاہیے کہ رمضان کے مہینے کو غنیمت جانیں اور اللہ سے معافی مانگ کر عوام کی خدمت کا عزم لے کر 2018کے انتخابات میں آئیں۔ مگر یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ یہاں ہر ایک کو دوسرے کی عزت سے کھیلنا اچھا لگتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ